ابتدائی طبی امداد کے عالمی دن پر ریسکیو 1122 کی مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ کو فرسٹ ایڈ کی تربیت

فیصل آباد : ابتدائی طبی امداد کے عالمی دن کے موقع پر ریسکیو 1122 فیصل آباد کی طرف سے مختلف تعلیمی اداروں میں فرسٹ ایڈ کی تربیت کا انعقاد کیا گیا۔ اس دوران ریسکیو 1122 کے تربیت یافتہ عملے نے طلبہ و طالبات کو ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں طلبہ و طالبات کو دل کی دھڑکن بند ہونے کی صورت میں کارڈیو پلمونری ری سسیٹیشن (CPR)، شدید خون بہنے کی صورت میں خون کے بہاؤ کو روکنے کے طریقوں اور دیگر ہنگامی حالات میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے عملی طریقے سکھائے گئے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینیئر احتشام واہلہ نے کہا کہ عالمی یومِ ابتدائی طبی امداد پر تعلیمی اداروں میں عملی مشقوں کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو ٹیم کے پہنچنے تک متاثرہ فرد کی زندگی بچانے کے لیے فوری اور درست اقدامات کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حادثات، دل کا دورہ، شدید خون بہنا یا کسی بھی اچانک طبی ایمرجنسی کی صورت میں ابتدائی چند منٹ انتہائی قیمتی ہوتے ہیں اور بروقت فراہم کی جانے والی درست ابتدائی طبی امداد قیمتی انسانی جان کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انجینیئر احتشام واہلہ کے مطابق دنیا بھر میں کارڈیک اریسٹ اور شدید خون بہنے کے باعث ہونے والی اموات ایک اہم عالمی مسئلہ ہیں۔ اس سلسلے میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کارڈیک اریسٹ کی صورت میں اگر بروقت سی پی آر فراہم نہ کی جائے تو متاثرہ شخص کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ابتدائی طبی امداد کی تربیت یافتہ عام شہری ایک قیمتی انسانی جان بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے مزید کہا کہ اگر ہر گھر، تعلیمی ادارے، دفتر، مارکیٹ اور کمیونٹی میں کم از کم ایک تربیت یافتہ فرسٹ ایڈر موجود ہو تو شدید خون بہنے، کارڈیک اریسٹ، حادثات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے قبل قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے امکانات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 فیصل آباد کا مقصد صرف حادثات اور ایمرجنسیز میں فوری رسپانس فراہم کرنا ہی نہیں بلکہ معاشرے میں محفوظ اور تربیت یافتہ شہریوں کی تعداد میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ اسی مقصد کے تحت تعلیمی اداروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر فرد ضرورت کے وقت کسی دوسرے انسان کی مدد کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے عوام، بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ابتدائی طبی امداد کی تربیت ضرور حاصل کریں اور اپنے گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرے میں اس اہم مہارت کو فروغ دیں۔ “آئیں، عالمی یومِ ابتدائی طبی امداد کے موقع پر عہد کریں کہ ہم ابتدائی طبی امداد کی تربیت ضرور حاصل کریں گے، کیونکہ بروقت اور درست ابتدائی طبی امداد ہی وہ مدد ہے جو کسی کی قیمتی جان بچا سکتی ہے۔”

Author

اپنا تبصرہ لکھیں