پنجاب میں جنگلات کی حفاظت کے لئے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سخت قوانین متعارف

عالمی یوم جنگلات ہر سال 21 مارچ کو منایا جاتا ہے اور رواں سال یہ دن “جنگلات اور معیشت” کے عنوان سے منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر یہ جاننا اہم ہے کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے میں جنگلات کے تحفظ کے لئے کیا نئے اقدامات کئے ہیں۔
جی آئی ایس بیسڈ میپنگ اور ڈیجیٹل فاریسٹ انوینٹری
محکمہ جنگلات 100 سالہ پرانے ریکارڈ کی جدید ٹیکنالوجی سے ڈیجیٹل فاریسٹ انوینٹری بنارہاہے۔ جیوسپیشئل ڈیٹا، جی پی ایس ، یو اے وی ڈرون اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے ہائی ریزولوشن امیجز سے ملٹی اسکیل فاریسٹ میپنگ کی جارہی ہے جس کے ذریعے جنگلات کی حدود کا تعین کیاجارہا ہے۔ اب تک جنگلات کے 621000 ایکڑ رقبے کی ہائی ریزولوشن (8 سینٹی میٹر) پر ڈیجیٹل میپنگ مکمل کی جاچکی ہے ۔
جدیدجی آئی ایس بیسڈ ڈرون ٹیکنالوجی
محکمہ جنگلات پنجاب جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کی نگرانی کررہا ہے۔ محکمے کے پاس اس وقت 200سے زائد جدید ڈرون موجود ہیں ہائپر اسپیکٹرل ڈرونز جنگلات میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے، ملٹی اسپیکٹرل ڈرونز متاثرہ درختوں کی نشاندہی میں معاون اور تھرمل ڈرونز وائلڈ فائر کی نگرانی کیلئے استعمال ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے بھر کے جنگلات میں سیڈ بال ڈرون سے بڑے پیمانے پر شجرکاری کا جلد آغاز ہوگا۔
جدید جی آئی ایس بیسڈ ڈیش بورڈز
محکمہ جنگلات نے فاریسٹ منیجمنٹ کیلئے جی آئی ایس بیسڈ ٹیکنالوجی پر مبنی سات ڈیش بورڈز ڈویلپ کیے ہیں جو صوبے بھر کے جنگلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا ڈیجیٹل ریکارڈ ایک پلیٹ فام پر اکٹھا کر رہے ہیں۔
لائیڈار ٹیکنالوجی کے ذریعے بایئوماس ایسٹیمیشن
محکمہ جنگلات پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جنگلات اور ماحول کی حفاظت کیلئے لائیڈار ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس سے پودوں میں کاربن اسٹاک کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے درختوں کے تنے کی کانٹ چھانٹ کے بعد کاربن ایسٹیمیشن کی جاتی تھی جو کہ محنت طلب تھا اور بڑے پیمانے پر لاگو نہیں کیا جاسکتا تھا۔ تاہم اب لائیڈار ٹیکنالوجی کےذریعے درختوں کا تنا کاٹے بغیر ان کی ہائی ڈیفینیشن تھری ڈی بائیو ماس ایسٹیمیشن کی جا رہی ہے۔ محکمہ جنگلات پنجاب اب تک جنگلات کے 16000 ایکڑ سے زائد رقبے پر لائیڈار سروے مکمل کر چکا ہے۔
جی آئی ایس موبائل لیب
پاکستان کی پہلی جی آئی ایس موبائل لیب جنگلات کی ڈیجیٹل میپنگ، تھرمل سرویلئنس، بایئوماس ایسٹیمیشن، تھری ڈی ٹری ویژؤلائزیشن اور ہائی پریسائزڈ میپنگ پر کام کر رہی ہے۔ یہ ہائی ٹیک موبائل یونٹ ڈرونز اور پاور جنریٹرپر مشتمل ہے جس کی بدولت جنگلات کے تحفظ کے بروقت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
محکمہ جنگلات پنجاب میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
شجرکاری میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی پلانٹ ڈاکٹر ایپ متعارف کروائی ہے اس ایپ سے پودوں کی اقسام ، ان میں بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے متعلق معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
درختوں کی ڈیجیٹل انومیریشن
محکمہ جنگلات پنجاب مشین لرننگ اور ڈیپ لرننگ کو بروئے کار لاتے ہوئے درختوں کی ریموٹلی گنتی کررہا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی سے حاصل کردہ امیجز کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس بیسڈ اینالسز کیا جارہا ہے اور ان نتائج کی ایکوریسی 80فیصد سے زائد ہے۔
جنگلات کی سیٹلائٹ نگرانی
فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ جنگلات کی نگرانی کیلئے ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ امیجز استعمال کررہاہے ۔ سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے ذریعے جنگلات میں درختوں کی کٹائی، تجاوزات اور دیگر خطرات کی فوری شناخت کی جاسکتی ہے۔
سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے فاریسٹ چینج ڈیٹیکشن یعنی جنگلات کے رقبے میں وقت کے ساتھ ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی کی جارہی ہے۔ فاریسٹ چینج ڈٹیکشن سے گزشتہ برسوں میں فاریسٹ کور میں ہونے والی تبدیلیوں اور غیر قانونی کٹائی کے اثرات کی شرح کا تعین ملٹی اسکیل پر کرکے ان کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
فاریسٹ سینٹرلائزڈ کنٹرول روم
محکمہ جنگلات کا مرکزی کوآرڈینیشن کنٹرول روم صوبے بھر کے جنگلات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کررہا ہے اور وائلڈ فائر الرٹس جاری کرنے کے ساتھ ساتھ لکڑی چوری اور تجاوزات کی صورت میں فاریسٹ فورس، فیلڈ سٹاف اور ریسکیو ٹیموں کی فوری کوآرڈینیشن ممکن بناتا ہے۔
محکمہ جنگلات نے اپنے جنگلات کی حفاظت اور عوامی شکایات کیلئے 24گھنٹے فعال ایمرجنسی ہیلپ لائن 1084متعارف کروائی ہے جس پر کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں اطلاع دی جاسکتی ہے۔
پنجاب بھر میں فاریسٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری رسپانس دینا ہے۔ اس منصوبے کے تحت محکمہ جنگلات میں فائر فائٹنگ ڈرونز، مصنوعی ذہانت پر مبنی فاریسٹ فائر ڈیٹیکشن سسٹم، سینسرزاور ارلی وارننگ سسٹمز متعارف کروائے جارہے ہیں ۔اس منصوبے کے تحت جنگلات میں چیک پوسٹس بھی بنائی جائیں گی۔
لانگ رینج کیمروں اور جدید تھرمل سرویلینس سسٹم سے نگرانی
جنگلات کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ کیلئے محکمہ جنگلات پنجاب نے تاریخی اقدام اٹھایا ہے جس میں صوبے بھر کے جنگلات میں 46لانگ رینج کیمرے اورجدید تھرمل سرویلینس سسٹم نصب کیا جارہا ہے۔
پنجاب فاریسٹ ایکٹ 1927 ترامیم
محکمہ جنگلات پنجاب نے 1927 کے فاریسٹ ایکٹ میں ترامیم متعارف کرائی ہیں اور فاریسٹ ترمیمی ایکٹ 2025 نافذ العمل ہوچکا ہےجس کے تحت فاریسٹ پروٹیکشن سینٹرز اور فاریسٹ پروٹیکشن فورس قائم کئے گئے ہیں۔
اب محکمہ جنگلات کے ڈی ایف او ایف آئی آر درج کرسکتے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق جنگلات کو نقصان پہنچانے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ سزا 7 سال قید اور جرمانے 50 لاکھ روپے تک ہوں گے اورجنگلات میں ہونے والے جرائم اب منظم جرائم سمجھے جائیں گے جن کی سزا 10 سال قید ہوسکتی ہے۔
شیلڈنگ سمٹس ڈیزاسٹر پریپئرڈنس
یہ منصوبہ کہوٹہ اور مری کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے نمٹنے کیلئے شروع کیا گیا جہاں پنجاب کے وسیع جنگلات آباد ہیں۔ مقامی آبادی کو آگ سے نمٹنے کی تربیت، انسپکشن روڈز کی بحالی ، فائر وہیکلز، ڈرونز کی خریداری اور کنٹرول رومز کے ذریعے جنگلات کی چوبیس گھنٹے نگرانی منصوبے میں شامل ہیں۔ شیلڈنگ سمٹس کے نتیجے میں وائلڈ فائر کے واقعات میں 62 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ماحول کی بہتری کیلئے پنجاب میں 50869 ایکڑ رقبے پر 42.499 ملین درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ایگروفاریسٹری آن فاریسٹ ویٹ لینڈز
منصوبے کے تحت 3,790 ایکڑ رقبے پر 1.375 ملین درخت لگائے جائیں گے تاکہ غیر استعمال شدہ زمین کو قابل استعمال بنایا جا سکے۔ محکمہ جنگلات پنجاب نے کی صوبے کی تاریخ کی سب بڑی موسم بہار شجرکاری مہم 2026 کا آغاز کیا ہے جس میں صوبے بھر میں 100سے زائد مقامات پر 14 ملین پودے لگانے کا ہدف مقرر ہے جبکہ پودوں کی نگرانی اور دیکھ بھال کیلئے ہر پودا جیو ٹیگ بھی کیا جا رہا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں