پنجاب کا دیہی ماحول اور محرم کی بھولی بسری یادیں

ہمارے گاؤں میں کوئی اہل تشیع خاندان نہیں تھا البتہ ہمارے ساتھ والے گاؤں میں بہت سے خاندان اہل تشیع ہوتے جا رہے تھے اور وہاں محرم الحرام کے جلوس بھی نکلنا شروع ہو گئے تھے۔ ان جلوسوں اور شام غریباں کی عجیب و غریب کہانیاں ہمارے گاؤں کے چند لوگ بیان کیا کرتے تھے جو آج سمجھ آتا ہے کہ محض تعصب اور مبالغہ آرائی پر مبنی تھیں۔
ہمارے گھر فرقہ ورانہ گفتگو نہیں ہوتی تھی۔شائد اس لئے کہ میرے بزرگ کسی مسلک پر کاربند ہونے کی بجائے (غالبا پنجاب کی اکثریت کی طرح) سادہ مذہبی روایات پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے ہاں پائی جانے والی روایات بریلوی مسلک کے زیادہ قریب تھیں البتہ محرم کا آغاز ہوتے ہی اہلِ بیتؑ کی محبت اور ان کے غم کی کیفیت ہر روایت پر غالب آ جاتی تھی۔ گاؤں کی مسجد (اہلسنت والجماعت) میں تو شہادت ِامام حسین علیہ السلام اور اہل بیت کا تذکرہ سرسری ہوتا تھا البتہ ٹیپ ریکارڈوں پر علامہ سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی کا بیان کیا ہوا “واقعہ کربلا” گلی محلوں میں اکثر سننے کو ملتا تھا۔ خاص طور پر خواتین بڑے اہتمام سے یہ واقعہ سنتیں اور واقعہ سنتے ہوئے اکثر ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔
ہمارے گھر میں بھی محرم الحرام سے وابستہ کئی ایک روایات تھیں۔ ہمارے ہاں محرم کی آمد سے پہلے کُجیاں ٹُھوٹھیاں خریدنا اتنا ہی ضروری سمجھا جاتا تھا جتنا عید قربان سے پہلے قربانی کے لئے جانور خریدنا۔گاؤں میں کمہار جب گدھا ریڑھی پر کُجیاں ٹُھوٹھیاں بیچنے کے لئے ہوکا (آواز) دیتا تو اسے آواز دے کر روک لیا جاتا اور والدہ مرحومہ خوب چھان پھٹک کر کجیوں ٹھوٹھیوں کے جوڑے خریدتیں۔ کُجیاں اور ٹُھوٹھیاں نقد رقم سے نہیں بلکہ گندم کے عوض خریدی جاتی تھیں۔ ایک کجُی کا معاوضہ تھا گندم سے بھر ی ہوئی ایک کجی۔ جتنی کجیاں درکار ہوتیں، کمہار اتنی ہی مرتبہ کجی کو گندم سے بھر کر اپنی زنبیل میں پلٹتا جاتا۔ ٹُھوٹھیوں کے معاوضے کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔
یہ کجیاں ٹھوٹھیاں 10 محرم کو بچوں میں تقسیم کی جاتیں۔ عام طور پر کجیوں میں شربت اور ٹھوٹھیوں میں کھیر بھر کر کچے فرش کے اوپر انہیں قطاروں میں چُن دیا جاتا تھا۔ کجی ٹھوٹھی کا جوڑا رکھتے ہوئے نیچے کُجی اور اوپر ٹھوٹھی رکھی جاتی تھی۔ جس جگہ پر یہ کجیاں رکھی جاتیں اس جگہ پر پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا۔ اس طرح گیلی مٹی کے فرش اور پکی مٹی کی کجیوں ٹھوٹھیوں کی خوشبو سے ایک ایسا تاثر پیدا ہوتا جو آج بھی محرم الحرام کے غم کے ساتھ جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
محرم کے دس روز خصوصا 9 اور 10 محرم کے روز، گھر کی فضا کو سنجیدہ رکھا جاتا اور بچوں کو زیادہ شور شرابے کی اجازت نہ دی جاتی۔ ایسا کرنے پر بچوں کو ٹوکا جاتا اور انہیں اس بات پر شرم دلائی جاتی کہ محرم الحرام میں بھی انہیں چیخنے چلانے سے فرصت نہیں ہے۔ محرم کے دنوں میں گاؤں کے ہر خاندان کی کوشش ہوتی کہ فی سبیل اللہ بچوں میں کچھ نہ کچھ تقسیم کیا جائے۔ کھانے والی اشیاء میں عام طور پر دلیہ، کھیر، میٹھے چاول یا شورہ مَنڈا تقسیم ہوتا تھا اور مشروبات میں روح افزا کا شربت اور شکنجوی (شکنجبین) پلائی جاتی تھی۔ بچے سارا دن اپنے ہاتھوں میں کَولیاں (جست کے برتن) لئے ہوئے گلیوں بازاروں میں گھومتے اور برتن کھڑکاتے ہوئے کسی بلاوے کے انتظار میں رہتے۔ کہیں کسی گلی سے صدا بلند ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ واسطہ لَے لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ واسطہ ۔۔۔۔ تو یہ آواز سنتے ہی بچے اُس گھر کی جانب سرپٹ دوڑنا شروع کر دیتے۔ 9 محرم کو “اللہ واسطے” کی اس تقسیم میں تیزی آ جاتی جو 10 محرم کو اپنے عروج پر پہنچ جاتی۔
محرم میں ایک اور روائیت قبروں پر جانا اور انہیں سنوارنا و لیپنا بھی تھا۔ یہ کام عام طور پر 9 محرم کو ہی شروع ہو جاتا لیکن قبرستان میں اصل رونق 10 محرم کو ہوتی تھی۔
گاؤں میں کچھ لوگ ایسے تھے جو 10 محرم کو سورج نکلنے سے پہلے ہی گدھا گاڑیوں و بیل گاڑیوں پر پانی کے ڈرم اور توڑی کی گانٹھیں لادے قبرستان کی طرف چل پڑتے۔ وہاں جا کر پانی اور توڑی کی مدد سے گارا (گھانی) تیار کرتے جن سے قبروں کی لپائی کی جاتی۔ لپائی سے پہلے، اطراف سے مٹی اٹھا کر قبروں کے اوپر ڈال کر ان کی ہیئت کو درست کیا جاتا اور پھر گارے کی مدد سے قبر کو لیپ دیا جاتا۔ گارا (گھانی) بنانے کا کام زیادہ تر مرد حضرات کرتے اور لپائی کا کام خواتین کرتیں جبکہ بچے پورے قبرستان میں مٹر گشت کرتے اور اپنے و دوسرے خاندانوں کی قبریں دریافت کرتے اور ساتھ ہی ساتھ پُھلیاں اور مکھانے وغیرہ بھی جمع کرتے۔
گاؤں کے کچھ لوگ تو بڑے اہتمام کے ساتھ قبروں کی لپائی کرتے لیکن لوگوں کا ایک دوسرا گروہ ایسا تھا جو ہاتھ لٹکاتے ہوئے قبروں پر جاتا۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد کسی سے کسّی (کہی) لے کر مٹی کے دو چار ٹپے اپنے کسی عزیز کی قبر پر ڈالتا اور حجت پوری کر کے گھر چلا آ تا۔ ایک چھوٹا گروہ ایسا بھی تھا جو اتنا بھی ترد د نہ کرتا تھا اور خالی فاتحہ پڑھنے پر ہی اکتفا کرتا تھا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ لوگ قبروں کی لپائی کو درست نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک ایسا کرنا غیر شرعی ہے۔ ان کے آباء کی قبروں کی نشانیاں مٹنے کے قریب ہوتیں لیکن وہ قبروں کو برقرار رکھنے اور ان کی لپائی کے خلاف تھے۔ عام طور پر خواتین ایسی اولادوں کو کوستیں اور ان کے ایسے نظریات کو مرنے والوں کی بدقسمتی قرار دیتیں۔
بچے بھی قبرستان جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ ساتھ لے جانا ضروری سمجھتے تھے۔ قبرستان جاتے ہوئے راستے میں نیم، شیشم، سرس وغیرہ کے درختوں سے ٹہنیاں اور پتے توڑ کر قبرستان پہنچتے اور ایک ایک ٹہنی اپنے اعزہ و اقربا کی قبروں پر ڈالتے جاتے۔ معلوم نہیں ایسا کیوں کیا جاتا تھا، بس ایک بات عام تھی کہ اس سے قبر ٹھنڈی رہتی ہے۔
بچوں کا دوسرا کام پُھلیاں اور مکھانے اکٹھے کرنا تھا لیکن اس کے لئے قرآن پاک کی منزل ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ دراصل بہت سے لوگ خصوصا خواتین قبرستان جاتے ہوئے گاؤں کی دکان سے پھلیاں وغیرہ خرید کر اپنے ساتھ لے جاتیں۔ پُھلیوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہاتھ میں قرآنی سپارے، سورہ یسین یا سورہ رحمن بھی ہوتی۔ پھلیوں کا شاپر قبر کے سرہانے دھر کر وہ قرآن پڑھنے بیٹھ جاتیں اور منزل ختم کر کے ہی پھلیاں بانٹنے کے لئے آواز لگاتیں۔ کھلے قبرستان میں آواز تو شاذوناذر ہی سنتی تھی البتہ ایک ہی سمت بچوں کی سر پٹ دوڑ سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ قبرستان کے کس کونے میں پھلیاں تقسیم ہونے والی ہیں۔ کئی مرتبہ چند بچے ایک طرف کو دوڑتے جنہیں دیکھ کر دوسرے بچے بھی دوڑ پڑتے اور تھوڑا آگے جا کر پتہ چلتا کہ یہ تو پرینک (آج کی زبان میں) ہے۔ پھلیاں اکٹھی کرنے کے لئے بچے گھروں سے ہی شاپر ساتھ لاتے تھے جن میں تقسیم ہونے والی پھلیاں بھر لی جاتی تھیں۔ کس نے کتنی پھلیاں اکٹھی کی ہیں؟ بچوں میں اس بات کا غیر اعلانیہ مقابلہ بھی ہوتا تھا۔ کھانے کے علاوہ یہ پھلیاں اپنے عزیزوں کی قبروں پر بھی ڈالی جاتی تھیں۔ اس بارے میں تصور یہ تھا کہ جب پرندے قبر پر پڑی اِن پُھلیوں کو کھاتے ہیں تو اس سے مرنے والے کو ثواب ملتا ہے اور اس طرح مرحوم کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم باالصواب۔
عام طور پر بچے بوڑھے اور خواتین دن کے دس گیارہ بجے قبرستان سے پلٹ آتے تھے اور واپس پلٹ کر ہی خواتین کجیاں ٹھوٹھیاں تقسیم کرنے کا بندو بست کرتیں۔ یوں بچوں کا سارا دن اسی ٹوہ اور بھاگ دوڑ گزر جاتا کہ کس کس گھر نے کجیاں خرید رکھی ہیں۔ کس گھر میں کجیوں کی بھرائی ہو رہی ہے اور کون کون سا گھر کجیاں تقسیم کرنے کے لئے تیار ہے۔ کجی ٹھوٹھی وصول کرتے ہی کجی کا شربت پی لیا جاتا اور ٹھوٹھی کی کھیر وغیرہ کھا کر انہیں سنبھال لیا جاتا۔ زیادہ کجیاں ٹھوٹھیاں اکٹھی کرنا ایک قابل رشک بات تھی۔ ان کجیوں کو سنبھال کر گھر میں کھلونو ں کے طور پر استعمال کیا جاتا۔ خاص طور پر جب بچے کریانہ سٹور بنا کر کھیلتے تو ناپ تول کے لئے ٹھوٹھیوں کا ترازو بنایا جاتا اور کجیوں میں مختلف اجناس ڈال کر برائے فروخت رکھی جاتیں۔
بچپن میں تو محرم ہمارے نزدیک ایک مذہبی روائیت سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ لیکن جیسے جیسے ہوش سنبھالا اور سنِ شعور کو پہنچے تو محرم الحرام کے معنی بدلتے گئے۔ آج جب محرم کا مہینہ آتا ہے تو کئی سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تاریخی تسلسل کے تناظر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا اہل بیت کی نسبت کے پیشِ نظر ہم درست جگہ پر کھڑے ہیں یا پھر اسی غلطی پر ہیں جو کوفہ والوں نے کی تھی؟ یہی وہ سب سے بڑا سوال ہے جو میں آپ کے لئے چھوڑے جا رہا ہوں۔

نوٹ: یہ یادداشتیں 1985 سے 1995 کے سالوں پر محیط ہیں اور میرے ذاتی حافظے پر مبنی ہیں۔ ان کا مقصد محرم الحرام میں پنجاب کی دیہی زندگی کی مذہبی رسومات کو ریکارڈ پر لانا ہے۔

Author

  • پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سینئر ٹیوٹر ہیں اور یونیورسٹی سے شائع ہونے والے متعدد ادبی و زرعی مجلوں کی ادارت کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں