فیصل آباد: خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل نے کہا ہے کہ خواتین کے لیے کام کی جگہوں پر محفوظ اور پروقار ماحول فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔ وہ فیصل آباد آفس کے عملے سے ملاقات میں گفتگو کر رہی تھیں۔ اس موقع پر انہیں فیصل آباد میں ہراسمنٹ ایکٹ 2012 کے نفاذ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت تمام سرکاری و نجی اداروں میں ہراسمنٹ انکوائری کمیٹیوں کی تشکیل لازمی قرار دی گئی ہے اور ان انکوائری کمیٹیوں کی کارکردگی کو باقاعدگی سے چیک کیا جائے گا۔ خاتون محتسب پنجاب کے مطابق ہراسمنٹ ایکٹ کے تحت اب تک 1400 کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ان میں سے 1305 کیسز میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 9 اضلاع میں خاتون محتسب کے سب آفسز قائم ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز ہراسمنٹ کے معاملے پر زیرو ٹولرنس کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین بغیر کسی خوف و خطر کے لاہور ہیڈ آفس یا ضلعی دفاتر میں اپنی شکایات درج کروا سکتی ہیں۔ ڈاکٹر نجمہ افضل نے ہراسمنٹ ایکٹ سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لیے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں آگاہی سیشن منعقد کرنے پر بھی زور دیا۔
