شوگر ملوں کی مانیٹرنگ سے 2 ماہ میں سیلز ٹیکس کی وصولی میں 103 ارب روپے کا اضافہ

فیصل آباد: شوگر ملوں کی مانیٹرنگ سے دو ماہ کی مدت میں سیلز ٹیکس کی وصولی میں 103 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ٹیکسٹائل، سٹیل، بیوریج اور سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں بھی بہت بہتری آئی ہے جبکہ ایف بی آر میں اصلاحات اور تبدیلیوں کے بعد ٹیکس چوری اور نان فائلرز کا تصور مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ یہ باتیں سیکرٹری ٹیکس ایجوکیشن محمد مطیع الرحمن ممتاز نے کہی ہیں۔ وہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لئے منعقدہ آگاہی سیمینار میں گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل محکمے سے شروع کیا گیا جس کے تحت ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملازمین کے صوابدیدی اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 17 لاکھ نئے فائلر کا اضافہ ہوا ہے جبکہ نان فائلر کے خلاف براہ راست کارروائی کی بجائے ان کیلئے غیر ملکی سفر اور جائیداد کی خریداری کو اتنا مہنگا اور مشکل بنا دیا گیا ہے کہ وہ خود فائلر بننے کو ترجیح دیں گے۔ ایف بی آر کے سیکنڈ سیکرٹری فسلیٹیشن عبدالرحمن شیخ نے کہا کہ ٹیکس چوری کرنے والوں کی نشاندہی کرنے والوں کو انعام دینے کی سکیم بھی شروع کی گئی ہے جس سے ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں کے ذریعے 33 لاکھ پوٹینشل ٹیکس دہندگان کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں سے ایک لاکھ کو فوری طور پر ادائیگی کے نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ چیمبر آف کامرس کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ فیصل آباد کی معیشت سے منسلک تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ دستاویز تیار کر کے وفاقی وزیر خزانہ کو بھی دی گئی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں