ورلڈ پریس فریڈم ڈے 2026 کے حوالے سے پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں گزشتہ ایک سال کے دوران آزادیِ اظہار رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیے گئے مختلف طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پریس فریڈم انڈیکس 2026 کے مطابق 186 ممالک میں پاکستان کی 153 نمبر پر ہے جوکہ ملک میں میں صحافت کو درپیش “انتہائی سنگین” صورت حال کو ظاہر کرتی ہےجس میں صحافت پر مسلسل پابندیاں، سیاسی دباؤ اور میڈیا کے مواد کو کنٹرول کرنے کی کوششیں شامل ہیں.
پاکستان پریس فاونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے اپریل 2026 کے دوران صحافیوں پر تشدد، سنگین نتائج کی دھمکیوں اور قانونی کارروائیوں کے233 واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے پیکا ایکٹ اور فوجداری مقدمات کے اندراج کو دباو کے حربے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس حوالے سے گزشتہ 15 ماہ کے دوران 67 میڈیا پروفیشنلز کو فوجداری مقدمات/ ایف آئی آرز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ مقدمات پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ “پیکا” کے تحت درج کئے گئے ۔ علاوہ ازیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی طرف سے صحافیوں کو بار بار سمن اور کال اپ نوٹس جاری کرنے کو ” ریاستی دباؤ” کا حربہ قرار دیا گیا ہے۔اس رپورٹ میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو پیکا کے تحت سنائی گئی 17 سالہ سزا کے حوالے سے پی پی ایف نے خبردار کیا ہے کہ اس سے صحافیوں کو حاصل قانونی تحفظ مزید کمزور ہو جائے گا۔
پی پی ایف کی رپورٹ میں صحافیوں کے خلاف جسمانی تشدد اور سنسر شپ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ گزشتہ ایک سال کے دوران صحافیوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 67 واقعات رپورٹ ہوئے ۔ اس دوران 11 صحافیوں کو گرفتاریوں اور 11 کو نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں 8 مارچ 2026 کو اسلام آباد میں عورت مارچ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی اجتماعی حراست بھی شامل ہے۔
میڈیا پر سنسر شپ کے لئے اشتہارات کی بندش کو “ریاستی دباو” کے لئے استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈان میڈیا گروپ جیسے بڑے صحافتی ادارے کو اس وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانے کے لیےمصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور بالخصوص خواتین صحافیوں کو ” اے آئی” کے ذریعے تیار کردہ جعلی مواد اور کردار کشی کی مہمات کا سامنا ہے۔ یہ رپورٹ ایک یاد دہانی ہے کہ حفاظتی قوانین کے فعال نفاذ اور مجرموں کو سزا ملے بغیر پاکستان میں آزادیِ اظہار کا آئینی حق بدستور شدید خطرے میں ہے۔پی پی ایف نے ملک میں آزادی اظہار رائے اور صحافت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے حکومت پر زور دیا ہے کہ 2025 کے آخر میں قائم کیے گئے کمیشن برائے تحفظِ صحافی و میڈیا پروفیشنلز کو مکمل طور پر فعال کیا جائے۔
