ایک ایسی پارٹی جس کو ایک وقت میں صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی اب ایک ہندسے تک محدود ہو چکی ہے۔ پی پی پی کا پنجاب میں صفایا ایک سازش کے تحت ہوا ہے یا یہ پنجاب کی آبادی میں اضافے، سماجی اور معاشی محرکات اور پنجاب میں ہوئی اربنائزیشن اس کا سبب بنے ہیں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ حقیقت بس اتنی ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں الیکشن میں کامیابی والا ووٹ بنک نہیں رکھتی ہے۔ بلاول بھٹو کی لاہور میں عطا تارڑ سے جس کا لاہور سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے شکست اس کا کھلا ثبوت اور اظہار ہے۔ مستقبل قریب میں اگر کوئی معجزہ نہ ہوا تو پنجاب میں پیپلز پارٹی کے سیاسی اور انتخابی طور پر پنپنے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن اپنے قیام ہی سے پنجاب کی پارٹی ہے۔ سندھ میں اس کا کبھی کوئی نام لیوا نہیں رہا ہے۔ سندھ میں جو بھی اس کے ساتھ شامل ہوا وہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ہوا ہے۔ سندھ میں تو اس کی کوئی تنظیم بھی نہیں ہے حتی کہ کاغذی تنظیم کا بھی کوئی ذکر سننے میں نہیں آتا ہے۔ سندھ میں مسلم لیگ ن کے پنپنے کے امکانات بالکل نہیں ہیں، دو چار وکیل بھلے اس کے نام لیوا ہوں لیکن عوامی سطح پر اس کا کوئی اثرو نفوذ نہیں ہے۔ مسلم لیگ خواہ جو مرضی کر لے سندھ میں اس کی تنظیم قائم نہیں ہو سکتی ہے البتہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے الیکٹیبلز کی شکل میں تحفے اور انعامات ضرور مل سکتے ہیں جو کہ ظاہر ہے دیرپا نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس پنجاب میں پییپلز پارٹی کی خواہ کمزور ہی سہی تنظیم ضرور موجود ہے وہ تنظیم کتنی مضبوط اور موثر ہے یہ الگ سے ایک سوال ہے۔
عوامی نشینل پارٹی جس کی قیادت پر ایک ہی خاندان گذشتہ چار نسلوں سے قابض ہے وہ کے پی میں چند اضلاع کی پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ کئی سال تک اس پارٹی کے جنرل سیکرٹری ایک پنجابی احسان وائیں تھے لیکن لاہور اور پنجاب میں پارٹی کی کوئی تنظیم نہیں تھی اور نہ ہی اب ہے۔ وائیں صاحب بس نام کے جنرل سیکرٹری تھے۔
اسی طرح ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد تک محدود تھی لیکن اب ان دو شہروں میں بھی انتخابی قوت کے اعتبار سے سکڑ گئی ہے۔ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی مرضی، خواہش اور تعاون کے بغیر الیکشن میں نہ حصہ لے سکتی ہے اور نہ ہی جیت سکتی ہے۔ ایم کیو ایم نے لاہور ٹاون شپ میں اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیا تھا اور ایک عورت طاہرہ آصف کو مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی بھی بنایا تھا جو مبینہ طور پر انسانی سمگلنگ کے ایک جھگڑے میں قتل ہو گئی تھی۔ ایم کیو ایم کراچی سے باہر کسی دوسرے صوبے یا سندھ کے کسی دوسرے شہر میں قائم نہیں ہو سکتی ہے۔
بلوچستان میں کسی سیاسی پارٹی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ بلوچستان کا وزیر اعلی کون ہوگا اور کس سیاسی پارٹی سے اس کا تعلق ہو گا یہ فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ اسی لئے بلوچستان کا وزیراعلی اس وقت تک اپنے عہدے پر قائم رہتا ہے جب تک کہ اسے کوئٹہ کنٹونمنٹ کی خوشنودی اور سپورٹ حاصل رہتی ہے۔ جب کوئی وزیراعلی کس وجہ سے کوئٹہ کنٹونمنٹ کی خوشنودی اور حمایت کھو دیتا ہے اس کی تبدیلی کو کوئی سیاسی جماعت نہیں روک سکتی اور اسے گھر جانا پڑتا ہے۔
تحریک انصاف جو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے سیاست میں سرگرم ہوئی تھی اسے کے پی میں اپنا اقتدار بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ پارٹی شہری علاقوں کے نچلے درمیانے اور درمیانے طبقات میں مقبولیت رکھتی ہے یہ طبقات کسی منظم تحریک اور سیاسی جماعت کی بجائے عمران خان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہیں۔ انھیں تحریک انصاف کی بجائے عمران خان سے محت اور پیار ہے۔ تحریک انصاف سندھ بوچستان میں نہ ہونے کے برابر ہے البتہ پنجاب میں اس نے ن لیگ کو بڑا چیلنج دیا ہوا ہے، یہ عمران خان کا چیلنج ہی ہے جس کی بنا پر ن لیگ اب تک مقامی حکومتوں کے الیکشن کروانے سے گریزاں ہے۔ پاکستان کی سیاست اب علاقائی اور صوبائی ہو چکی ہے تمام سیاسی جماعتیں مخصوص علاقوں، صوبوں اور خطوں تک محدود ہو چکی ہیں۔ ان کے ایجنڈے کل پاکستان کی بجائے علاقائی اور صوبائی بن چکے ہیں اور مستقبل قریب میں صوبائیت پر مبنی سیاسی جماعتوں کے اس پیٹرن میں کسی تبدیلی کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔
