فیسکو چیف محمد عامر کے خلاف 32 کروڑ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج

فیصل آباد: ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو فیصل آباد نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے چیف ایگزیکٹو محمد عامر پنوں اور ان کے بیٹوں کے خلاف 32 کروڑ 96 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کی مبینہ ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ٹیکس سال 2025 اور 2026 کے دوران مبینہ طور پر ٹیکس ادا نہ کی گئی رقوم کو بیٹوں کے نام تحائف اور جائیدادوں کی خریداری کے ذریعے اثاثوں میں تبدیل کیا گیا۔ مقدمے میں عامر پنوں کے تین بیٹوں محمد ہادی، محمد سعد اور محمد ابراہیم سمیت دیگر متعلقہ افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق اثاثہ جات کے گوشواروں میں سابقہ برسوں کی نقد رقوم میں ردوبدل کیا گیا۔ ٹیکس سال 2014 کے گوشوارے میں 35 لاکھ روپے نقد ظاہر کیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں مبینہ طور پر بڑھا کر 73 کروڑ 35 لاکھ روپے کر دیا گیا، جبکہ اس سال ظاہر کردہ آمدن 11 لاکھ 39 ہزار 714 روپے تھی۔ایف آئی آر کے مطابق 2025 اور 2026 میں بیٹوں کو اربوں روپے کے تحائف ظاہر کیے گئے اور فیصل آباد و چنیوٹ میں زرعی اراضی سمیت دیگر اثاثوں کی خریداری کا معاملہ بھی مقدمے کا حصہ ہے جبکہ الزام ہے کہ گوشواروں میں مبینہ ردوبدل اور رقوم کی منتقلی کے ذریعے اثاثوں کے اصل ماخذ کو چھپایا گیا۔مقدمہ انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ عامر پنوں نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ معاملہ ان کی وراثتی جائیدادوں کا ہے، جنہیں آمدن ظاہر کرکے قابلِ ٹیکس آمدن کا معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایف بی آر کی جانب سے درج مقدمے کا سامنا کریں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں