ٹیکس کی شرح میں اضافہ کئے بغیر محصولات بڑھانے کے لئے ٹیکسیشن کا نظام ڈیجٹلائز کیا جائے گا، وزیر خزانہ

فیصل آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ نادرا اور ایف بی آر کا ریکارڈ آپس میں منسلک کرکے ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے جس سے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیے بغیر محصولات کی وصولی بڑھائی جا سکے گی اور ٹیکس چوری کا بھی خاتمہ ہو گا۔ وہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری طبقے کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجٹیلائزیشن کا عمل شوگر سیکٹر سے شروع کیا گیا تھا جس سے 60 ارب روپے کا اضافی سیلز ٹیکس وصول ہوا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق ایس ایم ای سیکٹر کیلئے میڈیم ٹرم ٹیکس حکمت عملی متعارف کرائی جائے گی جس سے ٹیرف رجیم میں کمی ہو گی جبکہ زرعی مشینری پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈوانس ٹیکس کو صفر کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس پوسٹ بجٹ میٹنگ نہیں بلکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں کی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری اب فنانس ڈویژن کے پاس ہے جبکہ ایف بی آر صرف ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور ٹیکس وصولیوں سے متعلقہ مسائل دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے معاشی ترقی کیلئے نجی شعبہ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کو فنانسنگ بہتر بنانے کے لئے شرح سود 22 فیصد سے کم کر کے 11.5 فیصد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کا تنازعہ ختم ہو جاتا ہے تو آئندہ سال شرح سود میں مزید کمی متوقع ہے۔ ایکسپورٹرز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں جو رقم رکھی گئی ہے وہ “انکریمنٹل اماونٹ” ہے جبکہ اگلے بجٹ میں اس سیکٹر کو مزید مراعات دی جائیں گی۔ بجلی کے ٹیرف سے متعلق انہوں نے کہا کہ کراس سبسڈیز ختم کر دی گئی ہیں جس سے بجلی کے ریٹ مزید کم ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ انڈسٹری کی مشاورت سے ایڈوانس اور سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے آئی ٹی سیکٹر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدات میں ساڑھے چار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کو سپورٹ کرنے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں گے تاکہ اسے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت تعمیرات کے شعبہ کی حوصلہ افزائی کرے گی مگر فائلوں کے کاروبار کیلئے کوئی سہولت نہیں ملے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران کا مسئلہ حل ہونے سے علاقائی تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور وہ امریکہ سے بھی ٹیرف میں مزید مراعات لینے کی کوششیں کر رہے ہیں جس سے ان ملکوں کو برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کے ایم ڈی سے بات کر کے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے نفاذ کا جائزہ لیا جائے گا اور اس سلسلہ میں تمام متعلقین کے ساتھ ساتھ فیصل آباد چیمبر کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کیلئے الگ رقم مختص کی جائے گی تاکہ یہ شعبہ تیزی سے ترقی کر سکے۔
قبل ازیں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں کاروباری طبقے کی طرف سے پیش کی گئی بہت سی سفارشات شامل کر لی گئی ہیں لیکن جن پر عملدرآمد نہیں ہوا ان پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بجٹ کی تیاری میں چیمبرز کو شامل نہیں کیا جاتا تھا جبکہ اس بجٹ کی تیاری میں سب سے مشاورت کی گئی ہے جس سے مائیکرو فیبرک اور ویلیو ایشن کے بہت سے مسائل صرف ڈیڑھ ماہ میں حل ہو گئے ہیں۔
انہوں نے برآمدات کو معیشت کی لائف لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت برآمدات کو 60 بلین ڈالر تک بڑھانا چاہتی ہے جبکہ ہم اسے 100 ارب ڈالر تک لے کر جا سکتے ہیں لیکن اس کیلئے علاقائی مسابقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کم از کم 10 سالہ پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر کو 24 سے 26 جولائی تک لاہور ایکسپو سنٹر میں لگنے والی فیصل آباد ایکسپو میں شرکت کی بھی دعوت دی اور کہا کہ انہیں فیصل آباد میں ایکسپو سنٹر کے قیام کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں