فیصل آباد: جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے صدر ڈاکٹر اکی ہیکو تناکا نے گزشتہ روز فیصل آباد کا دورہ کیا۔ واضح رہے کہ 2020 کے بعد یہ جائیکا کے کسی صدر کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ انہوں نے فیصل آباد میں جائیکا کے تعاون سے جھال خانوانہ کے مقام پر مکمل ہونے والے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، پانی کی ترسیل کے جدید نظام اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بہتر بنائے گئے آپریشنل نظام کا معائنہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان میں جاپان کے نمایاں شہری ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہے جس کا مقصد شہریوں کو محفوظ، معیاری اور پائیدار پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانا اور فیصل آباد کے کامیاب ماڈل کو ملک کے دیگر شہروں تک توسیع دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت جائیکا نے تقریباً 4.094 ارب جاپانی ین کی گرانٹ فراہم کی ہے اور یہ پلانٹ روزانہ تقریباً 50 لاکھ گیلن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپریل 2025 سے فعال ہے۔

انہوں نے کہا کہ جائیکا نے 2016 سے 2019 کے دوران فیصل آباد واٹر سپلائی، سیوریج اینڈ ڈرینیج ماسٹر پلان کی تیاری میں بھی معاونت فراہم کی ہے جس کے تحت 2038 تک شہر میں پانی اور نکاسیٔ آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا جامع روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں دوطرفہ تعاون بالخصوص جاپانی سرکاری ترقیاتی قرض (ODA Loan) کے امکانات پر وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جائیکا پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

دورے کے دوران جائیکا کے صدر نے اس منصوبے سے مستفید ہونے والے شہریوں سے بھی ملاقات کی اور اپ گریڈ شدہ واٹر سپلائی نیٹ ورک سے منسلک گھرانوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے خود مشاہدہ کیا کہ کس طرح علاج کی بہتر سہولیات، جدید ٹرانسمیشن سسٹم اور ڈیجیٹل واٹر مینجمنٹ پینے کے صاف پانی تک رسائی کو بڑھا رہے ہیں اور مقامی کمیونٹیز کے لیے روزمرہ کی زندگی کے معیار کو بہتر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جاپان اور پاکستان کے دیرینہ ترقیاتی تعاون کے ٹھوس اثرات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح لچکدار شہری بنیادی ڈھانچہ شہروں کو ضروری عوامی خدمات کی فراہمی کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے میں مدد کر سکتا ہے۔