نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی شہر فیصل آباد میں جشن جون ایلیا کا چرچا شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے منتظمین کی منفرد تشہیری مہم نے یہ خبر ادب اور شاعری سے محبت رکھنے والے ہر فیصل آبادی تک پہنچا دی۔ اسی طرح جشن جون ایلیا کا دعوت نامہ بھی اپنی مثال آپ تھا جس میں ادب، شاعری، گلوکاری، شوبز، کتابوں کی رونمائی سمیت ہر سیشن کو جون ایلیا کی شاعری سے لئے گئے مصرعوں سے عنوان دیئے گئے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ شاعر نے اسی دن کے لئے یہ شاعری کی تھی۔ اس طرح جشن جون ایلیا شروع ہونے سے پہلے ہی اپنے چاہنے والوں کا نشہ دو آتشہ کر چکا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اس جشن کی افتتاحی تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی فیصل آباد آرٹس کونسل کا نصرت فتح علی خان آڈیٹوریم شرکاء سے کھچا کھچ بھر چکا تھا بلکہ آرٹس کونسل کے بیرونی احاطے میں بھی جون ایلیا کے چاہنے والوں کا جھمگٹا لگا ہوا تھا لیکن انہیں آڈیٹوریم میں داخل ہونے کی راہ دکھائی نہ دیتی تھی۔ یہاں ایک بار پھر اس جشن کے منتظمین کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے آنے والے حالات کا اندازہ کرتے ہوئے آرٹس کونسل کے احاطے میں پہلے ہی بڑی سکرینیں لگا کر جون ایلیا کے چاہنے والوں کی دلجوئی کا ساماں مہیا کر دیا تھا۔ اس موقع پر ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں مختلف فنکاروں کے تیارہ کردہ جون ایلیا کے پورٹریٹس شرکاء کی توجہ کا مرکز بنے رہے جبکہ کتابوں کے سٹالز پر بھی جون ایلیا کی شاعری اور زندگی کے حوالے سے مختلف کتابیں بڑی تعداد میں دستیاب تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تین روزہ جشن میں ایک طرف جون ایلیا کی نسبت سے ان کے آبائی وطن امروہہ کا چرچا رہا اور دوسری طرف فیصل آباد کی انڈسٹری، مزدوروں، معیشت، مینارٹیز اور صحافت کی باتیں ہوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موسیقی، رقص، قوالی، فوک گلوکاری اور تینوں روز ہونے والے مشاعرے میں ملک بھر سے معروف شعرا کی شرکت نے شرکاء کو اپنے حصار میں لئے رکھا۔ عشق آباد کے تحت ہونے والے اس ادبی میلے کو انٹرلوپ اور الائیڈ بینک نے سپانسر کیا تھا۔ انٹرلوپ اس سے پہلے فیصل آباد لٹریری فیسٹیول، لائل پور پنجابی سلیکھ میلے کے علاوہ لائلپور انٹرنیشنل ہسٹری کانفرنس کو بھی سپانسر کرتا آ رہا ہے۔ اس حوالے سے انٹرلوپ کے چیئرمین مصدق ذوالقرنین خصوصی تعریف کے مستحق ہیں کہ انہوں نے فیصل آباد میں ادبی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کے لئے ہمیشہ فراخ دلی سے کام لیا ہے۔ اس طرح ناصرف ملک بھر میں فیصل آباد کی ادبی شناخت مظبوط ہو رہی ہے بلکہ یہاں کے باسیوں کو ملک بھر کے اہم ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو براہ راست سننے اور دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
جشن جون ایلیا کا آغاز “میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب” کے عنوان سے ہونے والی افتتاحی تقریب سے ہوا جس کی صدارت افتخار عارف نے کی جبکہ مہمان خصوصی کمشنر راجہ جہانگیر انور اور مہمان اعزاز انٹرلوپ کے ہمایوں جاوید تھے۔ اس موقع پر اصغر ندیم سید اور حماد غزنوی نے اپنے قلیدی خطابات میں جون ایلیا کی شاعری پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے زمانے کا بڑا شاعر قرار دیا جس کی شاعری وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مقبول ہو رہی ہے۔ بعدازاں “خط ہی کیوں لکھے جائیں” کے عنوان سے نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے طلبہ نے عدنان بیگ کی پس پردہ آواز پر ٹیبلو پیش کیا جسے حاضرین نے خوب سراہا۔ تیسرے سیشن میں مشہور شاعر انور مسعود نے حاضرین کو اپنی مزاحیہ شاعری سے لطف اندوز کیا۔ چوتھے سیشن کا عنوان “جون کی باتیں” تھا جس میں افتخار عارف، منور سعید، حماد غزنوی اور عدنان رضوی شریک گفتگو تھے۔ انہوں نے جون سے متعلق اپنے یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ جون ایلیا ہمیشہ اپنی دنیا میں مگن رہنے والے فنکار تھے اور وہ خود کو ایک شاعر یا فلسفی سے زیادہ اردو زبان کا ماہر کہتے تھے۔
جشن جون ایلیا کے دوسرے روز کا آغاز کتابوں کی رونمائی کے سیشن سے ہوا جس میں اصغر ندیم سید، عباس تابش، حمید شاہد اور حماد نیازی نے عبید اللہ علیم کی کتاب “اک زمانہ خواب کا”، عدیل زیدی کی کتاب “ایک منظر”، ناصر عباس نیئر کی کتاب “میرا داغستان جدید” اور عدنان بشیر کی کتاب “شام ابد کے گیت” سے متعلق اظہار خیال کیا۔ اس سے اگلا سیشن اصغر ندیم سید کی بطور ناول نگار شخصیت پر تھا جس میں اصغر ندیم سید نے ڈرامہ نگاری سے ناول نگاری کی جانب آنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اندر اٹھنے والے سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ناول نگاری کی طرف آئے۔ اس سیشن میں شریک ناصر عباس نیئر، حمید شاہد اور قاضی علی ابوالحسن نے اصغر ندیم سید کی ناول نگاری پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناول نگاری کی صنف نثر میں سب سے مشکل اور منفرد صنف ہے جس میں لکھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے تاہم اصغر ندیم سید نے مختصر عرصے میں چار ناول لکھ کر اس میدان میں بھی اپنی مہارت ثابت کی ہے۔
معاشی امور سے متعلق سیشن کا عنوان “عمر گزرے گی امتحان میں کیا ۔ معیشت کا کیا بنے گا” تھا۔ اس سیسن میں ظفر مسعود نے کہا کہ اگر بنک حکومت کو قرض نہ دیں تو امور مملکت رک جائیں گے کیونکہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے جس کی وجہ سے حکومت کو قرض لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ دستاویزی معیشت کاحصہ بن کر ٹیکس دیں تو حکومت کو بینکوں سے قرض نہیں لینا پڑے گا اور بینک انہیں بھی بخوشی قرض دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لٹریچر کے ذریعے عام آدمی کو معیشت کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر سمجھایا جا سکتا ہے بلکہ جس شخص کا ادب سے شغف ہے وہ معیشت سے متعلق بھی بہتر فیصلہ سازی کر سکتا ہے۔ فواد حسن فواد نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری وہاں آتی ہے جہاں مواقع ہوں، نظام ہو اور قانون پر عملدرآمد ہو۔ ہم کئی سال سے سن رہے ہیں کہ بہت سرمایہ آ رہا ہے لیکن اب ایف آئی سی ایس کے ہیڈ نے خود کہا ہے کہ ہمارے پاس ترقی کا کوئی روڈمیپ نہیں ہے۔ سرمائے اور سرمایہ دار کو قابل نفرت بنا دیا گیا ہے۔ کوئی خیرات میں سرمایہ کاری نہیں کرتا ہے۔ عدالتوں نے غلط فیصلے کرنے والوں کو جوابداہ بنانے کی بجائے سرمایہ لگانے والوں کو مجرم بنا کر پیش کیا ہے۔ کاظم سعید نے کہا کہ معیشت ہر آدمی سے جڑی ہوئی ہے اس کا مطلب ہے کہ دولت پیدا کرنا لیکن ہم نے ایسا کرنے والوں کو قابل نفرت بنا دیا ہے یہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم آج بھی وہی چیزیں ایکسپورٹ کر رہے ہیں جو 30 سال پہلے کر رہے ہیں اس سلسلے میں حکومت اور کاروباری اداروں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہر گھرانے تک خوشحالی پہنچانے کے لئے نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
جون ایلیا اور نسل نو کے حوالے سے ہونے والے سے سیشن کا عنوان “ہمارے بعد جو آئیں انہیں مبارک ہو” تھا جس میں کاظم سعید، ناصرہ زبیری، ناصر عباس نیئر، شمعون ہاشمی اور شکیل جازب نے کہا کہ بہت سے بڑے شاعروں کی طرح جون ایلیا کو بھی تاخیر سے شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جون ایلیا اپنی باغیانہ طبعیت، سادگی اور سیدھی بات کہنے کی وجہ سے نوجوان نسل میں مقبول ہیں۔ بعدازاں طلبہ نے جون ایلیا کی شاعری پڑھ کر اور گا کر سنائی جبکہ ناپا کراچی کے گریجویٹ فیصل درانی نے مونولاگ پیش کیا۔ بعدازاں پنجاب بینک کے چیئرمین ظفر مسعود کی کتاب “سیٹ 1 سی” کی تعارفی تقریب ہوئی جس میں انہوں نے اپنے ہوائی سفر کی کہانی سنائی جس کا اختتام ایک حادثے پر ہوا جس میں وہ واحد زندہ بچنے والے شخص تھے۔ اس سیشن کا عنوان “میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں” تھا جس کے میزبان حماد غزنوی تھے۔
جون ایلیا کے بیٹے زریون ایلیا نے ایک سیشن میں اپنے والد سے جڑی یادیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ جون ایلیا ان کے لئے والد پہلے اور شاعر بعد میں ہیں اور والدین کی علیحدگی نے ان کے والد سے رشتے اور تعلق کو متاثر کیا لیکن اب وہ باتیں ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے جون ایلیا کی اپنے بارے میں لکھی طویل نظم “درخت زرد” کو ایک درد بھرا باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر جون ایلیا کے حوالے سے اپنے بچپن کے کئی دلچسپ واقعات سنائے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں اپنے بچپن کے وہ سنہری دن آج بھی نہیں بھولے جو انہوں نے اپنے والد کے ساتھ گزارے تھے۔ جون ایلیا کی مقبولیت میں اضافے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عشق اور بریک اپ بڑھ رہے ہیں اس لیے جون ایلیا کی مقبولیت اگلے 50 سال بھی کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے اس خلش کا بھی اظہار کیا کہ ان کے والد جو ہو سکتے تھے وہ نہیں بنے اور اس کی وجہ وہ خود تھے۔
بعدازاں “منور سعید سے مکالمہ” کے عنوان سے سیشن ہوا جس کے میزبان شمعون ہاشمی تھے۔ اس سیشن میں منور سعید نے جون ایلیا کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شاعری کے علاوہ پہلوانی اور اداکاری کا بھی شوق رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جون ایلیا نے کئی ڈرامے تحریر اور پرڈیوس بھی کئے۔ ٹی وی اور فلم کے معروف اداکار عمران عباس نے اپنے فنی کیرئیر سے متعلق شمون ہاشمی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پی اے ایف اکیڈمی چلے گئے تھے لیکن پھر ائیرفورس چھوڑ کر آرکیٹکٹ بننے این سی اے لاہور چلے گئے اور پھر اداکاری و گلوکاری کے شوق کی وجہ سے شوبز میں چلے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے باقاعدہ کلاسیکی موسیقی سیکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر جون ایلیا کے مختلف اشعار اور ایک غزل بھی گا کر سنائی۔ بعدازاں گلوکار امجد نیازی، خرم لطیف اور زیبی شاہ نے جون ایلیا کی غزلوں پر مشتمل قوالیاں پیش کیں جس کے بعد مشاعرہ ہوا اور ملک بھر سے آئے ہوئے معروف شاعروں نے اپنا کلام پیش کیا۔
جشن جون ایلیا کے تیسرے روز کا آغاز جی سی یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے بھنگڑے اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ کے مابین بیعت بازی کے مقابلہ سے ہوا۔ اس کے بعد حماد غزنوی کے کالموں کی کتاب “دائرے کے مسافر” کی رونمائی کے سیشن میں حماد غزنوی، فواد حسن فواد اور سہیل وڑائچ شریک گفتگو ہوئے۔ حماد غزنوی نے کہا کہ ماضی میں بڑے شاعر اور ادیب صحافت کا حصہ رہے ہیں اور وہ بھی انہی بڑے ناموں کو دیکھ کر صحافت کے کارزار میں داخل ہوئے تھے اور بطور سٹی رپورٹر کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ فواد حسن فواد نے کہا کہ خبر لکھنے یا سرخی لگانے کے مقابلے میں کالم لکھنا زیادہ مشکل اور مہارت کا متقاضی ہے۔ اس کے لئے غیر جانبداری سب سے ضروری ہوتی ہے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ آج کا کالم ادب کی ترویج کا ذریعہ ہے جس میں تاریخ، شاعری اور نثر کی خوبیاں سموئی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہونے والے سیشن میں ڈاکٹر شہزاد نے کہا کہ وہ مکالمہ کرنے والی شخصیت تھیں اور اختلاف رائے کو بھی شائستگی سے سنتی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے اور لوگ مکالمے کی بجائے مناظرے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
میڈیا کے حوالے سے سیشن “بولتے کیوں نہیں میرے حق میں” کے عنوان سے ہوا جس میں سہیل وڑائچ، حماد غزنوی اور اجمل جامی شریک گفتگو ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ہمیشہ سے پابندیوں کا شکار رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے فیک نیوز کے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔ صحافیوں کو سیاسی جماعتوں کا ترجمان بننے کی بجائے عوام کی آواز بننا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں سمیت طاقتور حلقوں کو اپنی رائے سے اختلاف رکھنے والوں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیٹر کا کردار ختم ہونے سے بھی صحافت کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔
جشن جون ایلیا کے ایک سیشن کا عنوان “فیصل آبادی مزاح” تھا جس میں کامیڈین سجاد جانی مہمان تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک کیمرے کے پیچھے مزاحیہ ڈبنگ کرتے رہے جس سے انہیں آمدن تو ہوئی لیکن کوئی انہیں جانتا نہیں تھا اس لئے اپنی شناخت بنانے کے لیے انہوں نے کیمرے پر آنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاہور میں کامیاب ہونے کے بعد مستقل طور پر واپس فیصل آباد آ گئے کیونکہ یہاں کے لوگ لاہور سے زیادہ زندہ دل اور خوش مزاج ہیں۔ جشن جون ایلیا کے اختتامی روز بھی مشاعرہ ہوا جس کے بعد مشہور فوک گلوکار رمضان جانی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح فیصل آباد والوں کے لئے نئے سال کا یہ تحفہ کئی خوشگوار یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے اختتام پذیر ہوا۔
جشن جون ایلیا کے انعقاد و اہتمام پر تمام منتظمین تعریف کے مستحق ہیں تاہم چند باتیں ایسی ہی جن کا اگر مستقبل میں خیال رکھا جائے تو اس طرح کی تقریبات کا ماحول مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے موسم کی شدت کو ملحوظ خاطر رکھنے کے ساتھ ساتھ آرٹس کونسل بالخصوص نصرت فتح علی خان آڈیٹوریم میں موسم کی مناسبت سے ہال کو گرم یا ٹھنڈا رکھنے اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانوں اور مقامی شائقین ادب کو اچھے ماحول میں بیٹھ کر اپنے پسندیدہ ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، فنکاروں اور دیگر اہم شخصیات کو سننے کا موقع مل سکے۔
