ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کا ملک میں ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ

فیصل آباد: پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ملک میں ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل فوری حل کرنے اور ایکسپورٹرز کو مساوی بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ایچ ایم اے (نارتھ زون) کے سینئر وائس چیئرمین احمد افضل اعوان نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اور ڈیوٹی ڈرابیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز کی سہولت امتیازی بنیادوں پر ایک شعبے تک محدود کرنے کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک شفاف اور جامع پالیسی فریم ورک تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صرف چاول کے ایکسپورٹرز کو یہ سہولت دینے سے دیگر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاول کی سالانہ برآمدات تین ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جبکہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر پاکستان کی ایکسپورٹس میں سالانہ 18 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود اس شعبے کے ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اور ڈیوٹی ڈرابیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز کی سہولیات تک مساوی رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو درپیش بحران کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی عالمی منڈیوں میں مسابقت کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے وزیر اعظم فوری اجلاس بلائیں اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کو بھی ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ اور ڈیوٹی ڈرابیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز کی سہولت فوری دی جائے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں