یہ فقیر نہ ماہر تعلیم ہے نہ اعداد کا مجتہد بس ایک طالبِ علم ہے جو اہلِ نظر کی مجلس میں دو حرف رکھنے کی جسارت کرتا ہے۔ سو اگر کہیں لہجہ تلخ ہو جائے تو اسے فقیر کی کم عقلی پر محمول کیجیے، نیّت پر نہیں۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں ۔
بجٹ کی صبح ہے۔ چائے کی پیالی کے پہلو میں اخبار کھلے پڑے ہیں، اور سرخیاں ایک ہی راگ الاپتی ہیں۔ ابھی وزیرِ خزانہ کی تقریر کی سیاہی خشک نہیں ہوئی کہ ملک بھر میں ایک مدھر سا ماتم اٹھ کھڑا ہوتا ہے: ”تعلیم کے حصے میں پھر کم آیا“۔ ”Save the Children“ والے اعلان کرتے ہیں کہ تعلیمی خرچ ”نئی پست ترین سطح“ کو چھو گیا؛ ملالہ فنڈ نوحہ کرتا ہے کہ وفاقی بجٹ ایک ہی برس میں چوالیس فی صد گھٹ گیا ؛ جامعات کے اساتذہ کی انجمن پورے وفاقی بجٹ کو ”مسترد“ کر دیتی ہے؛ اور اداریے وہی پرانی صدا بلند کرتے ہیں ”چار فی صد کا وعدہ، جسے یہ ملک پورا کرنے سے انکاری ہے۔“ یہ سالانہ ماتم اب ایک رسم ہے، اور رسم کی اپنی تسکین ہوتی ہے۔فقیر کو اِس ماتم سے انکار نہیں۔بس اتنا عرض ہے اُسی رپورٹ کے حاشیے میں، ایک جملہ ایسا بھی چھپا ہوتا ہے جسے کوئی نہیں پڑھتا۔ وہی ادارہ ”پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن“ جسکے اعداد سے یہ سرخیاں بنتی ہیں، خود لکھتا ہے کہ ”اضافے کا اثر اِس پر منحصر ہے کہ رقم مؤثر طور پر خرچ ہو اور تعلیمی نتائج میں ڈھلے۔“ سرخی شور مچاتی ہے، حاشیہ سرگوشی کرتا ہے مگر سرگوشیاں کون سنتا ہے بھلے اصل بات حاشیے میں ہی ہو۔
اِس ماتم سے دو غم جنم لیتے ہیں، اور دونوں جائز معلوم ہوتے ہیں۔ پہلا: دو کروڑ پچاس لاکھ سے زائد بچے مکتب سے باہر ہیں دنیا کی دوسری بڑی تعداد۔ دوسرا: جو اندر ہیں، وہ بھی سیکھ نہیں رہے۔ اور پھر فوراً نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ اِن دونوں غموں کی جڑ ایک ہی ہے”بجٹ کم ہے۔“ یہیں فقیر نہایت ادب سے ہاتھ اٹھاتا ہے، اور عرض کرتا ہے کہ جناب، روشنی جہاں ہے، ملّا نصیرالدینؒ کی چابی شاید وہاں نہیں۔
دلیل سے پہلے ذرا میدان کی وسعت دیکھ لیجیے، کہ بات ہوا میں نہ رہے۔ پاکستان کا نظام مکاتب دنیا کے بڑے نظاموں میں سے ہے۔ تازہ سرکاری اعداد کے مطابق طلبہ کی تعداد قریب پانچ کروڑ تراسی لاکھ کو پہنچ چکی ہے، اور اساتذہ چودہ لاکھ کے لگ بھگ۔ مگر اِس ہجوم کے باوجود قریب دو کروڑ پچاس لاکھ بچے مکتب کی دہلیز سے باہر ہیں۔ اور جو اندر ہیں، اُن کا سفر ہر درجے پر سمٹتا چلا جاتا ہے: پرائمری میں قریب دو کروڑ، مڈل میں بانوے لاکھ، میٹرک میں سینتالیس لاکھ، انٹر میں اٹھائیس لاکھ، اور جامعہ تک پہنچتے پہنچتے بمشکل سات لاکھ۔ یہ نظام ہر سیڑھی پر خراج لیتا ہے۔اور غور کیجیےاسکولوں کی عمارتیں اِس کہانی کا اصل دکھ نہیں۔ سرکاری گنتی خود بتاتی ہے کہ قریب چھیانوے فی صد مکتبوں کی عمارت پختہ ہے، بانوے فی صد میں بیت الخلا، اور بیاسی فی صد میں صاف پانی۔ سو دیواریں کھڑی ہیں، چھتیں موجود ہیں، کمی دیواروں کی نہیں، اُس چیز کی ہے جو دیواروں کے اندر ہونی چاہیے۔
مولانا رومؒ نے اِس المیے کی صورت گری صدیوں پہلے کر دی تھی۔ ایک نحوی کشتی میں بیٹھا اور ملّاح سے، ذرا تکبر سے، پوچھا: ”تُو نے نحو پڑھی ہے؟“ ملّاح نے سادگی سے کہا: ”نہیں، حضور“ ۔ نحوی بولا: ”افسوس، تیری آدھی عمر اکارت گئی۔“ ملّاح نے سر جھکا لیا اور چپ رہا۔ پھر آسمان نے رنگ بدلا، طوفان اٹھا، اور کشتی بھنور میں ڈولنے لگی۔ اب ملّاح نے پلٹ کر پوچھا: ”حضور، تجھے تیرنا آتا ہے؟“ نحوی نے کانپتے ہوئے کہا: ”نہیں۔“ ملّاح نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا:”اے نحوی! تیری ساری عمر اکارت گئی کہ یہاں علمِ نحو نہیں، علمِ شنا وری درکار ہے۔“ہمارا مکتب بھی بچے کو ”نحو“ کے رجسٹر میں چڑھا لیتا ہے، مگر زندگی کے طوفان میں تیرنا نہیں سکھاتا۔ حاضری لگتی ہے، شعور نہیں جاگتا؛ سند ملتی ہے، ہنر نہیں۔
سو اب اُن فسانوں کا دامن ٹٹولنے کی اجازت چاہیے جو ”بجٹ کی کم مائیگی“ کے گرد بُنے گئے ہیں اور فقیر ہر دعوے کے ساتھ وہ گواہ پیش کرئیگا جس تک قاری خود پہنچ سکے۔پہلے ایک ادنیٰ سی گرہ۔ تعلیم اور مکتب ایک شے نہیں۔ ”تعلیم“ کی چادر بڑی کشادہ ہےجامعات، کمیشن، طبی و فنی کالج، وظائف۔ مگر جس بچے کا ہم ماتم کرتے ہیں، اُس کا تعلق اِس کشادہ چادر سے نہیں، اُس کے ایک ننھے پیوند سے ہے: مکتبِ ابتدائی۔ سو جب تک جامعہ کے بجٹ کو مدرسے کے بجٹ سے جدا نہ کریں، اپنے ہی اعداد کے فریب میں رہیں گے۔
اب کھاتہ کھلتا ہے۔ مکتب کی تعلیم تو آئین کی رُو سے ہمیشہ سے صوبوں کی ذمہ داری رہی ہے، یہ اٹھارہویں ترمیم کی پیداوار نہیں سو اصل تماشہ وہیں بپا ہے۔ پنجاب نے پچھلے برس محکمۂ تعلیم کیلئے قریب سات کھرب روپے رکھے، جن میں چھ کھرب کے قریب صرف تنخواہوں کی مَد میں۔ پھر ایک اور پردہ اٹھتا ہے، اور یہ ”I-SAPS“ کے ’پبلک فنانسنگ آف ایجوکیشن‘ نامی مطالعے کا نچوڑ ہے: تعلیم کی کل لاگت پچاس کھرب روپے سے متجاوز ہے جو کہ جی ڈی پی کا قریب ساڑھے چار فیصد بنتا ہے، جس میں سے قریب اٹھائیس کھرب گھرانوں کی جیب سے اور قریب بائیس کھرب سرکار کے میزان سے تاریخ میں پہلی بار والدین کا پلڑا بھاری ہے۔ اِسی میں قریب چھ سو ارب محض ٹیوشن پر اٹھتا ہے:یعنی والدین دوبارہ ادا کرتے ہیں، اِس لیے کہ مکتب نے پہلی بار کچھ نہ پڑھایا۔ خزانہ خالی نہیں کاسہ سوراخ دار ہے۔
اب وہ تین فسانے۔ پہلا: ”اساتذہ کم پڑھے لکھے ہیں۔“ حقیقت اِس کے برعکس ہے، اور اصل بات اور بھی چونکا دینے والی۔ لیپس (LEAPS) کا وہ معروف مطالعہ، جو پنجاب کے دیہات میں برسوں چلا، بتاتا ہے کہ سرکاری و نجی اساتذہ تقریباً یکساں اسناد رکھتے ہیں؛ مگر استاد جو ”حاصلِ تدریس“ بچے تک پہنچاتاہے، اُس کا بمشکل پانچ فی صد اُس کی سند، تربیت یا ڈگری سے بیان ہوتا ہے۔ سند ایک نقاب ہے اصل ہنر اُس کے پیچھے ہے۔ دوسرا فسانہ: ”اساتذہ کو تنخواہ کم ملتی ہے۔“ معاملہ اُلٹا ہے۔ اِسی ’لیپس‘ کے اعداد پر تحقیق کہتی ہے کہ سرکاری استاد اوسطاً نجی استاد سے کوئی پانچ گنا زیادہ پاتا ہے ایک لاکھ سے اوپر کمانے والے ہر سو میں سے چورانوے سرکاری مکتب کے ہیں اور سب سے کاری وار: ایک تجزیے میں تنخواہ پینتیس فی صد گھٹا کر دیکھی گئی، تو حقیقی تدریس پر ذرا فرق نہ پڑا۔ سو اجرت وہ زنجیر نہیں جس سے تدریس بندھی ہے۔ تیسرا فسانہ کہ ”بجٹ کم ہے“، جس کا پردہ اوپر چاک ہوا۔ تو اصل گرہ کہاں ہے؟ فقیر کی ناقص رائے میں نظامِ کار ۔ وہی ’لیپس‘ والی تحقیق کہتی ہے کہ نجی مکتب میں جو استاد زیادہ پڑھاتا ہے اُسے زیادہ ملتا ہے، مگر سرکاری مکتب میں اجرت اور حاصلِ تدریس کے بیچ کوئی رشتہ ہی نہیں۔ اور پھر یہ کہ ابتدائی جماعتوں میں اساتذہ کی غیر حاضری 17 فیصد تک جا پہنچتی ہے، اور سندھ میں تو ہزارہا اساتذہ ایسے نکلے جو مہینے میں ایک دو بار مکتب کا منہ دیکھتے ہیں۔ چونکہ تنخواہیں جاری اخراجات کا اسّی فی صد ہیں، غیر حاضری کا ہر لمحہ خالی کمرے کو دی گئی تنخواہ ہے۔ ہم دو کروڑ پچاس لاکھ بچوں کے مکتب سے باہر ہونے پر کہرام مچاتے ہیں، اور بجا مچاتے ہیں۔ مگر ذرا اُن پانچ کروڑ سے زائد کی بھی خبر لیجیے جو مکتب کے اندر ہیں: عالمی بینک اور ’اے ایس ای آر ASER جیسے پیمانے بتاتے ہیں کہ دس میں سے قریب آٹھ بچے دس برس کی عمر کو پہنچ کر بھی ایک سادہ عبارت پڑھ کر سمجھ نہیں پاتے۔ سو ”اندر رہ کر نہ سیکھنے والوں“ کا شمار اُن سے کہیں بڑھ کر ہے جو باہر ہیں۔ اگر ہم اِنہی دو کروڑ پچاس لاکھ کو اِسی مکتب میں ٹھونس دیں، تو ”باہر کے بچے“ کو محض ”اندر کے ناخواندہ“ میں بدل دیں گے ایک نالائقی سے دوسری نالائقی کا سفر کتنا آسان ہوتا ہے۔
فقیر یہ ہرگز عرض نہیں کرتا کہ بلوچستان کی اُس بچی کو مکتب نہ پہنچائیے جو مکتب کی دہلیز سے باہر کھڑی ہے، پہنچنا اس کا حق ہے، ایک قرض ہے جو ہم سب پر واجب ہے۔ عرض صرف اتنا ہے کہ دہلیز پار کرا دینا کافی نہیں اور جب ہمارے فراہم کردہ کمرے ہی کچھ نہیں سکھاتے، تو ”اور کمرے“ بنانا اصل علاج نہیں۔ اصل سوال ”نشستوں کی تعداد“ نہیں ، ”فی نشست ترسیل تعلیم“ ہے اور اب اصل گواہ، جو کسی دیس بدیس میں نہیں، اِسی گلی کے اُس پار کھڑا ہے۔ سرکاری مکتب کے عین سامنے ایک کم خرچ نجی مکتب ہے: وہی گاؤں، وہی بچے، وہی ہوا۔ اپنے استاد کو سرکاری استاد کے مقابلے میں بمشکل پانچواں حصہ تنخواہ دیتا ہے، اور اکثر ایسی نوجوان، کم سند یافتہ معلمہ رکھتا ہے جسے سرکار شاید دروازے پر بھی نہ بٹھائے۔ پھر بھی اور یہی لیپس (LEAPS) کی تحقیق کا چونکا دینے والا نتیجہ ہے وہ کم تنخواہ، کم سند والی معلمہ سرکاری استاد سے بہتر پڑھاتی ہے۔ سو نہ روپیہ، نہ سند: کم خرچ پر زیادہ حاصل، عین ہمارے آنگن میں۔
تو پھر بھید کس میں ہے؟ فقیر کی ناقص رائے میں بس ایک فرق دونوں مکتبوں کے بیچ کھڑا ہے: ترغیب کا ڈھانچا۔ نجی مکتب کا مالک اُس استاد کو، جو محنت نہ کرے، فارغ کر سکتا ہے اور اُس کی اپنی روزی بندھی ہے اِس بات سے کہ وہ کتنے بچے اپنے مکتب کھینچ لاتا ہے، سو پڑھائی اُس کیلئے نفع و نقصان کا معاملہ ہے، نہ کہ سرکاری مہربانی۔ اِس کے برعکس سرکاری استاد ایک ’سرکاری ملازم‘ ہے نہ آسانی سے رکھا جاتا ہے نہ ہٹایا جا سکتا ہے۔ ’لیپس‘ ہی کی تحقیق کہتی ہے کہ سرکاری نظام میں اجرت کا رشتہ سند اور برسوں سے ہے، حاصلِ تدریس سے نہیں؛ جب کہ جہاں کارکردگی سے بندھی تنخواہ آزمائی گئی، وہاں بہتر اساتذہ خود کھنچے چلے آئے۔ ثبوت چاہیے تو خود پنجاب میں موجود ہے۔ حکومت نے اپنے بدترین کارکردگی والے ہزارہا سرکاری مکاتب نجی منتظمین کے سپرد کیے، اپنی ہی فی بچہ لاگت سے کہیں کم پر اِس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے استاد خود رکھیں گے۔ سو رکاوٹ روپے کی نہیں، اُس زنجیر کی ہے جو محنت کو انعام اور سستی کو سزا سے جوڑتی ہے اور جو سرکاری مکاتب میں سرے سے ٹوٹی ہوئی ہے۔ جو اپنے سامنے کے سبق سے آنکھ چرائے، اُسے کوئی نہیں پڑھا سکتا۔
سو علاج کیا ہے؟ اگر بھید ترغیب کے ڈھانچے میں ہے، تو شفا بھی وہیں ہے اور علاج مرض کی شدت کے مطابق۔ جو سرکاری مکتب برسوں سے ناکام پڑے ہیں، اُن کی نظامت بے کھٹکے ایسے ہاتھوں میں دیدی جائے جو محنت کو پرکھ سکیں اور کاہلی کو چلتا کریں، جیسا پنجاب پہلے کر چکا ہے۔ خرچ سرکار کا، نگرانی سرکار کی، مگر چلانے کا ہنر اُس کے سپرد جسے بچے کا سیکھنا اپنا نفع و نقصان معلوم ہو۔ فقیر یہ نہیں کہتا کہ یہ راہ کانٹوں سے خالی ہے۔ ہر نجی منتظم فرشتہ نہیں؛ کہیں منافع کی ہوس بچے کی حفاظت اور برابری پر بھاری پڑ سکتی ہے اور خود عالمی بینک خبردار کرتا ہے کہ نجی منتظمین کے نتائج ہر جگہ یکساں نہیں رہے۔ سو یہ سپردگی آنکھ بند کر کے نہ ہو، بلکہ کڑی شرطوں اور سخت نگرانی کے ساتھ اور رہیں اساتذہ کی انجمنیں ،ہاں، یہ راہ کا سب سے بڑا پتھر ہیں، اور فقیر اِس سے آنکھ نہیں چراتا۔ مگر کوئی انجمن کب تک ایک پوری قوم کے بچوں کو یرغمال بنائے رکھ سکتی ہے؟ کسی نہ کسی دن، کوئی نہ کوئی حکومت اُٹھے گی اور انجمنوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہے گی کہ میز پر فیصلہ طلب مسئلہ بچے کی تعلیم ہے استاد کی مراعات، تحفظ اور تاحیات وظیفہ نہیں۔
سو فقیر کی ناقص رائے میں حاصلِ بحث یہ ہے کہ تعلیمی بجٹ کا کم ہونا ایک افسانہ ہے، بے ثمر خرچ ایک حقیقت۔ ملّا نصیرالدینؒ کی وہ چابی، جو ہم برسوں سے لیمپ کے نیچے ڈھونڈ رہے ہیں وہاں ہے ہی نہیں، وہ اُسی اندھیرے کونے میں پڑی ہے، جواب دہی کے کونے میں۔ چراغ میں تیل کی کمی نہیں بتی جل کر بجھ چکی ہے اور لَو کہیں اور بھٹک رہی ہے۔ رِستا ہوا کوزہ بدلیے، جواب دہی کی بتی سنواریے، اور ہر بچے کو اُس کی اپنی سطح پر پڑھائیے پھر یہی کھرب، جو آج بے سبب برباد ہو رہے ہیں، حرف اور شعور کی فصل اگانے لگیں گے۔
بشکریہ روزنامہ جنگ
تحریر: راشد محمود لنگڑیال (چئیر مین ایف بی آر)