کراچی: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے زیر تکمیل پنجاب کلائمٹ چینج ایکٹ 2026 کے لیے حکومت پنجاب کو اپنی سفارشات ارسال کردی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کیے گئے دستاویز میں کلائمٹ گورننس میں سالمیت، شفافیت، اور عوامی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔
ٹی آئی پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ قانون سازی کلائمٹ منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدر آمد کے لیے مضبوط ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرے گی۔ حکومت پنجاب کو اس قانون سازی میں شفافیت، احتساب، ماحولیاتی انصاف، اور عوامی شمولیت کو ترجیح دینی چاہیئے، جبکہ حکومتی ڈھانچے میں ماہرین، سول سوسائٹی اور اکیڈیمیا کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ٹی آئی پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز میں کہا گیا ہے کہ کلائمٹ سے متعلق معلومات اور ڈیٹا کی باقاعدہ فراہمی اور ویریفکیشن کی جائے جس میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج، کلائمٹ فنانس، کاربن مارکیٹس کی سرگرمیاں، ماحولیاتی قوانین کی پابندی، اور پروجیکٹ پرفارمنس کی معلومات شامل ہوں۔ تجاویز میں کمیونٹیز کی شمولیت، شکایات کے ازالہ جاتی نظام، پروکیورمنٹ معلومات کی فراہمی، اور بڑے منصوبوں کے لیے انٹیگرٹی پیکٹس کے نفاذ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ٹی آئی پاکستان کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ صوبائی اسمبلی کو سالانہ کلائمٹ چینج گورننس رپورٹ بھی دی جائے۔ علاوہ ازیں کاربن مارکیٹ پروجیکٹس میں معلومات کی فراہمی، مالکانہ حقوق، ویریفکیشن کے معاہدے، ریونیو کی تقسیم اور گرین واشنگ سے حفاظت کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی کا کہنا ہے کہ ٹی آئی پاکستان اس بات کی ترویج کرتا رہا ہے کہ کلائمٹ گورننس شمولیت اور سالمیت پر مبنی ہو۔ پنجاب کلائمٹ چینج ایکٹ 2026 ایک موقع ہے جس کے ذریعے سالمیت کو ادارہ جاتی شکل دی جاسکے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ کلائمٹ چینج سے متاثرہ کمیونٹیز تک مؤثر کلائمٹ ایکشن انجام پاسکے۔
