فیصل آباد : اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد نے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈیجیٹل ڈیٹا میں مبینہ ہیرا پھیری، جعلی اندراجات اور انتظامی فراڈ کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے پر فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران اور ملازمین و نجی ٹھیکیدارسمیت 12افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے 10 کو گرفتار کر لیا ہے۔ فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سابق سی ای او محمد روف، منیجر آپریشن عبداللہ نذیر باجوہ، منیجر آئی ٹی اسد الہی، منیجر فنانس احسن ندیم، ٹرانسپورٹ آفیسر ارشد سلیم انصاری، سینٹری انسپکٹر عابد، منیجر پروکیورمنٹ وقاص اصغر، ڈسٹرکٹ منیجر آپریشنز ایف ڈبلیو ایم سی حافظ طیب، کیئر کنسورشیم کے رائے قمر الزمان، محمد شفیق، محمد قیصر خان اور محمد فاروق کے خلاف درج ایف آئی آر میں انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ 409، 166، 420، 468، 471 اور سیکشن 5(2)47 لگائی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ایف ڈبلیو ایم سی مینیجر آپریشنز اور منیجر آئی ٹی کی طرف سے جمع کرائی گئی شکایت کے بعد انکوائری میں ملزمان نے مبینہ طور پر ڈیجیٹل ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی اور اضافی ادائیگیاں حاصل کرنے کے لیے آن لائن مانیٹرنگ سسٹم میں جعلی آپریشنل ڈیٹا ڈالا۔ انکوائری میں مزید انکشاف ہوا کہ کے پی آئیز میں ایف ڈبلیو ایم سی کے آئی ٹی اور آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کے بعض عہدیداروں کی ملی بھگت سے غیر قانونی نمبر دئیے گئے جس سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچا۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر صفائی کے عملے اور مشینری کی جعلی تعیناتی، جعلی حاضری کے اندراجات، گھروں سے کوڑا جمع کرنے کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری اور آپریشنل مانیٹرنگ ڈیٹا میں ردو بدل کرنے میں ملوث تھے۔ انکوائری رپورٹ میں عارضی کلیکشن پوائنٹس اور دیگر صفائی کی سرگرمیوں میں بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس کی وجہ سے سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان ہوا۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اینٹی کرپشن حکام نے شفیق اور فاروق کے علاوہ تمام نامزد ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔
