کیا پنجابی سائنس کی زبان بن سکتی ہے؟

پنجاب برصغیر کی تہذیبی، زرعی اور علمی تاریخ کا ایک اہم خطہ ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں صدیوں سے مختلف تہذیبیں پروان چڑھتی رہی ہیں، جہاں زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں نے ایک دوسرے کو متاثر کیا اور جہاں سے ادب، فلسفہ، سیاست اور سائنس کے بے شمار نامور افراد پیدا ہوئے۔ اگرچہ پنجاب کو عموماً صوفی شعرا، لوک داستانوں اور زرعی معاشرے کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے لیکن یہ حقیقت کم بیان کی جاتی ہے کہ اس دھرتی نے ایسے سائنس دان بھی پیدا کیے جنہوں نے عالمی سطح پر اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس حقیقت سے یہ تصور بھی رد ہوتا ہے کہ پنجابی زبان یا پنجابی معاشرہ سائنسی فکر پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔
کسی بھی خطے کی علمی شناخت صرف اس کی جامعات یا تحقیقی اداروں سے نہیں بنتی بلکہ ان افراد سے بھی بنتی ہے جو عالمی سطح پر علم کی نئی جہتیں متعارف کراتے ہیں۔ پنجاب کے متعدد سائنس دان اس کی روشن مثال ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام ڈاکٹر عبدالسلام کا ہے۔ جھنگ میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالسلام کی مادری زبان پنجابی تھی۔ انہوں نے نظری طبیعیات میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور 1979ء میں نوبل انعام حاصل کیا۔ الیکٹرو ویک تھیوری پر ان کی تحقیق نے جدید طبیعیات میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ ان کی کامیابی اس حقیقت کی علامت ہے کہ ایک پنجابی بولنے والا فرد عالمی سائنس کی قیادت کر سکتا ہے۔
اسی طرح شانتی سروپ بھٹناگر، جن کی پیدائش ضلع شاہ پور کے تاریخی شہر بھیرہ میں ہوئی، برصغیر کے عظیم ترین کیمیا دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے طبیعی کیمیا، صنعتی تحقیق اور سائنسی اداروں کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں متعدد قومی تحقیقی تجربہ گاہیں قائم ہوئیں اور وہ جدید ہندوستان کے سائنسی ڈھانچے کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔ آج بھی بھارت کا سب سے بڑا سائنسی اعزاز “شانتی سروپ بھٹناگر پرائز” انہی کے نام سے منسوب ہے۔
ہرگوبند کھرانہ بھی پنجابی النسل سائنس دان تھے۔ ان کی مادری زبان بھی پنجابی تھی۔ انہوں نے جینیاتی کوڈ کی تفہیم اور حیاتی کیمیا میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور 1968ء میں نوبل انعام حاصل کیا۔ ان کی تحقیقات نے جدید جینیات اور حیاتیاتی سائنس کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔
اسی طرح نریندر سنگھ کپانی کو فائبر آپٹکس کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ آج انٹرنیٹ، ٹیلی کمیونیکیشن اور جدید مواصلاتی نظام جن اصولوں پر قائم ہیں، ان میں کپانی کی تحقیقات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ پیارا سنگھ گل نے جوہری طبیعیات میں اہم خدمات انجام دیں، جبکہ متعدد دیگر پنجابی سائنس دان دنیا کی مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ پنجابی زبان بولنے والے افراد میں علمی استعداد کی کوئی کمی نہیں رہی۔ تاہم یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پنجابی بولنے والوں نے سائنس میں اتنی بڑی خدمات انجام دی ہیں تو پھر پنجابی زبان خود سائنس کی زبان کیوں نہ بن سکی؟
اس سوال کا جواب زبان اور علم کے تعلق میں پوشیدہ ہے۔ زبان بذاتِ خود نہ ترقی یافتہ ہوتی ہے اور نہ پسماندہ۔ زبان ایک وسیلہ، ایک فارم اور اظہار کا ذریعہ ہوتی ہے۔ علمی ترقی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی زبان میں مسلسل تحقیق، تصنیف، تدریس، ترجمہ اور اصطلاح سازی کا عمل جاری رہے۔ انگریزی، جرمن، فرانسیسی، جاپانی، چینی اور کوریائی زبانیں اس لیے سائنسی زبانیں بنیں کہ ان معاشروں نے صدیوں تک اپنے تعلیمی اور تحقیقی نظام انہی زبانوں میں استوار کیے۔
اگر کل سے پنجاب کی تمام جامعات میں پنجابی کو ذریعۂ تعلیم بنا دیا جائے تو کیا سائنسی ترقی فوراً شروع ہو جائے گی؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ اسی طرح اگر انگریزی کو ختم کر دیا جائے تو تحقیق رک جائے گی، کیونکہ جدید سائنسی ادب، تحقیقی جرائد، ڈیٹا بیس، مصنوعی ذہانت، طب، انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کا بیشتر سرمایہ انگریزی میں موجود ہے۔ اس لیے مسئلہ زبان نہیں بلکہ علمی وسائل تک رسائی ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پنجابی سائنسی زبان نہیں بن سکتی۔ اگر ریاست، جامعات اور علمی ادارے مشترکہ طور پر جدید سائنسی اصطلاحات وضع کریں، اعلیٰ معیار کی درسی کتابیں تیار کریں، عالمی تحقیقی مواد کا ترجمہ کریں اور پنجابی میں تحقیق کی روایت قائم کریں تو چند دہائیوں میں یہ زبان بھی سائنس کے اظہار کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ دنیا میں جاپانی، کوریائی، چینی اور عبرانی زبانوں نے یہی سفر طے کیا ہے۔
لہٰذا پنجابی زبان کے نفاذ کو سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینا درست نہیں، لیکن موجودہ حالات میں اسے واحد ذریعۂ تعلیم بنا دینا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ مادری زبان میں ابتدائی تعلیم کو فروغ دیا جائے، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں انگریزی کے ساتھ پنجابی میں بھی تدریجی طور پر علمی سرمایہ پیدا کیا جائے۔ اس دو لسانی ماڈل سے طلبہ اپنی تہذیبی شناخت بھی برقرار رکھ سکیں گے اور عالمی علمی دنیا سے بھی جڑے رہیں گے۔
آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سائنس کسی خاص زبان کی میراث نہیں۔ سائنس انسانی عقل، تحقیق اور تجربے کا نام ہے۔ زبان صرف اس علم کو منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر کسی زبان میں علمی سرمایہ پیدا کیا جائے تو وہ سائنس کی زبان بن سکتی ہے، اور اگر کسی زبان میں تحقیق نہ ہو تو وہ محض روزمرہ گفتگو تک محدود رہ جاتی ہے۔ پنجاب کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس دھرتی نے ایسے سائنس دان پیدا کیے جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدلنے میں کردار ادا کیا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی علمی روایت کو پنجابی سمیت تمام مقامی زبانوں میں منتقل کیا جائے تاکہ علم صرف چند زبانوں تک محدود نہ رہے بلکہ ہر فرد کی دسترس میں آ سکے۔

Author

  • ڈاکٹر عبدالعزیز ملک گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں