بھگت سنگھ : سرحد کے دونوں جانب یکساں مقبول انقلابی

پاکستانی پنجاب کے شہر فیصل آباد (لائلپور) سے تحصیل جڑانوالہ کی طرف جائیں تو راستے میں سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا شہروں سے قصبات کی طرف جاتے ہوئے نظر آتا ہے۔ ہر چند کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹی چھوٹی دکانوں اور ریڑھیوں و ٹھیلے والوں کے ہجوم پر مشتمل بازار اور پھر دور دور تک پھیلے ہوئے کھیتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس منظر کے بیچ میں چھوٹی بڑی فیکٹریاں اور کہیں کہیں نجی ہاوسنگ سوسائٹیاں کے بڑے بڑے خوشنما گیٹ کھیت، کھلیانوں سے چھینی ہوئی ہریالی پر سینہ چوڑا کئے اپنی فتح کا جشن مناتے نظر آتے ہیں۔
مکوآنہ بائی پاس سے تھوڑا آگے بڑھیں تو سڑک کنارے نصب ایک سائن بورڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب اس بے کیف سفر کا اختتام ہونے والا ہے ۔اس بورڈ پر جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ کا نام تحریر ہے اور اس سے یہ پتہ چلتا ہےکہ اس افسانوی کردار کا گاوں چک 105 ‘ بنگہ’ یہاں سے 12 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔
گاوں کو جانےوالی ذیلی سڑک کے آغاز پر بھی بھگت سنگھ کے کارناموں سے مزئین بورڈ یہاں سے گزرنے والوں کو اس انقلابی کی یاد دلاتا ہے جس نے جواں عمری میں انقلاب کی خاطر جان قربان کی تھی۔اس سڑک کے اطراف میں لگے جنگلی کیکر کے بلند وبالا درخت آج بھی اس انقلاب کی راہ تکتے معلوم ہوتے ہیں جس کا خواب بھگت سنگھ نے دیکھا تھا۔
چند ہزار نفوس پر مشتمل اس گاوں کی آبادی میں اکثریت ان مہاجروں کی ہے جو 1947ء کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے پاکستان آئے تھے۔ ان کے دلوں میں جہاں اپنے آبائی علاقوں کی یادیں بسی ہوئی ہیں وہیں وہ اس بات پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں کہ اب وہ اس گاوں کے مکین ہیں جہاں جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ نے جنم لیا تھا۔
یہاں اب کوئی سکھ یا ہندو خاندان رہائش پذیر نہیں ہے تاہم دو کمروں پر مشتمل بھگت سنگھ کے آبائی گھر کی باقیات کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر اصل حالت میں بحال کرنے کے بعد ایک فوٹو گیلری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ رہائشگاہ تقسیم کے بعد مقامی زمیندار ثاقب ورک کے بزرگوں کو الاٹ ہوئی تھی اور اب وہی اس کی دیکھ بھا ل کرتے ہیں۔

ثاقب ورک کے مطابق 1947ء میں یہ گھر ان کے دادا فضل قادر ورک کو الاٹ ہوا تھااور اس دور سے ہی دنیا بھر سے سکھ کمیونٹی کے لوگ اس تاریخی مقام کو دیکھنے کے لئے آتے رہے ہیں۔
“یہ 1890ء کے بنے ہوئے دو کمرے ہیں جو اسی حالت میں موجود ہیں جیسے بھگت سنگھ کے والدین نے بنائے تھے۔”
بھگت سنگھ کی آبائی رہائش گاہ اور سکول کو 2014 میں اس وقت کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن آفیسر اور موجودہ سیکریٹری ہاوسنگ پنجاب نورالا امین مینگل نے ثقافتی ورثہ قرار دے کر اس کی بحالی و تزئین و آرائش پر تقریبا ایک کروڑ روپے کے فنڈز خرچ کئے تھے۔
بعدازاں اس سلسلے میں لائلپور ہیریٹج فاونڈیشن قائم کر کے بھگت سنگھ کے آبائی گاوں بنگہ، سر گنگا رام کے بسائے گئے گاوں گنگا پور، مرزا صاحباں کے گاوں دانا آباد، احمد خان کھرل کے گاوں جھامرہ اور پاکستان میں مسیحی کمیونٹی کا ویٹی کن سٹی کہلانے والے گاوں خوش پور کو بھی تاریخی دیہات قرار دے کر یہاں موجودتاریخی عمارتوں کی بحالی کا منصوبہ بنایا گیا تھا جس پر فنڈز کی عدم دستیابی اور دیگر مسائل کے بحث عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔
ثاقب ورک کے مطابق “جب 2014ء میں حکومت نے بھگت سنگھ کی حویلی کو ثقافتی ورثہ قرار دیا تو اسے پرانی بنیادوں پر دوبارہ بحال کرنے کے لئے چھت کے کچھ بالے اور شہتیر تبدیل کئے گئے اور باقیوں کو رندہ لگا کر ریفریش کیا گیا ۔ اس میں لگے دروازے ، کھڑکیاں ، فرش اور چھتیں تمام کی تمام تقریبا اسی دور کی ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ بھگت سنگھ کے زیر استعمال تجوری، چرخہ اور اس کے ہاتھ کے لگائے ہوئے بیری کے درخت کو وہ اس حویلی کا قیمتی اثاثہ سمجھتے ہیں۔

ثاقب ورک نے بتایا کہ وہ اس گھر کی دیکھ بھال کا خرچہ اپنی گرہ سے اٹھاتے ہیں اور اگر حکومت اس ثقافتی ورثے کو قومی تحویل میں لے کر اسے مزید بہتر بنانا چاہتی ہے تو وہ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیں گے بلکہ اس میں لگی ہوئی سینکڑوں تاریخی تصویروں اور دیگر اشیاء کو بھی عطیہ کر دیں گے۔
بھگت سنگھ یا اس کی جدوجہد آزادی کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے اس گاوں کے زیادہ تر افراد تو اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن گاوں کے بزرگ افراد اب بھی بھگت سنگھ کو ایسے ہی یاد کرتے ہیں جیسے کوئی اپنے پرکھوں کا ذکر کرتا ہے۔
محمد افضل اسی گاوں میں پیدا ہوئے اور اب ان کی عمر ساٹھ سال سے زائد ہو چکی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ بھگت سنگھ غریبوں کا بڑا ہمدرد تھا۔
“انگریز دور میں گاوں والوں پر درخت کاٹنے کی پابندی عائد تھی لیکن بھگت سنگھ نے یہ پابندی ختم کروائی اور لوگوں کو یہ شعور دیا کہ اس خطے کے وسائل کے مالک یہاں کے مقامی باشندے ہیں اور انگریز نے ان پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔”
محمد صدیق ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں اور ان کی عمر 74 سال ہے۔ انہوں نے بھگت سنگھ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھگت سنگھ نے جس کم عمری میں آزادی کے لئے جدوجہد کی اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔
“بھگت سنگھ کہتا تھا کہ یہ ملک ہمارا ہے، یہاں کی زمین بھی ہماری ہے لیکن حکمرانی اور قانون انگریز کا چلے یہ مجھے منظور نہیں اور اسی جدوجہد میں اس نے اپنی جان بھی قربان کر دی۔”

انہوں نے بتایا کہ بھگت سنگھ اور ان کے بزرگ انگریزوں سے آزادی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔
“انہوں نے گاوں میں پہلا سکول بنوایا جہاں خود بھگت سنگھ بھی پڑھتا تھا، گاوں والی کی سہولت کے لئے دو جنج گھر بنوائے جہاں شادی، بیاہ کی تقریبات ہوتی تھیں اور کسی سے کوئی خرچہ نہیں لیا جاتا تھا بلکہ باہر سے آنے والوں کو مفت رہائش اور کھانا بھی ملتا تھا۔گاوں میں تین تالاب تھے جن کے لئے پانی منظور کروایا، گاوں کو آنے والی سڑک پر لگے اکثر درخت بھی ان کے لگائے ہوئے ہیں۔”
محمد صدیق کے مطابق ان کے بزرگ مثال دیا کرتے تھے کہ یہاں سکھ رہ کر گئے ہیں اور انہوں نے گاوں کا کیسا اچھا نظام قائم کیا تھا لیکن بعد میں آنے والے اس نظام کو قائم نہ رکھ سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بھی دنیا بھر سے لوگ خاص کر سکھ کمیونٹی کے افراد بھگت سنگھ کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی جنم بھومی دیکھنے کے لئے گاوں آتے ہیں اور گاوں کے لوگ بڑے کھلے دل کے ساتھ ان کا استقبال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھگت سنگھ وہ شخصیت ہے جو پاکستان اور ہندوستان میں اچھے تعلقات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
“حکومتوں کی اپنی پالیسیاں اور مجبوریاں ہو سکتی ہیں لیکن دونوں ملکوں کے عام لوگ آج بھی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو اپنا سمجھتے ہیں۔ جب ہندوستان سے پرانے لوگ یہاں آتے تھے تو وہ اپنے پرانے ساتھیوں اور ان کے بچوں سے گلے لگ کر آنسو بہایا کرتے تھے۔”
بھگت سنگھ نے گاوں کے جس سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی وہ سکول اب بھی قائم ہے اور اس میں دو کمروں کی وہ عمارت آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جیسی وہ آج سے سو سال پہلے تھی۔

جس کلاس روم میں کبھی بھگت سنگھ بیٹھ کر پڑھا کرتا تھا اس کی دیواروں پر اب بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے ساتھ ساتھ بھگت سنگھ کی تصاویر بھی آویزاں ہیں۔
اس سکول کے ہیڈ ماسٹر نصیر احمد خود بھی بھگت سنگھ کے چاہنے والوں میں شامل ہیں اور انہوں نے اپنے ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک طویل نظم بھی لکھی ہے جو اس تاریخی عمارت کے کلاس رومز اور بھگت سنگھ کی آبائی حویلی میں بھی آویزاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب باہر سے لوگ اس تاریخی سکول کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں تو پھر یہاں پڑھنے والے طالب علموں میں بھی یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھگت سنگھ کی طرح اپنا اور اپنے گاوں کا نام روشن کریں اور دنیا بھر سے لوگ انہیں سلام عقیدت پیش کرنے کے لئے یہاں آئیں۔
نصیر احمد کہتے ہیں کہ آج بھگت سنگھ کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی فکر کو اپنایا جائے، نئی نسل کو بتایا جائے کہ مذہب، رنگ اور نسل سے زیادہ اہم انسان ہونا اور انسانیت کی بھلائی کے لئے کام کرنا ہے۔
“اس فکر کو ہم آگے لے کر چلیں تو دونوں طرف کے لوگ یکجا ہو سکتے ہیں، ہمارا مذہب الگ ہو سکتا ہے لیکن دونوں طرف انسان تو ایک جیسے ہی ہیں۔بھگت سنگھ نے بھی کسی خاص مذہب یا فرقے کی جنگ نہیں لڑی بلکہ وہ اس خطے کے پسے ہوئے ، پسماندہ طبقات کو بلا تفریق مذہب انگریزوں کے جبر سے نجات دلانا چاہتا تھا۔”
اسی سکول کے ایک اور استاد محمد عمر نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے بتایا کہ وہ اور گاوں کے دیگر باشندے اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ کی جنم بھومی کے رہائشی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب کینیڈا یا دیگر ممالک سے سکھ کمیونٹی کے لوگ یہاں آتے ہیں تو وہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں کہ بھگت سنگھ مسلمان نہیں تھے لیکن پھر بھی انہیں پاکستان میں ایک قومی ہیرو کی حیثیت حاصل ہے اور ان کے گھر اور سکول کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر اس کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
یہ بھگت سنگھ کی سوچ اور فکر کی جیت ہے کہ جہاں ایک خطے کا مذہب کے نام پر بٹوارا ہوا تھا وہیں آج بھگت سنگھ کو سرحد کے دونوں جانب اپنا ہیرو تسلیم کیا جاتا ہے۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں