اسلام آباد سےبرآمد ہونے والے انسانی اعضاء (ہیومن پلیسینٹا) کیا ہیں اور کہاں استعمال ہوتے ہیں؟

اسلام آباد: ایف آئی اے اسلام آباد زون نے سیکٹر ایف سیون اور ای الیون کے دو گھروں پر چھاپے مار کر خواتین میں حمل کے دوران بننے والے “ہیومن پلیسینٹا” کی بڑی مقدار قبضہ میں لے کر تین چینی اور دو پاکستانی شہریوں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان اسلام آباد کے پوش علاقوں میں قائم فیکٹریوں میں ہیومن پلیسینٹا کو پراسیس کر کے اسے “She Placenta” کے برانڈ نام سے بیرونِ ملک، خصوصاً ویتنام، سمگل کر رہے تھے۔ ملزمان کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ HOTA 2010 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں گرفتار ہونے والے ملزمان بھی ہسپتالوں سے ضائع ہونے والا پلیسینٹا کم قیمت پر خرید کر بغیر کسی سٹیرلائزیشن یا میڈیکل اسکریننگ کے اسے پاؤڈر کی شکل میں پراسیس کر کے مہنگے داموں بیرونِ ملک بیچ رہا تھا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک بین الاقوامی سمگلنگ چین سے جڑا ہوا تھا اور ویتنام میں اس کی مانگ کاسمیٹکس سیکٹر میں بہت زیادہ ہے۔ حکام نے اسپتالوں اور ڈسپوزل کمپنیوں سے بھی ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ مواد انہیں کہاں سے مل رہا تھا۔
ہیومن پلیسینٹا کیا ہے؟
اسے عام زبان میں “جیر” یا “آول” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عارضی عضو ہے جو حمل کے دوران ماں کے رحم میں بنتا ہے۔ یہ ماں اور بچے کے درمیان ایک حیاتی پل کا کام کرتا ہے۔ اس کے ذریعے بچے کو ماں کے خون سے آکسیجن، خوراک اور اینٹی باڈیز ملتی ہیں جبکہ بچے کا فضلہ واپس ماں کے جسم میں منتقل ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد پلیسینٹا خود بخود خارج ہو جاتا ہے۔
ہیومن پلیسینٹا کہاں استعمال ہوتا ہے؟
طبی لحاظ سے یہ عضو پروٹین، کولجین، سٹیم سیلز اور نشوونما بڑھانے والے ہارمونز سے بھرپور ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ میڈیکل اور کاسمیٹکس انڈسٹری کے لیے ایک قیمتی بائیو پروڈکٹ بن چکا ہے۔
دنیا بھر میں منظور شدہ لیبارٹریز میں پلیسینٹا سے Amniotic Membrane اور Mesenchymal Stem Cells نکالے جاتے ہیں۔ یہ جلنے کے زخم، ٹھیک نہ ہونے والے زخم اور ہڈیوں کی سرجری میں ٹشو ریپئیر کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ امریکہ میں زخموں کے علاج کے لئے اس سے بننے والی کچھ مصنوعات کی تیاری اور استعمال کی اجازت ہے۔
کاسمیٹکس انڈسٹری میں بھی پلیسینٹا ایکسٹریکٹ اینٹی ایجنگ کریموں، سیرم اور فیشل ٹریٹمنٹ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سکن میں کولیجن کی مقدار بڑھاتا ہے اور رنگت نکھارتا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ ممالک میں اسے ماوں کو زچگی کے بعد تھکاوٹ دور کرنے اور ہارمون متوازن کرنے کے لئے کیپسول کی شکل میں دیا جاتا ہے۔
کیا ہیومن پلیسینٹا کا استعمال مفید ہے؟
اس حوالے سے سائنسی شواہد محدود ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر جانچ پڑتال کے پراسیس کیا گیا پلیسینٹا ناصرف ہائیپاٹائٹس بی اور سی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس سے ایچ آئی وی اور انفیکشن ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت پاکستان میں انسانی اعضاء کی خرید و فروخت، غیر قانونی ٹرانسپورٹ اور ایکسپورٹ مکمل طور پر ممنوع ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے مقرر ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں