خواتین پر تشدد کے واقعات 34 فیصد بڑھ گئے، بچوں سے زیادتی کے واقعات میں بھی 8 فیصد اضافہ

اسلام آباد: ملک میں ایک سال کے عرصے میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں 8 فیصد جبکہ خواتین پر تشدد کے واقعات میں 34 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لئے کام کرنے والے سماجی ادارے “ساحل” کے مطابق سال 2025ء میں 81 مختلف اخبارات میں بچوں سے زیادتی کے کل 3630 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ کیسز اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی)، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور گلگت بلتستان (جی بی) سمیت چار صوبوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ صنفی تقسیم کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 1924 (53 فیصد) متاثرین لڑکیاں اور 1625 (47 فیصد) لڑکے اور 116 کیسز نئے پیدا ہونے والے بچوں کے تھے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال 2025 کے دوران ایک دن میں 9 سے زائد بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ سال 2024 کے مقابلے میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں 8 فیصد (266 بچے) اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں بڑے جرائم کے زمرے میں ، اغوا کے 1107، جنسی زیادتی کے 596، عصمت دری کے 522، بچوں کی گمشدگی کے 365، زیادتی کی کوشش 195، بدفعلی کی کوشش 141، اجتماعی زیادتی کے 130، اجتماعی زیادتی کے 108، جنسی زیادتی کے بعد قتل کے 58، اور بچوں کی شادی کے 53 واقعات شامل ہیں۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 11-15 سال کی عمر کے گروپ میں بچوں کو زیادتی کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے، جس میں لڑکیوں کی نسبت لڑکے زیادہ ہوتے ہیں۔ بدسلوکی کرنے والوں کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ جاننے والے اب بھی بچوں کے جنسی استحصال میں سب سے زیادہ ملوث ہیں۔ علاوہ ازیں جغرافیائی تقسیم کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ کل 3630 رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 73 فیصد کیس پنجاب سے، 21 فیصد کیس سندھ سے، 4 فیصد کیس خیبرپختونخوا، 2 فیصد کیس بلوچستان، وفاق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان (GB) سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے 82 فیصد کیس پولیس کے پاس رجسٹرڈ ہوئے جو کہ فعال پولیس کی مثبت علامت ہے۔
ساحل نے پچھلے دو سالوں سے خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا ہے۔ اس حوالے سے 2025 کے صنف کی بنیاد پر تشدد کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر سے صنف کی بنیاد پر تشدد کے کل 7071 کیس رپورٹ ہوئے جن میں تشدد کی مختلف شکلیں شامل ہیں جیسے کہ قتل، خودکشی، اغوا، عصمت دری، غیرت کے نام پر قتل، اور ٹارچر کے واقعات شامل ہیں۔ ان میں کچھ کیسز خواجہ سراؤں کے بھی شامل ہیں۔ اس سال کے اعداد و شمار صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں 34 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025ء میں قتل کے 1546، اغوا کے 1345، تشدد کے 1169، زیادتی کے 877 واقعات، خودکشی کے 680، زخمی 449، ہراساں کرنے کے 316، غیرت کے نام پر قتل کے 284 اور تیزاب گردی کے 41 واقعات ہوئے۔ ان کیسز میں سے 32 فیصد زیادتی کرنے والے جاننے والے تھے، 18 فیصد اجنبی، 12 فیصد کیسز میں شوہر ملوث تھے جبکہ 20 فیصد کیسز میں زیادتی کرنے والے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صوبائی تقسیم کی بنیاد پر تجزئیے سے پتہ چلتا ہے کہ 78 فیصد کیس پنجاب سے، 14 فیصد سندھ سے، 6 فیصد کیس خیبر پختوانخواہ سے، 2 فیصد کیس بلوچستان، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم رپورٹ کرنے کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک کم ہے۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں