عمرہ کے نام پر دھوکہ دہی، منشیات کیس میں قید پاکستانی خاتون سعودی جیل میں انتقال کر گئی

فیصل آباد: انسانی سمگلنگ، دھوکہ دہی اور منظم جرائم پیشہ گروہ کس طرح معصوم شہریوں کو مذہب اورروزگار کے نام پر اپنے جال میں پھنساتے ہیں اس کی ایک دردناک مثال سعودی عرب کی جیل میں قید جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والی 60 سالہ پاکستانی خاتون انور بی بی کی دورانِ قید وفات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ آج جبکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی دن “گھپلے کے پیچھے پھنسے ہوئے” کے تھیم سے منایا جا رہا ہےانور بی بی کی موت نے اس عالمی مسئلے کی سنگینی اور انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے تباہ کن نتائج کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق پاکستان میں گرفتار ایک منشیات اسمگلنگ گروہ نے انور بی بی سمیت پانچ عمرہ زائرین کو سستے عمرے کا جھانسہ دے کر سعودی عرب بھجواتے وقت ایسے بیگ دیئے تھے جن میں خفیہ طور پر منشیات رکھی گئی تھی۔ ستمبر 2024 میں سعودی عرب پہنچنے پر پانچوں زائرین کو منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر کے 25، 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
متاثرین کے اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ انور بی بی اور دیگر چاروں عمرہ زائرین بے گناہ ہیں اور انہیں ایک منظم اسمگلنگ نیٹ ورک نے دھوکہ دے کر استعمال کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس کیس میں ملوث ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ سعودی عرب میں منشیات وصول کرنے والے افراد کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان، وزارت خارجہ اور سعودی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انور بی بی کی میت جلد وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور باقی چار قید پاکستانیوں کی قانونی معاونت یقینی بنا کر انہیں رہائی دلائی جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسانی اسمگلنگ صرف ایک بین الاقوامی جرم نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے، جس کا تعلق غیر قانونی امیگریشن، جعلی سفری دستاویزات، منی لانڈرنگ، جبری مشقت اور دیگر منظم جرائم سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف بروقت کارروائی کے لیے خصوصی حکمت عملی مرتب کی ہے اور ایف آئی اے سمیت متعلقہ ادارے انٹرپول، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم (UNODC)، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR)، انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ (ICMPD)، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO)، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) ، پائیدار سماجی ترقی کی تنظیم (SSDO) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اشتراک سے ہونے والی تقریب میں بھی آن لائن فراڈ اور جعلی ملازمتوں کے ذریعے افراد کو بیرون ملک لے جا کر فراڈ اور دیگر جرائم پر مجبور کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی اسمگلنگ، سائبر کرائم، مالیاتی فراڈ اور دیگر منظم جرائم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کے مؤثر خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون، متاثرین کے تحفظ اور مربوط قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔
انور بی بی کی موت ایک ایسی دردناک مثال ہے جو اس سال کے عالمی دن کے تھیم “گھپلے کے پیچھے پھنسے ہوئے” کی عملی عکاسی کرتی ہے، جہاں بظاہر بے ضرر سفر یا ملازمت کی پیشکشیں معصوم افراد کو منظم جرائم کے جال میں دھکیل دیتی ہیں۔ ایسے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ نہ صرف اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بلکہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو قانونی، سفارتی اور انسانی بنیادوں پر فوری مدد بھی فراہم کی جائے۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں