فیصل آباد: ری سائیکلنگ کے غیر رسمی شعبے کو رسمی ویلیو چین میں ضم کرنے سے نہ صرف ماحولیاتی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ برآمدی مسابقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار پہلی انٹرنیشنل ری سائیکلنگ کانفرنس میں شریک ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندوں، محققین اور ماہرین نے کیا ہے۔ اس کانفرنس کا انعقاد یونیورسٹی آف کمالیہ نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد اور جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد کے اشتراک سے کیا تھا۔
یونیورسٹی آف کمالیہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یاسر نواب نے افتتاحی سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ری سائیکلنگ اور سرکلر اکانومی پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی مسائل حل کرنے کے لئے یونیورسٹیوں، صنعتوں اور پالیسی سازوں کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔ کانفرنس میں ٹیکسٹائل کی ری سائیکلنگ، سرکلر بزنس ماڈلز، پلاسٹک ویسٹ، گندے پانی کا دوبارہ استعمال، بائیو انرجی اور ویسٹ ٹو انرجی کے موضوعات پر پینل ڈسکشن میں پاکستان کے علاوہ جرمنی، کینیا، سری لنکا، برطانیہ اور ہالینڈ کے ماہرین نے سرکلر صنعتی نظام کے لیے عالمی تجربات اور جدید حل کا اشتراک کیا۔
ماہرین نے فیصل آباد کو “سرکلر سٹی” بنانے کے لئے صنعتوں، میونسپلٹی، تعلیمی اداروں اور کاروباری افراد کو کچرے میں کمی اور وسائل کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔
ماہرین نے کہا کہ ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنانے، پائیدار پیداوار کو فروغ دینے اور صنعتی کاربن کے اخراج کو کم کرنے سے فیصل آباد کو عالمی سپلائی چینز میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی جبکہ پاکستان کے موسمیاتی اور پائیداری کے اہداف کا حصول بھی ممکن بنایا جا سکے گا۔
کانفرنس کا اختتام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے سرکلر اکانومی کے اقدامات پر تعاون جاری رکھنے اور پائیدار شہری اور صنعتی تبدیلی کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔
