وزارتِ قومی صحت اور لمز کے نیشنل اے آئی ہب میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط

لاہور: لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے نیشنل آرٹیفشل انٹیلیجنس ہب نے وزارتِ قومی صحت کے ساتھ مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد پاکستان کے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے جس میں بالخصوص زچہ بچہ کی صحت بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
اس معاہدے کے تحت صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تحقیق، جدت، شواہد کی تیاری، پالیسی سازی میں تعاون اور استعداد کار میں اضافے کے لیے باہمی تعاون کا ایک فریم ورک تیار کرنے کے علاوہ قومی ترجیحات کا تعین، مصنوعی ذہانت پر مبنی سلوشنز کی تیاری اور جانچ میں تعاون کے ذریعے صحت کے قومی نظام میں مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور مؤثر انضمام کو فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزارتِ قومی صحت کی جانب سے وفاقی سیکریٹری محمد اسلم غوری، ڈائریکٹر جنرل (پاپولیشن) ڈاکٹر شبانہ سلیم، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد ڈاکٹر رشیدہ بتول، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر اسلام آباد محمد ایوب اور ڈپٹی ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) ڈاکٹر بینش شریک ہوئیں جبکہ لمز کی نمائندگی ڈاکٹر طارق جدون اور ڈاکٹر آغا علی رضا کر رہے تھے۔ اس موقع پر گیٹس فاونڈیشن کے کنسلٹنٹ نوید اکبر بھی موجود تھے۔
اس موقع پر محمد اسلم غورینے کہا کہ یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ڈاکٹر طارق جدون نے کہا کہ یہ شراکت داری بین الشعبہ جاتی تحقیق کو عملی عوامی فائدے میں تبدیل کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گی۔
پاکستان میں ڈیجیٹل صحت کے شعبے کو فروغ دینے کی قومی کوششوں کے تناظر میں اس مفاہمتی یادداشت کو مساوی صحت کے نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس سے ملک بھر میں زچہ بچہ کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں