قدرت جب کسی فرد کو عظمت اور شہرت عطا کرنا چاہتی ہے تو اس کے اسباب اس طرح پیدا کرتی ہے کہ سوچنے والا اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔
جالندھر سے ہجرت کرکے لائلپور (فیصل آباد) آنے والے اپنے وقت کے معروف قوال فتح علی خان کے گھر 13 اکتوبر 1948ء کو جنم لینے والے نصرت فتح علی خان بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھے جن کی عظمت اور شہر ت کو چار چاند لگانے کے اسباب قدرت نے ان کی پیدائش سے پہلے ہی ترتیب دینے شروع کر دیئے تھے۔
نصرت فتح علی خان کے ماموں زاد دلارے خان بتاتے ہیں کہ ان کا گھرانہ گزشتہ چھ صدیوں سے قوالی کے فن سے وابستہ ہے اور یہ سلسلہ امیر خسرو تک جاتا ہے۔
“ہمارے آباو اجداد جالندھر کے رہنے والے تھے لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ ہجرت کرکے لائلپور آ کر دربار لسوڑی شاہ کے پاس رہائش پذیر ہو گئے۔”
وہ بتاتے ہیں کہ بابا لسوڑی شاہ سے ان کے آباو اجداد کو خصوصی لگاو تھا اور وہ قیام پاکستان سے قبل بھی ہر سال ان کی برسی پر یہاں قوالی پیش کرنے آیا کرتے تھے۔
دلارے خان ایک اور دلچسپ قصے کے راوی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ نصرت کا ستارہ بچپن میں ہی عروج پر تھا۔
“نصرت کا نام پیدائش کے وقت پرویز رکھا گیا تھا لیکن ہمارے پیرو مرشد شیر محمد خان نے کہا کہ ان کا نام نصرت رکھیں یہ پوری دنیا میں مشہور ہو گا اور پھر وقت نے ان کی یہ بات درست ثابت کی۔”
نصرت فتح علی خان کی پیدائش سے چند ماہ بعد ہی 1949ء میں امرتسر سے ہجرت کرکے لائلپور آنے والے چوہدری رحمت علی کی طرف سے گھنٹہ گھر سے ملحق امین پور بازار میں رحمت گرامو فون (آر جی ایچ) کا قیام بھی قدرت کے اس انتظام کا حصہ معلوم ہوتا ہے جو نصرت کی عالمی شہرت کی بنیاد بنا۔
اس وقت شاید یہ بات چوہدری رحمت کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گی کہ دنیا بھر میں شہنشاہ قوالی کہلانے والے عظیم موسیقار و گلوکار نصرت فتح علی خان کو پہلی مرتبہ موسیقی کی دنیا میں متعارف کروانے کا سہرا ان کے سر سجے گا اور پھر یہ تعلق تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو جائے گا۔
آر جی ایچ کے مالک چوہدری رحمت علی مرحوم کے بیٹے میاں محمد اسد بتاتے ہیں کہ ان کے والد نے امرتسر سے لائلپور آنے کے بعد ذریعہ معاش کے طور پر مختلف کام کئے لیکن وہ انہیں راس نہیں آئے۔
“ان دنوں گرامو فون ریکارڈز نئے نئے آئے تھے، میرے والد کو بھی موسیقی سے شغف تھا تو انہوں نے رحمت گرامو فون کے نام سے گرامو فون ریکارڈ کی فروخت کا کام شروع کیا جو ترقی کرتے کرتے پاکستان ہی نہیں بلکہ برصغیر کے بڑے ریکارڈنگ سٹوڈیوز میں شامل ہو گیا”۔
نصرت فتح علی خان کے حوالے سے اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے میاں اسد نے بتایا کہ وہ مختلف نجی محفلوں اور اپنی رہائشگاہ کے سامنے واقع دربار لسوڑی شاہ کی برسی پر قوالی پیش کیا کرتے تھے۔
“پھر وہ کیسٹ کی دنیا میں آ گئے۔ان کو ہمارے والد لے کر آئے تو ان کی ریکارڈنگ کی نصرت فتح علی خان صاحب کی اور پہلا مجھے یاد ہے کہ والیم ”یاداں وچھڑے سجن دیاں آئیاں” آیا تھا اور بہت مقبول ہوا۔ اس کے بعد پھر انہوں نے نکالا “علی مولا” اس میں بھی وہ والیم بلندیوں پر چلا گیا نصرت فتح علی خان صاحب کا۔”
میاں اسد نے بتایا کہ وہ اپنے زمانہ طالبعلمی سے ہی نصرت فتح علی خان کو رحمت گراموفون ہاوس اور اپنے گھر میں ہونے والی تقریبات اور ملاقاتوں کے موقع پر دیکھتے آ رہے تھے۔
“میں بچپن سے ہی ان کے فن اور شخصیت کا گرویدہ تھا لیکن ان سے باضابطہ پروفیشنل تعلق اس وقت استوار ہوا جب میں نے 1992 میں باقاعدہ طور پر اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کیا۔”
وہ بتاتے ہیں کہ رحمت گراموفون ہاوس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نصرت کی سب سے زیادہ ریکارڈنگز کیں اور ان کے ایک سو سے زائد میوزک البمز ریکارڈ کر کے مارکیٹ میں ریلیز کیے۔

میاں اسد کے مطابق نصرت فتح علی خان کو قوالی کے ساتھ ساتھ غزلوں کی ریکارڈنگ کے لئے ان کے والد نے آمادہ کیا تھا اور اس سے ان کی شہرت اور مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔
انہوں نے نصرت فتح علی خان کی پہلی سولو ریکارڈنگ کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ریکارڈنگ کے لیے آر جی ایچ پر موجود تھے لیکن کافی انتظار کے باوجود ان کی قوال پارٹی میں شامل افراد وہاں نہیں پہنچے جس پر ان کے والد نے نصرت سے پنجابی میں کہا “آؤ خاں صاحب اج سولو ریکارڈ کر دے ہاں۔”
وہ بتاتے ہیں کہ “اس پر نصرت فتح علی خان پہلے تو پریشان ہوئے مگر پھر میرے والد کے اصرار پر حامی بھر لی اور فوری طور پر سٹوڈیو میں موجود ایک شاعر سے غزل لکھوائی گئی اور انھوں نے پہلی مرتبہ سولو ریکارڈنگ کروائی۔”
میاں اسد کے مطابق نصرت فتح علی خان کی ابتدائی سولو ریکارڈنگ میں سب سے زیادہ مقبول ‘سُن چرخے دی مِٹّھی مِٹھّی کُوک‘ تھی۔
“جب یہ غزل مارکیٹ میں آئی تو ان کی گائیکی کو ایک نیا بام عروج ملا۔ بلکہ اس وجہ سے کئی گلوکار اور ان کی قوال پارٹی میں شامل افراد ہم سے ناراض بھی ہوئے کہ اب خاں صاحب کو شاید ان کی ضرورت نہیں رہے گی۔”
ان کا کہنا تھا کہ بیشک نصرت فتح علی خان ایک پیدائشی موسیقار اور قوال تھے لیکن انہوں نے فن کی معراج کو پانے کے لئے لڑکپن سے ہی سخت محنت کی اور انہیں بچپن سے ہی طبلہ بجانے پر خصوصی مہارت حاصل تھی۔
انہوں نے اپنے والد سے سنا ہوا ایک واقعہ بتایا کہ “نصرت جب دس گیارہ برس کے تھے تو ایک قوالی کی محفل میں کوئی طبلہ نواز نہیں مل رہا تھا جس پر نصرت کو طبلہ بجانے کے لیے کہا گيا۔ وہاں انھوں نے ایسی پرفارمنس دی کہ گانے والا تھک گیا لیکن نصرت نہیں تھکے اور سننے والوں پر انھوں نے ایک سحر طاری کر دیا۔”
انہوں نے بتایا کہ نصرت فتح علی خان کا ان کے والد سے صرف پیشہ وارانہ تعلق نہیں تھا بلکہ وہ آپس میں گہرے دوست تھے اور نصرت اکثر ان کے والد سے گپ شپ کے لئے رحمت گراموفون پر آ جاتے تھے۔
“اپنی بھاری جسامت کے باعث انھیں کرسی پر زیادہ دیر بیٹھنے میں مشکل پیش آتی تھی اس لیے میرے بڑے بھائی نے ان کے لیے ایک خاص صوفہ تیار کروایا تھا تاکہ وہ جتنی دیر چاہیں آرام سے اس پر بیٹھ سکیں۔”
میاں اسد بتاتے ہیں کہ نصرت اور ان کے والد کی عمروں میں کافی فرق تھا لیکن نصرت ان کے والد کو اپنے محسن اور بڑے بھائی کا درجہ دیتے تھے۔
“میرے والد نے انھیں اپنے ریکاڈنگ سٹوڈیو کے ذریعے متعارف کروایا تھا جس سے انہیں بہت شہرت ملی اور اس سے آر جی ایچ کا نام بھی بہت اوپر گیا۔”
میاں اسد کے مطابق عالمی شہرت حاصل ہونے اور انٹرنیشنل سٹار بننے کے بعد بھی نصرت فتح علی خان کا ان کے والد چوہدری رحمت اور ان کی فیملی کے ساتھ تعلق اسی طرح برقرار رہا جس طرح پہلے تھا۔
وہ نصرت کی انکساری، عاجزی اور تعلق کی گہرائی سے متعلق ایک واقعہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں جب نصرت شہرت کی بلندیوں پر تھے تو ان کے والد اور بڑے بھائی نصرت سے ملنے لاہور گئے۔
“اس وقت کوئی غیر ملکی وفد ان سے ملاقات کر رہا تھا تو ان کے عملے نے میرے والد اور بھائی کو انتظار گاہ میں بٹھا دیا اور انہیں انتظار کرتے ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ بیت گیا۔ اس بات کا علم جب نصرت کو ہوا تو وہ فوراً وفد سے جاری ملاقات سے اٹھ کر ننگے پیر باہر آئے اور فوراً میرے والد اور بڑے بھائی کو اندر لے گئے اور عملے کو کہا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کون ہیں؟”
میاں اسد کے مطابق انہوں نے نصرت فتح علی خان میں دیگر بہت سے فنکاروں کی طرح پیسے کا لالچ کبھی نہیں دیکھا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ نصرت کے عروج کے دور میں بھی اگر ان کے والد نے انھیں کسی جگہ کوئی پروگرام کرنے کا کہا تو انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ وہ پیسوں سے متعلق بھی کبھی نہیں پوچھتے تھے بلکہ ان کے والد خود جا کر انہیں ان کا معاوضہ ادا کیا کرتے تھے۔
“نصرت فتح علی خان کی تو جتنی تعریف کریں اتنی ہی تھوڑی ہے، ان کی شخصیت کی خوبیاں بے شمار ہیں۔ ان جیسا درویش انسان میں نے تو نہیں دیکھا آج تک اور پھر ان کے گانے کا انداز اس قدر لاجواب ہے کہ وہ آج بھی اپنے فن کے ذریعے زندہ ہیں بلکہ ان کی شہرت اور مقبولیت میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔”
میاں اسد کے مطابق وہ دعوے سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر کہیں نصرت کے سو گانے بھی چل رہے ہیں تو کوئی بندہ یہ نہیں کہے گا کہ اس گانے کو آگے کر دو یا اس قوالی کو آگے کر دو یا اس غزل کو آگے کر دو کیونکہ ان کی ہر قوالی اور غزل لاجواب ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نصرت فتح علی خان کے حوالے سے آر جی ایچ کے پاس جتنا بھی میٹریل تھا وہ انہوں نے محفوظ کیا ہوا ہے۔
“کبھی بھی کسی کو دنیا میں چاہیے ہو تو میں اس کو مہیا کروں گا اور بلا معاوضہ کروں گا تاکہ خان صاحب کا جو نام ہے وہ زندہ تو رہے گا لیکن وہ کیا کہیں گے کہ اس میں چار چاند لگتے رہیں۔”

میاں اسد کے مطابق لوگ آج بھی انہیں اور ان کے اہلخانہ کو رحمت گرامو فون ہاوس اور نصرت فتح علی خان کے حوالے سے جانتے ہیں۔
“میری بیٹی ثمین اسد نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ یونیورسٹی نے اسے سمسٹر کے اختتام پر خصوصی طور پر تھیسس دیا کہ رحمت گراموں فون پر تھیسس بنائے کیونکہ یہ ایک بہت بڑا ادارہ تھا اور نصرت کا خاص طور پر اس میں ذکر تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے جب اپنا تھیسس مکمل کرکے یونیورسٹی میں نمائش کے لئے پیش کیا تو اسے بہت زیادہ پذیرائی ملی تھی۔
“آپ یقین کریں کہ باقی بھی کوئی سینکڑوں تھیسس لگے ہوئے تھے لیکن اس تھیسس پر اتنا رش تھا ان دنوں میں، میں جاتا تھا، دیکھتا تھا۔ لوگوں نے اس پر بہت زیادہ پذیرائی دی میری بیٹی کو”۔
آج اگرچہ نصرت فتح علی خان کی وفات کو 29 برس گزر چکے ہیں اور رحمت گراموفون ہاوس کو بند ہوئے بھی ایک دہائی ہونے کو ہے لیکن اس عظیم گلوکار و موسیقار اور اسے متعارف کروانے والے اولین ریکارڈنگ ہاوس کا نام زندہ ہے اور لوگ اس سنہری تعلق کو یاد کرتے ہیں۔
تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ کلچر اور تاریخ کے تحفظ کے ذمہ دار ریاستی محکمے اور وزارتیں اس تعلق سے جنم لینے والے موسیقی کے خزانے اور یادوں کو ایک میوزیم کی شکل میں محفوظ کرنے کے لئے اقدامات کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس عظیم ورثے کو دیکھیں اور اس پر فخر کر سکیں۔