لاہور: پاکستان کی برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے ماحول دوست اقدامات کے مالی اور انتظامی بوجھ کی عالمی ریٹیل برانڈز، مقامی مینوفیکچررز اور حکومتوں کے درمیان منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انڈسٹری کے نمائندوں، پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، محققین، قانون اور توانائی کے شعبے کے ماہرین نے “ٹیکسٹائل کمپلائنس کی مشترکہ ذمہ داری اور پاکستان کی پاور مارکیٹ ٹرانزیشن” کے عنوان سے ہونے والی اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں کیا ہے۔
نیشنل گرڈ کمپنی کے چیئرمین فیاض چوہدری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات اکثر ساختی مسائل کی بنیادی وجوہات کو دور کیے بغیر متعارف کرائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بار بار پالیسیوں میں تبدیلی، میرٹ کو نظر انداز کرنے اور توانائی کے شعبے کی محدود سمجھ رکھنے والے ناتجربہ کار افراد کی فیصلہ سازی کے اہم عہدوں پر تقرری اصلاحات کی ناکامیوں کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 70 فیصد پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں پہلے ہی بین الاقوامی معیار کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں جبکہ باقی 30 فیصد میں گورننس کے مسائل موجود ہیں۔ اس لیے تمام ڈسکوز کی نجکاری کے بجائے ان کے مسائل کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے اور اس کے مطابق ان کا ازالہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کو ختم کرنے سے ایک مضبوط ادارہ کمزور ہوا اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ رک گیا جبکہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے متعارف کروائے گئے آئی پی پی ماڈل نے مسائل میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر اب صحیح سمت میں گامزن ہے اور مسابقتی تجارتی دو طرفہ کنٹریکٹ مارکیٹ (CTBCM) ایک اہم ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی نمائندگی کرتی ہے جو ریاست کے زیر کنٹرول “سنگل خریدار ماڈل” سے کھلی اور مسابقتی ہول سیل بجلی کی مارکیٹ کی طرف منتقلی میں معاون ثابت ہو گا۔
آلٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز کے سی ای او امجد نذیر نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت میں پائیداری اور مسابقت پر ایک تعمیری مکالمے کو آگے بڑھانا ہے تاکہ کاربن کے اخراج میں کمی اور عالمی برینڈز کی تحفظ ماحولیات سے متعلق شرائط کو پورا کرنے کے لئے ماحول دوست ٹیکنالوجی کو اپنانے اور افرادی قوت کی صلاحیت میں اضافے کے حوالے سے درپیش مشترکہ چیلنجز کا عملی حل نکالا جا سکے۔
نیپرا کے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ امتیاز حسین بلوچ نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کی پالیسی کے لیے درجنوں متضاد متغیرات کے درمیان تجارت کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے اور کسی ایک حل کو مکمل طور پر درست یا غلط نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ اپٹما کے توانائی کے مشیر عاصم ریاض نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ نے توانائی کی سلامتی کو دنیا کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک بنا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ CTBCM پاکستان کو توانائی کے مقامی وسائل کا بہتر استعمال کرنے اور توانائی کی پیداوار میں خود انحصاری کی طرف بڑھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر آفتاب خان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں غیر تربیت یافتہ اور کم ہنر مند مزدوروں پر انحصار پیداواری لاگت میں اضافہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ “نو یا لو انویسٹمنٹ” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ابتک ایک ہزار سے زائد ایس ایم ایز اور صنعتی یونٹس کا ریسورسز ایفیشنسی انرجی آڈٹ کرکے پیداواری لاگت میں کمی اور پیداوار میں اضافہ کر چکا ہے۔
ڈائریکٹر لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ نوید ارشد نے کہا کہ صنعتی بجلی کی کھپت میں موٹروں کا حصہ تقریباً 85 فیصد ہے اور توانائی کی بچت اور ڈیجیٹلائزیشن سے بجلی کی کھپت میں 20 سے 30 فیصد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شہزاد مقصود نے انڈسٹریل ویسٹ کی ری سائیکلنگ کے لئے عملی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بوجھ کو مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
نسٹ یونیورسٹی کے ڈاکٹر سید علی عباس کاظمی نے صنعتوں میں سولرائزیشن اور بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز کے تکنیکی اور اقتصادی اثرات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر CTBCM کے قوانین میں موجود خامیوں کو درست نہ کیا گیا تو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے پرانے اثاثے اور پاور پلانٹس ناکارہ ہونے کا اندیشہ ہے۔
انرجی ٹرانزیشن آفیسر اشفا اشرف نے کہا کہ ای ایس جی کے قوانین پر عملدرآمد کے لئے عالمی برانڈز کو گلوبل ساؤتھ میں مینوفیکچررز پر بوجھ ڈالنے کے بجائے پائیداری کی کوششوں کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شیئرڈ ٹرانزیشن ریسپانسیبلٹی کنسورشیم کا مقصد مشترکہ سرمایہ کاری، پروکیورمنٹ ریفارمز، شفافیت، ڈیٹا الائنمنٹ اور پائیدار مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔
انرجی ٹرانزیشن آفیسر محمد عثمان بن احمد نے CTBCM ریڈینس ٹول کٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے صنعتی صارفین اور بجلی فروخت کرنے والی کمپنیاں دو طرفہ بجلی کے معاہدوں کے لیے اپنی تکنیکی اور مالی تیاری کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹول کٹ کے استعمال سے سسٹم چارجز (UoSC) اور سسٹم مارجنل پرائس (SMP) کے عدم توازن کے خطرات کو جانچا جا سکتا ہے۔
کانفرنس کے دوران “فرام کمپلائنس پریشر ٹو کولیبریٹو سلوشنز” کے عنوان سے ہونے والے پینل ڈسکشن میں شرکاء نے ٹیکسٹائل ویلیو چین میں ٹریس ایبلٹی، شفافیت اور مساوی برانڈ-سپلائر تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، جسٹ ٹرانزیشن کے اصولوں اور ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ پر زور دیا۔
بعدازاں CTBCM کے حوالے سے “پالیسی اینڈ انسٹی ٹیوشنل پراسپیکٹو” کے عنوان سے ہونے والے پینل کے شرکاء نے قابل تجدید توانائی کے انضمام، گرڈ انفراسٹرکچر اور توانائی کی کارکردگی کو صنعتی مسابقت اور پائیداری کے لیے ضروری قرار دیا۔
کانفرنس کا اختتام پاکستان سے اپنی صنعتی، توانائی اور موسمیاتی پالیسیوں کو ہم آہنگ کرنے کے وسیع تر مطالبے کے ساتھ ہوا تاکہ کاربن کے اخراج میں کمی برآمدی صنعتوں پر اضافی بوجھ نہ بنے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی برانڈز پاکستانی سپلائرز سے توقع کرتے ہیں کہ وہ تحفظ ماحولیات کے عالمی قوانین پر پورا اتریں گےتو انہیں ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے درکار سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور فنانسنگ کا اشتراک بھی کرنا چاہیے۔