گندم کی فصل پر ریسرچ کرنے والے 13 مراکز کے لئے کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی مشینری فراہم

فیصل آباد: انٹرنیشنل میز اینڈ ویٹ امپرومنٹ سینٹر (CIMMYT) میں ‘گلوبل ویٹ پروگرام’ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فلاویو بریسگیلو کی قیادت میں زرعی سائنسدانوں کے ایک وفد نے گندم کی افزائشِ نسل (بریڈنگ) کے شعبے میں جاری زرعی تحقیق اور باہمی تعاون کا جائزہ لینے کے لیے ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (AARI)، فیصل آباد کا دورہ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمٰن اور چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد نے وفد کے شرکاء کو پنجاب میں جاری زرعی تحقیق کے علاوہ بین الاقوامی ادارہ سمٹ کے اشتراک سے گندم کی متعارف کردہ اقسام کے متعلق بریفنگ دی۔ ڈاکٹر ساجد الرحمٰن نے کہا کہ ادارہ کے زرعی سائنسدانوں نے 1960 سے لیکر ابتک گندم کی 70 سے زائد اقسام متعارف کروائی ہیں جن میں میکسی پاک، انقلاب، سحر، پنجاب 2011, فیصل آباد 2008، اکبر، گلیکسی، دلکش بھکر سٹاف، فخر بھکر، نواب، سویرا اور فلک شامل ہیں۔ ڈاکٹر فلیویو بریسو گھیلو نے کہا کہ بین الاقوامی ادارہ سمٹ 1960 کی دہائی سے پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لئے تعاون کرتا آرہا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ سمٹ کے پاکستان میں جرم پلازم کی منتقلی اور مقامی اقسام سے کراسنگ کے ذریعے متعارف کردہ گندم کی اقسام کی تیاری کے بعد پہلے زرعی انقلاب کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نے پاکستان میں گندم کی فصل پر ریسرچ کرنے تمام 13 مراکز کے لئے کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی مشینری فراہم کی ہے۔ اس جدید مشینری کے استعمال سے زرعی ریسرچ میں بہتری لانے میں خاطر خواہ مدد ملے گی اور پاکستان میں زرعی خود کفالت کا حصول ممکن ہو گا۔ اس موقع پر ایک زرعی سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں زرعی سائنسدانوں نے گندم کی تحقیق کے دوران فصل کی کاشت سے برداشت تک کے مختلف مراحل کے دوران جدید زرعی مشینری کے استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں