فیصل آباد:فیسکو کو بجلی کی خریدوفروخت میں فراڈ کے ذریعے قومی خزانے کو 12 ارب روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ستارہ انرجی لمٹیڈ اور ستارہ کیمیکلز انڈسٹریز لمٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید اقبال، ڈائریکٹرز محمد ادریس، عمران غفور، محمد انیس، مختار اے شیخ اور فیسکو کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسرز احمد سعید اختر، تنویر صفدر چیمہ، خورشید عالم اور رشید اسلم کے خلاف دس سال پرانی انکوائری پر ایک نیا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق اس کیس میں فیسکو کے سابق چیف ایگزیکٹو افسران خورشید عالم اور احمد سعید خان کو گرفتار کرکے متعلقہ عدالت سے ان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کو تحقیقات کی تکمیل تک ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔
اس کیس میں نامزد ملزموں میں شامل ستارہ گروپ کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کے سابق صدر میاں محمد ادریس کو بھی گزشتہ روز لاہور ائیرپورٹ سے بیرون ملک روانگی سے روک دیا گیا تھا۔
ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل فیصل آباد میں درج ایف آئی آر نمبر 35/2026 میں انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی 5(2)/47 کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 34، 109، 409، 419، 420، 467، 468 اور 471 لگائی گئی ہیں۔
ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کے مطابق ستارہ انرجی لمٹیڈ اور ستارہ کیمیکلز انڈسٹریز لمٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید اقبال، ڈائریکٹرز محمد ادریس، عمران غفور، محمد انیس، مختار اے شیخ اور فیسکو کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسرز احمد سعید اختر، تنویر صفدر چیمہ، خورشید عالم اور رشید اسلم نے 2007 سے 2015 کے دوران مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت سے بجلی کی خرید و فروخت کے نظام میں غیر قانونی رد و بدل کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریباً 12 ارب روپے کا نقصان پہنچایا اور ناجائز مالی فوائد حاصل کئے ہیں۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق اس عرصے کے دوران ستارہ انرجی لمٹیڈ نے ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمٹیڈ کے ذریعے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی سے منظور شدہ نرخوں کے برعکس فیسکو کو بجلی زائد نرخوں پر فروخت کی جبکہ اسی دوران بلک پاور کنزیومرز کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کی جاتی رہی جبکہ دوسری جانب ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمٹیڈ نے مبینہ طور پر فیسکو سے رعایتی نرخوں پر بجلی حاصل کر کے ناجائز مالی فائدہ بھی حاصل کیا۔
علاوہ ازیں ستارہ انرجی لمٹیڈ نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے سامنے خود کو کیپٹو پاور پلانٹ ظاہر کر کے سبسڈی یافتہ گیس حاصل کی جبکہ نیپرا کے سامنے خود کو سمال پاور پروڈیوسر ظاہر کیا جس کے لیے مبینہ طور پر گمراہ کن اور جعلی دستاویزات استعمال کی گئیں۔
واضح رہے کہ اس کیس کے تفتیشی افسر اور ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر نے کچھ عرصہ قبل ایکس پر ٹویٹ کے ذریعے یہ دعوی کیا تھا کہ ایف آئی آر نمبر 27/2015 کے تحت اس معاملے کی انکوائری میں تقریباً 30 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی تھی جن میں سے تقریباً 12 ارب روپے سے متعلق ورک شیٹ بھی تیار ہو چکی تھی لیکن پھر انہیں انکوائری سے ہٹا دیا گیاتھا۔