پاکستان ایک بار پھر موسلادھار بارشوں، شہری سیلاب اور دریا بُرد علاقوں کی تباہی کی خبریں سن رہا ہے۔ ہر سال مون سون آتا ہے، دریا بپھرتے ہیں، شہر ڈوبتے ہیں، لوگ بے گھر ہوتے ہیں، حکومتیں ہنگامی اجلاس مُنعقد کرتی ہیں، امدادی پیکجوں کا اعلان ہوتا ہے اور پھر چند ہفتوں بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ اگلے سال وہی منظرنامہ دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہر بار صرف بارش قصوروار ہوتی ہے یا ہمارے حکمرانی کے نظام میں بھی کوئی بنیادی خرابی موجود ہے؟
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی آج کی سب سے بڑی عالمی حقیقت ہے۔ پاکستان دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ رکھتا ہے مگر موسمیاتی تبدیلی کے شدید ترین اثرات جھیلنے والے ممالک میں شامل ہے۔ غیر معمولی بارشیں، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور تباہ کن سیلاب اب استثنا نہیں بلکہ ایک نیا معمول بنتے جا رہے ہیں لیکن صرف موسمیاتی تبدیلی ہی ہر تباہی کی ذمہ دار نہیں ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ریاست نے ان بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق اپنی منصوبہ بندی بھی بدلی ہے؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں نظر آتا ہے۔ آج بھی بیشتر شہروں کا نکاسیٔ آب کا نظام کئی دہائیاں پرانا ہے۔ برساتی نالوں پر تجاوزات قائم ہیں، قدرتی آبی گزرگاہیں رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں اور شہری منصوبہ بندی میں ماحولیاتی اُصولوں کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ جب پانی اپنے فطری راستے سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے کنکریٹ کی دیواریں اور غیر قانونی تعمیرات ملتی ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پورے شہر پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔
سن 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ قومی سطح پر ایک جامع موسمیاتی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔ خطرے سے دوچار علاقوں کی ازسرِنو نقشہ بندی ہو گی، سیلابی میدانوں پر تعمیرات روکی جائیں گی، آبی گزرگاہوں کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا اور نکاسیٔ آب کے نظام کو جدید بنایا جائے گا۔ افسوس کہ ان میں سے اکثر اقدامات یا تو کاغذوں تک محدود رہے یا ان کی رفتار انتہائی سست رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی بارش کے ساتھ پرانے زخم پھر سے تازہ ہو جاتے ہیں۔
حکومتوں کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی رہی ہے کہ ان کی ترجیحات زیادہ تر ردِعمل پر مبنی ہوتی ہیں، پیش بندی پر نہیں۔ سیلاب آنے کے بعد امدادی سرگرمیاں ضرور شروع ہوتی ہیں مگر سیلاب آنے سے پہلے خطرات کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ سرمایہ کاری کم ہی نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں آفات سے نمٹنے کا جدید اصول یہی ہے کہ ایک روپے کی پیشگی تیاری، آفت کے بعد خرچ ہونے والے کئی روپے بچا دیتی ہے مگر ہمارے ہاں بجٹ میں اس سوچ کا عکس بہت کم دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماحولیات کی وزارتیں اور موسمیاتی ادارے اکثر سیاسی ترجیحات کے مقابلے میں کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ حکومتیں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان تو کرتی ہیں، مگر یہ کم ہی دیکھا جاتا ہے کہ ہر منصوبے کا آزادانہ ماحولیاتی جائزہ بھی لیا جائے۔ جنگلات کی کٹائی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور آبی ذخائر کی آلودگی پر قانون تو موجود ہے لیکن اس پر عمل درآمد کمزور ہے۔ اس لئے جب قانون طاقتور کے سامنے بے بس بن جائے تو قدرت کا قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے۔
یہ بحران صرف حکومت کا پیدا کردہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بھی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے نام پر صدیوں تک ماحول کو آلودہ کیا، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری پر بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ موسمیاتی انصاف کے اصول کے تحت پاکستان کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے۔ تاہم بیرونی امداد کبھی بھی داخلی منصوبہ بندی کا متبادل نہیں بن سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو محض ماحولیات کا موضوع سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی، اقتصادی منصوبہ بندی اور شہری نظم و نسق کا بنیادی مسئلہ تسلیم کیا جائے۔ پارلیمنٹ کو موسمیاتی موافقت کے لیے طویل المدتی قانون سازی کرنی چاہیے، صوبائی حکومتوں کو شہری انفراسٹرکچر جدید بنانا چاہیے، بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جانا چاہیے اور ماہرینِ ماحولیات کو پالیسی سازی میں حقیقی کردار دیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کے تحفظ، بارشی پانی کے ذخیرے، جدید ڈرینیج سسٹم اور آبی گزرگاہوں کی بحالی کو قومی ترجیح بنانا ہو گا۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ اگلا سیلاب کب آئے گا بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کے لیے خود کو تیار کیا ہے؟ اگر ہماری پالیسیاں اسی طرح وقتی اور نمائشی رہیں، اگر منصوبہ بندی سیاسی مفادات کے تابع رہی اور اگر ماحولیاتی خطرات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا، تو ہر آنے والا مون سون صرف قدرت کی آزمائش نہیں ہوگا بلکہ ہماری حکمرانی کی ناکامی کا ایک نیا ثبوت بھی بنے گا۔ قومیں آفات سے نہیں، آفات سے سبق نہ سیکھنے سے تباہ ہوتی ہیں۔