لائل پور پنجابی سلیکھ میلہ دنیا بھر میں بسنے والے کروڑوں پنجابیوں کی مادری زبان پنجابی کا وہ واحد فیسٹیول ہے جو 2016 سے ہر سال مسلسل ہوتا آ رہا ہے۔ اسے پاکستان میں پنجابی زبان کی نشاط ثانیہ کا آغاز بھی کہا جا سکتا ہے جو کہ ناصرف اس خطے، اس کی زبان و ادب، تاریخ اور کلچر کی ترویج کر رہا ہے بلکہ عصر حاضر کے پنجاب اور پنجابیوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کو بھی کھل کر موضوع گفتگو بناتا ہے۔
اس ادبی میلے کے منتظمین جہاں اپنی تاریخ اور ثقافت کے تحفظ اور ترویج کے حوالے سے حساس ہے وہیں ان میں خود کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کی اس خوبی کا اظہار اس مرتبہ فیسٹیول کی سوشل میڈیا پر کی گئی تشہیر میں کھل کر نظر آیا۔
اس سلسلے میں اے آئی کے ذریعے لائلپور سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب افضل احسن رندھاوا، شہنشاہ قوالی و موسیقار نصرت فتح علی، انقلابی بھگت سنگھ اور مزدور تحریک و بائیں بازو کی سیاست کے اہم رہنما میجر اسحاق و دیگر اہم شخصیات کے اوتار بنا کر ان کے ذریعے لوگوں کو فیسٹیول میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جس کو وسیع پیمانے پر پذیرائی میسر آئی۔
گیارہواں لائلپور پنجابی سلیکھ میلہ گزشتہ سال وفات پانے والی چار اہم پنجابی شخصیات کے نام معنون کیا گیا تھا۔ ان میں سکالر و لکھاری ڈاکٹر منظور اعجاز، افسانہ نگار پریم پرکاش اور تجمل کلیم کے علاوہ غدار پارٹی کی واحد خاتون رکن گلاب کنور شامل تھے۔ یہ سلسلہ لائلپور پنجابی لٹریری فیسٹیول کے آغاز سے جاری ہے اور ہر سال فیسٹیول کو کسی تاریخی شخصیت، کردار، واقعے یا شہر سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی میلے کا آغاز ہیر وارث شاہ سے ہوا اور تیمور افغانی کی ہیر گائیکی نے سماں باندھ دیا۔ اس موقع پر اپنے افتتاحی کلمات میں میلے کے آرگنائزر ڈاکٹر توحید چٹھہ نے دنیا میں امن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی بقا لڑنے کی بجائے مل جل کر آگے بڑھنے میں ہے۔ پروفیسر پرویز وندل نے اپنے صدارتی خطبے میں مشکل صورتحال کے باوجود لائلپور پنجابی سلیکھ میلے کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ میلہ پنجاب کی اصل روح کی عکاسی کرتا ہے۔
میلے کے پہلے سیشن میں ثیمنہ اسما کی پنجابی کہانیوں کی کتاب “پتناں دی تارو” پر ڈاکٹر عبدالعزیر ملک شریک گفتگو ہوئے۔ ثمینہ اسما نے بتایا کہ وہ جو کچھ محسوس کرتی ہیں یا اپنے وسیب میں عورت کے ساتھ جو ناانصافی دیکھتی ہیں اس کو اپنی کہانیوں کا موضوع بناتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ آپ کہانی نہیں لکھتے بلکہ کہانی خود آپ سے لکھواتی ہے۔ “غزہ میں جو ظلم ہو رہا ہے اس سے متعلق کہانی میں نے کچھ سوچ کر نہیں لکھی بلکہ اس کہانی نے اپنے آپ کو خود مجھ سے لکھوایا ہے۔” انہوں نے اپنی کتاب کی ٹائٹل کہانی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عورت اگر جھلی یا آوٹ آف مائنڈ بھی ہو تو ماں بن کر وہ سمجھدار ہو جاتی ہے۔
دوسرے سیشن میں “امن دی ویل” کے موضوع پر ڈاکٹر یعقوب بنگش، نین سکھ، ڈاکٹر امداد حسین اور اقبال قیصر شریک گفتگو ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امن کی اہمیت کو وہی سمجھ سکتا ہے جس نے خود تباہی دیکھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب منگولوں نے پنجاب پر حملے کئے تھے تو یہاں پر اتنی بربادی ہوئی تھی کہ لوگوں کے جان اور مال کی تباہی کے ساتھ ساتھ درختوں کے پتے بھی ختم ہو گئے تھے۔ ان حالات کی وجہ سے پنجاب میں فقیری کی روایت نے جنم لیا جس نے انسانیت کو امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ انہوں نے موجودہ دور میں پنجاب پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنجابی اپنی زمین سے انسانوں کے لئے رزق پیدا کرتے ہیں، بارود یا اسلحہ پیدا نہیں کرتے ہیں۔ اس لئے ہڑپہ سے کوئی ہتھیار یا اسلحہ نہیں بلکہ گندم اور زرعی اجناس ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منگولوں سے لے کر انگریزوں تک ہر دور میں پنجاب پر حملے ہوئے ہیں لیکن پنجاب نے کسی پر حملہ نہیں کیا اس کے باوجود پنجاب پر ہی الزام تراشی کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے جوگی اور صوفی ہمیشہ انر چینج کی بات کرتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر ہمارے اردگرد کی دنیا تبدیل نہیں ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں لوکل سورسز کو تحقیق میں شامل کرنے اور نصاب کا حصہ بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے امن کے لئے میکنزم بنانے پر بھی زور دیا تاکہ یہ نہ ہو کہ امن کی بات کرنے والے پر کوئی جارح آ کر بم مار دے اور اسے روکا نہ جا سکے۔ اس سلسلے میں پنجاب کے قدیم فکر اور فلسفے کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھال کر پرموٹ کرنے پر زور دیا گیا کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان قیام امن کے ساتھ ساتھ دنیا میں پاکستان کی قیام امن کی کوششوں میں کامیابی کے لئے پنجاب میں امن کا ہونا ضروری ہے۔
تیسرے سیشن میں ڈاکٹر ساجدہ حیدر وندل، پروفیسر شوانہ خلیل اور عبدالرحمن نے “فاسٹ فیشن تے واتا ورن” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ فیشن اور ڈیزائن ویسٹ کی دین ہے حالانکہ تاریخ بتاتی ہے کپاس کی کاشت کے سب سے قدیم شواہد مہر گڑھ سے ملے ہیں۔ اسی طرح پانچ ہزار سال قدیم وادی سندھ کی تہذیب کی بنیاد ہی ڈیزائن پر ہے کیونکہ اس وقت کے دستکار ہاتھ سے اشیاء بناتے تھے اور یہ ایک پائیدار سوسائٹی تھی جبکہ مغرب میں ڈرائنگ اور ڈیزائن کا نظریہ بہت بعد میں آیا ہے۔ تاہم نوآبادیاتی نظام اور مغرب کے انڈسٹریل ریولوشن نے یہاں کے آرٹ اور کرافٹ کو سسٹمیٹکلی نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے آج ہم اپنے ثقافتی ورثے پر فخر کرنے کی بجائے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے فاسٹ فیشن کے ذریعے روزگار ملنے کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صرف اس طبقے کو فائدہ پہنچتا ہے جو پاور میں ہوتا ہے لیکن اس سے کلائمٹ کو پہنچنے والے نقصان کا سامنا کسان اور عام لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کلائمٹ چینج کی وجہ سے زراعت اور دیہی آبادی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے جبکہ فاسٹ فیشن کاربن کے اخراج کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا سلو فیشن ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جس میں ایک لباس یا کپڑے کو نسل در نسل استعمال کرنے اور مختلف طریقوں سے کارآمد بنانے کا کلچر بہت قدیم اور ماحول کے مطابق ہے۔
لائلپور پنجابی سلیکھ میلے کے چوتھے سیشن کا عنوان “اجوکا پنجابی سلیکھ” تھا جس میں نین سیکھ، زبیر احمد اور نصیر احمد نصیر شریک گفتگو ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین پنجاب میں پنجابی کے گرمکھی رسم الخط میں 20ویں صدی کے دوران ہی بڑے رائٹر آنا شروع ہو گئے تھے جبکہ اس کی نسبت پاکستانی پنجاب میں شاہ مکھی میں پہلے اہم رائٹر احسن افضل رندھاوا تھے جو 1965ء کی دہائی میں سامنے آئے۔ اس لئے ہمارے ہاں پنجابی فکشن کی تاریخ اتنی زیادہ پرانی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پنجابی ادب اردو یا انگریزی ادب سے متاثر ہے یا اس کو لکھنے والے دیہی طرز زندگی کے رومانس میں اٹکے ہوئے ہیں جبکہ پنجاب کی شہری زندگی ان کہانیوں میں بہت کم موضوع بنائی جا رہی ہے۔
اس میلے کا ایک اور اہم موضوع “پنجابی زبان اور مصنوعی ذہانت” تھا جس میں سہاوی سٹوڈیو کے اکرام جھلا نے ڈاکٹر عبدالعزیز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی اور ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کے باعث آنے والا دور پنجابی کا ہے کیونکہ پنجابی کی اورل ٹریڈیشن بہت زیادہ مضبوط ہے جبکہ تحریری زبانیں پیری فری میں چلی جائیں گی اور لوگوں کے درمیان ڈسٹنس کمیونکیشن اور نالج سٹوریج تحریری شکل کی بجائے اورل یا بول کر ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اے آئی کی مدد سے پنجابی فوک لور پر مبنی فینٹسی ویب سیریز بنانے پر کام کر رہے ہیں جس کا سپر ہیرو ایک جوگی ہے اور یہ کہانی ٹلہ جوگیاں کے پس منظر میں بنائی گئی ہے تاکہ پنجابی کی نوجوان نسل کو خطے کی فوک لور سے جوڑا جا سکے۔
ایک اور سیشن میں “سکولاں دے پنجابی سلیبس دی اساری” کے موضوع پر پرویز وندل، اقبال حیدر بٹ، مزمل مجید، ظہیر بھٹی اور احتشام کاظم شریک گفتگو ہوئے۔ سیشن کے آغاز میں ڈاکٹر ظہیر بھٹی نے پنجاب میں بولے جانے والے پنجابی کے مختلف لہجوں کے لئے بنائے گئے اپنے سانجھے قاعدے سے متعلق ملٹی میڈیا پریزینٹشن دی اور کہا کہ اسے پنجاب کے مختلف علاقوں میں رہنے والے پنجابی بغیر کسی دشواری کے اپنا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو پنجابی میں تعلیم دینے سے زیادہ اسے اپنے کلچر کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پہلے پانچ سال بچے کو اس کی مادری زبان میں یہ سکھایا جائے کہ جینا کیسے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قصور میں جب کچھ سکولوں میں بچوں کو پنجابی پڑھانے کا تجربہ کیا گیا تو والدین سکول آ گئے کہ بچوں کو پنجابی کیوں پڑھائی جا رہی ہے حالانکہ بچوں کے لئے پنجابی پڑھنے کا تجربہ بہت دلچسپ رہا تھا اور وہ اس سے بہت زیادہ لطف اندوز ہوتے تھے اور اس میں دلچسپی کا اظہار کرتے تھے۔
لائل پور پنجابی سلیکھ میلے کا آخری سیشن “پنجابی بولی دی تحریک تے سیاست” کے موضوع پر تھا جس میں ظہیر وٹو، میاں آصف، احمد رضا، عامر ریاض اور توحید چٹھہ نے گفتگو میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی طور پر سکول اور میڈیا لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس لئے 1947 تک انگریز راج کے دوران تعلیم اور انفارمیشن کا شعبہ وزارت داخلہ کے انڈر تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ انگریز نے اس خطے میں تعلیم کو فروغ دیا درست نہیں ہے بلکہ پنجاب پر انگریز کے قبضے سے پہلے تک 90 فیصد سکول مقامی تھے جہاں پانچ سکرپٹس میں پنجابی پڑھائی جاتی تھی لیکن انہیں بعد میں ختم کر دیا گیا اور پنجابی کے گرمکھی رسم الخط کو مذہبی بنیادوں پر سکھوں سے منسوب کر دیا گیا جبکہ پنجابی مسلمانوں کے لئے اردو متعارف کروائی گئی تاکہ پنجاب میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم کو گہرا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2012ء سے پنجاب میں لینگوئج موومنٹ سٹرونگ ہوئی ہے اور اس میں سوشل میڈیا نے زیادہ کردار ادا کیا ہے اور اس حوالے سے اب یہ ضروری ہے کہ پنجابی کو سرکاری طور پر سکولوں میں نافذ کیا جائے کیونکہ حکومت بارہا اس کا اعلان بھی کر چکی ہے لیکن تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔
واضح رہے کہ لائلپور پنجابی سلیکھ میلے کی شروعات بھی ایک دہائی پہلے پنجابی زبان اور ثقافت کو نظر انداز کئے جانے کے ردعمل میں ہوئی تھی۔ اس میلے کے روح رواں ڈاکٹر توحید احمد چٹھہ کے مطابق لائلپور پنجابی سلیکھ میلہ 2016 سے ہر سال فروری کے وسط میں ہوتا آ رہا ہے۔ تاہم اس سال فروری کے مہینے میں رمضان کی آمد کے سبب منتظمین کی جانب سے یہ میلہ اپریل میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا۔
“اس حوالے سے تیاریاں معمول کے مطابق جاری تھیں کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد جب حکومت نے ایندھن اور توانائی بحران کے پیش نظر کفایت شعاری کے اقدامات شروع کئے تو میلے کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا تھا جس پر دوستوں کے مشورے سے میلے کے آن لائن انعقاد کا فیصلہ کیا۔”
اس سلسلے میں ٹرسٹ فار ہسٹری، آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر آف پاکستان (تھاپ) کی انتظامیہ کے خصوصی تعاون سے ان کے ہیڈ آفس میں ایک خصوصی اسٹوڈیو کی سہولت قائم کی گئی تاکہ میلے کے مختلف سیشنز میں حصہ لینے والے اسکالرز، مقررین اور دیگر اہم شخصیات کی گفتگو بغیر کسی رکاوٹ اور تعطل کے ریکارڈکی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ میلے کے آن لائن انعقاد کو بہت زیادہ پذیرائی ملی اور تقریبا 20 ہزار سے زائد شرکاء ڈیجیٹل طور پر میلے میں شریک ہوئے۔
اس طرح لائل پور پنجابی سلیکھ میلے نے روایت کو ٹیکنالوجی اور مقامی بیانیے کے ساتھ ساتھ عالمی مسائل سے جوڑ کر جس طرح اپنی ڈیجٹل رسائی اور اثر کو بڑھایا ہے اس نے دیگر ادبی میلوں کے لیے بھی ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔
