
شاہی قلعہ لاہور کی “پکچر وال” دنیا کی سب سے لمبی تصویری دیواروں میں سے ایک ہے جو کہ تقریباً نصف کلومیٹر طویل اور 60 فٹ بلند ہے۔ اس دیوار میں تین سطحوں پر دو ہزار پینل لگے ہوئے ہیں جو الگ الگ مناظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ پینل جلوسوں، شکار کی مہمات، ہاتھیوں کی لڑائیوں اور افسانوی شخصیات جیسے فرشتے، شیطان، بلاوں اور پریوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پھولوں کے نمونوں و شاہی دربار کے مناظر پر مشتمل ہیں۔

یہ دیوار خطے کے بھرپور ثقافتی تنوع کی عکاسی کرتی ہے جس میں فارس، وسطی ایشیا، یورپ اور جنوبی ایشیا کے فنکارانہ اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ مغل شہنشاہ جہانگیر اور شاہجہاں کے دور میں تعمیر ہونے والے اس پیچیدہ تاریخی ڈھانچے کے تحفظ میں متعدد شعبوں کے ماہرین کے ساتھ ساتھ مقامی اور بین الاقوامی اداروں کا اشتراک شامل ہے۔ پکچر وال کنزرویشن پروجیکٹ کی قیادت آغا خان کلچرل سروس پاکستان نے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے اشتراک سے کی ہے جس میں بین الاقوامی عطیہ دہندگان بشمول یو ایس ایمبیسیڈرز فنڈ فار کلچرل پرزرویشن، رائل نارویجن ایمبیسی اور جرمن سفارت خانے کے ذریعے جرمن وفاقی دفتر خارجہ شامل تھے۔

اس منصوبے نے “پکچر وال” کی بحالی کے ذریعے ورثے کو محفوظ کرنے کے علاوہ روایتی دستکاری کی مہارتوں کو بھی دوبارہ زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے رسمی تعلیمی قابلیت نہ رکھنے والے مقامی دستکاروں کی نئی نسل جن میں بہت سی خواتین اور نوجوان شامل ہیں انہیں روزگار کے مواقع فراہم کئے اور اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع دیا۔ یونیسکو کی جانب سے اس منصوبے کو پاکستان کی تاریخ میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کی کوششوں میں سے ایک کے طور پر سراہا گیا ہے جس نے سائنسی تکنیک کو تحفظ کے روایتی طریقوں کے ساتھ جوڑا اور دیوار کی بحالی و تحفظ کو ممکن بنایا۔

وضح رہے کہ 1981 میں یونیسکو کی طرف سے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر لاہور کے قلعے کی نامزدگی میں “پکچر وال” ایک اہم عنصر تھا۔ اس تاریخی عجوبے کا تحفظ ستمبر 2015 میں ڈیجیٹل دستاویزات کے ساتھ شروع ہوا اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ و بحالی کی تکمیل پر اپریل 2026 میں مکمل ہوا۔
تصاویر و معلومات بشکریہ: آغا خان کلچرل سروس پاکستان