نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں ناکام؟

“میں سمجھتی ہوں کہ آن لائن ہراسانی کی شکایت درج کروانے سائبر کرائم آفس جانا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔”
واپڈا سٹی فیصل آباد کی رہائشی ورکنگ وومن سائرہ اسلم کے مطابق جب انہوں نے چند ماہ قبل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے فیصل آباد دفتر سے رابطہ کیا تو انہیں فوری انصاف فراہم کئے جانے کی توقع تھی لیکن اس کی بجائے انہیں مسلسل تاخیر، ہراسانی اور ادارہ جاتی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
سائرہ کے مطابق ان کی ایک پیشہ ور حریف نے اپنے ساتھی مردوں کی مدد سے فیس بک پر ان کے خلاف ہتک عزت کی ایک منظم مہم چلائی اور کئی ہفتوں تک ان پر جھوٹے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران ان کی بیٹی نے ملزموں کو وضاحت دینے کی کوشش کی تو اسے بھی ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ این سی سی آئی اے فیصل آباد کے دفتر متعدد چکر لگانے کے بعد انہیں تقریبا ایک ماہ بعد “شکایت کی تصدیق” کے لیے بلایا گیا۔ “ایک تفتیشی افسر نے میری شکایت کا مذاق اڑایا اور مطالبہ کیا کہ میں اپنا موبائل فون اس کے حوالے کروں تاکہ اس کا فرانزک کروا کے یہ تعین کیا جا سکے کہ میری شکایت درست ہے۔” انہیں بتایا گیا کہ موبائل فون تفتیشی افسر کے حوالے کرنے کے بغیر اس شکایت پر مزید کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔
“تمام ثبوت عوامی طور پر آن لائن دستیاب تھے۔ میں نے اسکرین شاٹس اور لنکس جمع کرائے تھے،” وہ کہتی ہیں۔ “میرا ذاتی فون کیوں ضروری تھا؟”
جب انہوں نے تفتیشی افسر کے اس مطالبے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تو مبینہ طور پر انہیں بغیر کسی پیش رفت کے واپس بھیج دیا گیا۔ بعدازاں اس بارے میں وزیر اعظم کے سٹیزن پورٹل پر درج کروائی گئی ان کی شکایت کو اس بنیاد پر بند کر دیا گیا کہ وہ “شکایت کی تصدیق” کے لئے دفتر نہیں آئیں۔
ان کا دعوی ہے کہ وہ شکایت درج کروانے سے اس کی تصدیق کے مرحلے تک این سی سی آئی اے فیصل آباد کے دفتر متعدد چکر لگانے کے علاوہ سٹیزن پورٹل پر بتائی گئی تاریخ پر بھی وہاں گئی تھیں لیکن این سی سی آئی اے کے حکام نے جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لیا اور سٹیزن پورٹل پر اس کی نشاندہی کے باوجود ان کی شکایت پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔
آن لائن ہراسانی کا شکار ہونے پر اس کی شکایت درج کروانے کے بعد اس صورتحال کا سامنا کرنے والی وہ اکیلی خاتون نہیں ہیں بلکہ فری لانس صحافی فاطمہ ادریس بتاتی ہیں کہ آن لائن ہراسانی کی شکایت درج کروانے پر تفتیشی افسر نے انہیں یہ تک کہا کہ مبینہ طور پر ہراساں کرنے والا شخص ان کا “بوائے فرینڈ” ہو سکتا ہے جو غصے میں یہ کام کر رہا ہے اور اس کا غصہ ختم ہونے پر یہ معاملہ خود ہی حل ہو جائے گا۔ بعدازاں ان کی شکایت کو بھی اس بنا پر بند کر دیا گیا کہ درخواست کنندہ نے اپنی شکایت کی پیروی نہیں کی ہے۔
فتح آباد کی رہائشی ایک اسکول ٹیچر ماہ نور بتاتی ہیں کہ جب اس نوعیت کی شکایت درج کروانے پر ابتدائی مرحلے میں ہی انہیں اپنا موبائل فون “سرینڈر” کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے گھر والوں کے کہنے پر اپنی شکایت واپس لے لی تھی۔
ان خواتین کے بیان کردہ تجربات کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں بلکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک تحقیقی رپورٹ بھی ان الزامات کی تصدیق کرتی ہے۔ “الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ پر نظر ثانی: خواتین کے خلاف سائبر کرائم کے قوانین کیسے ہتھیار بنائے جاتے ہیں۔” کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو خواتین آن لائن ہراساں کرنے کی شکایات کے ساتھ حکام سے رجوع کرتی ہیں انہیں انصاف کے حصول میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ جب 2016ء میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ “پیکا” نافذ کیا گیا تو اس کے بیان کردہ مقاصد میں سے ایک خواتین کو ڈیجیٹل بدسلوکی سے بچانا تھا۔ اس وقت کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت نے یہ دلیل دیتے ہوئے اس قانون کا دفاع کیا تھا کہ قانونی تحفظات کی عدم موجودگی میں خواتین آن لائن ہراساں کئے جانے کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ تاہم یہ قانون منظور ہونے کے چند مہینوں بعد ہی سندھ یونیورسٹی، جامشورو میں فائنل ایئر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر اپنی تصاویر پر بلیک میل ہونے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔ اسی طرح 2020ء میں ایک اور خاتون نے مبینہ طور پر اپنی شکایت میں سرکاری بے عملی کے بعد اپنی جان لے لی تھی۔
ایچ آر سی پی کے مطابق اس قانون سے خواتین کی آن لائن ہراسانی سے تحفظ کا وعدہ بڑی حد تک پورا نہیں ہوا۔ خواتین کے لیے ڈھال کے طور پر کام کرنے کے بجائے اس قانون کو اکثر اختلاف کرنے والوں کو نشانہ بنانے، سنسرشپ کو فعال کرنے اور پدرانہ طاقت کے ڈھانچے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے جو خواتین کو استحصال کے باوجود خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق جو خواتین قانون کے مطابق انصاف کے حصول کا راستہ اپناتی ہیں انہیں اکثر طریقہ کار میں تاخیر، توہین آمیر رویوں اور مزید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ سب ان سرکاری اہلکاروں کی جانب سے کیا جاتا ہے جن کی ذمہ داری انہیں تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
اس حوالے سے شکایت کی تصدیق یا “پری ٹرائل” کا مرحلہ اہم ہے جس میں بظاہر ضابطہ فوجداری کا سیکشن 160 اور 161 غیر جانبدار نظر آتا ہے لیکن اس کے تحت جن لوگوں کو طلب کیا جاتا ہے ان میں ملزم یا شکایت کنندہ کی کوئی تمیز نہیں کی جاتی ہے۔
انہیں اکثر گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، بار بار بلایا جاتا ہے اور تفتیشی افسران کا رویہ ان سے مجرموں جیسا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ملزم اور گواہ کو جاری کئے جانے والے طلبی کے نوٹسز میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق یہ طرز عمل انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں ICCPR اور CEDAW کی بھی خلاف ورزی ہے۔
ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد کی رکن ماریہ رستم ایڈووکیٹ بتاتی ہیں کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اہلکاروں کے لیے ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے شکایت کنندگان کی حوصلہ شکنی کرنا عام بات ہے۔
“بظاہر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شکایت کنندہ کو اتنا تھکا دیا جائے کہ وہ یا تو شکایت واپس لے یا پھر تھک ہار کر اس کی پیروی سے دستبردار ہو جائے تاکہ تفتیشی عملے کو کام نہ کرنا پڑے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر شکایت کنندہ کے موبائل فون کا مطالبہ کرنا “مکمل طور پر غیر قانونی اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔” ان کے مطابق اس مرحلے پر تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستیاب مواد کا جائزہ لے اور اس بات کا تعین کرے کہ آیا کوئی قابل شناخت جرم کیا گیا ہے۔ “موبائل فون کا فرانزک معائنہ صرف عدالتی حکم کے تحت کیا جا سکتا ہے وہ بھی جب مقدمہ عدالت میں زیرسماعت ہو، ایف آئی آر کے اندراج سے قبل کسی بھی مطالبے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔”
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے کام کرنے والے سماجی تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے بھی رابطہ کرنے پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے تفتیشی افسران کو شکایت کی تصدیق کے مرحلے پر شکایت کنندہ کا موبائل فون ضبط کرنے یا ایف آئی آر کے اندراج سے قبل اس کا فرانزک تجزیہ کروانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ “پیکا ایکٹ کے تحت تفتیشی افسران کے ایس او پیز تصدیق شدہ آن لائن مواد کے ابتدائی جائزے، شکایت کنندہ کی تفصیلات کو ریکارڈ کرنے، شناختی کارڈ کی کاپی حاصل کرنے، ملزم کی دستیاب تفصیلات جمع کرنے تک محدود ہیں۔ اس مرحلے پر کوئی بھی لازمی آلہ ضبط کرنا قانون کے دائرہ کار سے تجاوز کرتا ہے اور پیکا ایکٹ کے فریم ورک سے متصادم ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب معلومات بھی اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ ویب سائٹ پر دیئے گئے اعداد وشمار کے مطابق صرف 2024ء میں ایک لاکھ 71 ہزار 600 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 37 ہزار 65 شکایات خواتین کی طرف سے درج کروائی گئیں۔
علاوہ ازیں ایجنسی کا اپنا ڈیٹا بتاتا ہے کہ سائبر کرائم اور آن لائن ہراساں کرنے کے کیسز میں سزا کی شرح خطرناک حد تک کم ہے۔ اس سلسلے میں معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت حاصل کردہ ڈیٹا بھی اس کی تصدیق کرتا ہے جس کے مطابق 2025ء کے آخری نو مہینوں کے دوران این سی سی آئی اے کو 94 ہزار 592 شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے 73 ہزار 332 کو بغیر کسی انکوائری کے بند کر دیا گیا جبکہ 21 ہزار 260 شکایات کی انکوائری کی گئی جس کے نتیجے میں 1,140 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 651 مقدمات میں چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے لیکن اس عرصے کے دوران صرف 20 مقدمات میں سزائیں ہوئیں۔
یہ اعدادو شمار شکایت کے مرحلے پر شکایت کنندگان کی حوصلہ شکنی، تفتیشی صلاحیت، استغاثہ کی استعدادکار اور ادارہ جاتی جوابدہی کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھاتے ہیں۔ شکایت کنندگان سے ابتدا میں ہی موبائل فون حوالے کرنے کے غیر قانونی مطالبات، تفتیشی افسران کے غیر مہذب برتاو، سزاوں کی کم شرح اور اندرونی احتساب کے طریقہ کار کے بارے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اور فیصل آباد کے سرکل انچارج سے موقف جانے کے لئے بار بار رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ این سی سی آئی اے میں شکایت کنندگان کی حوصلہ شکنی کرنے کی غیر اعلانیہ ادارہ جاتی پالیسی رائج ہے۔
ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ “پیکا” کے اندر ہی واضح قانونی طریقہ کار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ تفتیشی ایجنسیوں کو اختیارات کے غلط استعمال، تفتیش میں تاخیر اور شکایت کنندگان کے وقار کو مجروح کرنے والے طرز عمل کے لیے جوابدہ بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں پارلیمان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس قانون کا جامع جائزہ لے اور سیکشن 53 کے تحت این سی سی آئی اے سے سالانہ رپورٹیں طلب کرکے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی شہادتوں کو دستاویز کرنے کے لیے عوامی سماعتوں کا انعقاد کرے۔ علاوہ ازیں درپیش چیلنجز کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی اور صوبائی عدالتی اکیڈمیوں کے ساتھ اشتراکی اجلاس منعقد کرنے اور پیکا ایکٹ کے تحت تیار کئے گئے تفتیشی قواعد، ضابطہ فوجداری اور متعلقہ آئینی دفعات میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لینے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ مقدمے سے پہلے کے مرحلے میں شکایت کنندگان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس حوالے سے فوری اقدامات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ پیکا ایکٹ کے نفاذ کو تقریباً ایک دہائی گزرنے کے بعد اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں تبدیلی کو تقریبا دو سال کا عرصہ ہونے کے باوجود آن لائن ہراسانی کا شکار شہریوں بالخصوص خواتین کو ادارہ جاتی مزاحمت، حوصلہ شکنی اور بدعنوانی کا سامنا ہے۔

نوٹ: متاثرین کی حفاظت کے پیش نظر تحریر میں ان کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں