فیصل آباد: ملک کے ممتاز صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں پائیدار ترقی کے لئے بجٹ 27-2026 میں غیر دستاویزی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور برآمدات بڑھا کر صنعت کو فروغ دینے کے لیے زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔
میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی ٹبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، ذوالفقار منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان ذوالقرنین، انور گوہر اور سلطان ظہور و دیگر پر مشتمل وفد نے ایسی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا جو پیداواری شعبوں بالخصوص برآمدات اور مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں۔
انٹرلوپ لمٹیڈ کے چیئرمین مصدق ذوالقرنین نے وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد اس حوالے سے”ایکس” پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں حکومت نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے لیکن اس کا زیادہ تر بوجھ دستاویزی معیشت کا حصہ کاروباری اداروں اور تنخواہ دار افراد نے زیادہ ٹیکس ادا کرکے برداشت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دستاویزی معیشت کا حصہ کاروباری اداروں اور تنخواہ دار طبقے کو بامعنی ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ ان پر عائد ٹیکس کا اضافی بوجھ کم ہو سکے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی اہم ٹیکس ریلیف صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا جب حکومت غیر رسمی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں کامیاب ہو گی۔ مصدق ذوالقرنین کے مطابق ملک میں زیر گردش نقدی کا مجموعی حجم 11 ٹریلین روپے سے زیادہ ہے جبکہ سالانہ ٹیکس چوری کا تخمینہ پانچ سے چار ٹریلین روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ، ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال اور آسان ٹیکس قوانین کے ذریعے، حکومت ممکنہ طور پر ایک سے ڈیڑھ ٹریلین روپے سالانہ غیر ٹیکس شدہ معاشی سرگرمیوں سے وصول کر سکتی ہے۔
مصدق ذوالقرنین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عام شہریوں اور کاروباری اداروں پر بھاری ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کے بوجھ کو کم کرے کیونکہ محصولات کی وصولی کے لیے دستاویزی شعبے پر مسلسل انحصار اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
پاکستان کے معاشی مستقبل میں برآمدات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت بنگلہ دیش اور ویتنام میں ایک باضابطہ وفد بھیجے تاکہ ان ممالک کی برآمدات کے فروغ کی کامیاب حکمت عملی کا مطالعہ کرکے متعلقہ پالیسیوں کو مقامی حالات کے مطابق ڈھال کر پاکستان میں نافذ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا بنگلہ دیش اور ویتنام نے ثابت کیا ہے کہ کس طرح مستقل برآمدات پر مبنی پالیسیاں معیشتوں کو تبدیل کر سکتی ہیں اور اس حوالے سے پاکستان کو ان ممالک کے تجربات سے سیکھ کر ایسی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہیے جو مسابقت کو بہتر بنائیں اور مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کو راغب کریں۔
مصدق ذوالقرنین کے مطابق آنے والا بجٹ یہ فیصلہ کرے گا کہ حکومت برآمدات پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینا چاہتی ہے جو ملازمتیں پیدا کرتی ہیں اور زرمبادلہ کما کر ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرتی ہیں یا سرمایہ کاری کا رخ دوبارہ سے رئیل اسٹیٹ جیسے غیر پیداواری شعبوں کی طرف موڑا جائے گا۔
انہوں نے حالیہ حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کیا جن میں صنعتی بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کا خاتمہ اور ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگیوں میں بہتری شامل ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی برآمدی مسابقت کو بڑھانے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایاکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے یقین دلایا ہے کہ برآمدات کی قیادت میں ترقی حکومت کی معاشی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے ممکنہ تجاویز کو مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں شامل کیا جائے گا تاکہ مینوفیکچرنگ اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کو فروغ دے کر روزگار کی فراہمی کو بڑھایا جا سکے۔
وفد کے اراکین نے مجموعی طور پر اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے، کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کرنے اور پیداواری شعبوں بالخصوص ٹیکسٹائل کی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے جس سے پاکستان کو معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی۔
اس ملاقات میں وفاقی وزراء سید رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور معاون خصوصی ہارون اختر خان و دیگر بھی موجود تھے.
