انسانی جنگوں کا ایندھن بننے والے بے زبان جانوروں کا المیہ

انسانی تاریخ جنگوں اور فتوحات کے داستانوں سے بھری پڑی ہے، جہاں شجاعت اور بہادری کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ ان قصوں کے پس پردہ ان بے زبان جانوروں کی ایک خاموش اور المناک داستان چھپی ہے جو انسان کی بقا اور ہوس طاقت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ بندوقوں اور توپوں کی طرح گھوڑے، ہاتھی اور اونٹ بھی محض جنگی ہتھیاروں کی طرح استعمال کئے گئے جن کا کوئی مالک، کوئی نظریہ، اور کوئی دشمن نہیں تھا۔ ان کی وفاداری کا بے دردی سے استحصال کیا گیا اور انہیں جنگی تعصب کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ اسی طرح آج کے دور میں بھی انسانوں کی باہمی لڑائیوں میں مخالف کو نقصان پہنچانے کے لئے جانوروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس طرح کے واقعات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں کہ کہیں جانوروں کو زہر دیدیا گیا، کہیں ان کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں اور کہیں انہیں زبردستی اپنے ماحول سے الگ کرکے پنجروں میں بند کرکے ان کی خریدو فروخت کی جاتی ہے۔
اسی طرح جنگوں میں جانوروں کا کوئی مالک نہیں ہوتا ہے بلکہ انہیں ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا جاتا ہے جیسے دیگر ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم یاد رہے کہ ہتھیار محض مشین یا بے جان آلہ ہے جو جانوروں کی طرح وفادار نہیں ہوتے ہیں۔ جانور کسی دوسرے فریق کے دشمن نہیں ہوتے وہ متعصب نہیں ہوتے، وہ تو صرف اپنے مالک کے وفادار ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے فریق کے خلاف کسی نظریے یا افادی نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ اپنے مالک سے وفاداری کی وجہ سے لڑتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے دیکھا ہے کہ تاریخ میں ہر جنگ میں ہاتھیوں، اونٹوں اور گھوڑوں کو جنگی تعصب کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ تاریخ میں ایک جنگ ایسی بھی ہے جس میں جب ایک اونٹ کی ٹانگیں کاٹی گئیں تو جنگ رُک گئی۔ اونٹ کے نام سے منسوب اس جنگ میں کبھی کسی نے اُس اونٹ کے لیے بھی نوحہ پڑھا ہے کہ وہ تو بے زبان تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پالنے والا مالک اپنے جانور کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ وفادار جانور اپنے مالک کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اُسے کسی بھی طرح رکھے یا اُس سے کام لے مگر جب اس جنگ میں اونٹ کی ٹانگوں کی قربانی مانگی گئی، تو یہ حکم اُس کے مالک کا نہیں تھا بلکہ اس کا فیصلہ کسی اور نہ کیا تھا۔
جانور نہ کسی سیاسی نظریے کے حامی ہوتے ہیں، نہ کسی سلطنت کے وارث اور نہ ہی ان کے دل میں دشمن کے خلاف کوئی ذاتی عناد ہوتا ہے بلکہ اپنی فطرت کے باعث وہ محض انسان کے تابع فرمان ہوتے ہیں۔ انسان نے اپنی بقا، فتوحات اور طاقت کی ہوس کے لیے ہمیشہ ان کی وفاداری کا استحصال کیا۔کیا کسی جنگ میں مرنے والے جانوروں کے غم کا اظہار کیا گیا ہے؟ انھیں یاد کیا گیا ہے؟ کیا ہمیں یاد بھی ہے کہ اشوکا اور سکندر سے لے کر مغلوں کی لڑائیوں تک لاکھوں گھوڑوں، ہاتھیوں، اونٹوں، بھیڑیوں اور کتوں نے اپنے مالکوں سے وفاداری میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے؟
انسان اس حوالے سے بہت چالاک رہا ہے کہ اس نےگھوڑوں، بھیڑیوں، کتوں، اونٹوں اور ہاتھیوں کی وفادار جبلتوں کو سمجھ کے انھیں اپنے جنگی مقاصد کے لیے ہائی جیک کیا۔کہتے ہیں کہ شہنشاہ اشوک نے جب کلنگا پر حملہ کیا تو جنگ میں ہزاروں انسانوں کے ساتھ ساتھ بے شمار گھوڑے اور ہاتھی مارے گئے تھے۔ سکندرِ اعظم اور پورس کے درمیان ہونے والی جنگ میں بھی ہزاروں ہاتھیوں کا قتل ہوا تھا۔ اصل میں یہ جنگی حکمت عملیوں میں شامل ہوتا تھا کہ جانوروں پر حملہ کرکے دشمن کی طاقت کو توڑا جائے۔ گھوڑوں، ہاتھیوں اور اونٹوں کو نشانہ بنا کر سواروں کو زمین پر لایا جاتا تھا اور دشمن کا حوصلہ پست کیا جاتا تھا۔ اگر ان گھوڑوں، اونٹوں اور ہاتھیوں میں تعصب ہوتا اور وہ بھی کوئی نظریاتی پوزیشن رکھتے تو کیا پتا وہ اپنے ہی مالکوں کے خلاف ہوتے۔ کیا پتہ تاریخ ایسے متعصب رویے رکھنے والے جانوروں کو یاد رکھتی اور انھیں حق کا فاتح قرار دیتی۔ اشوکا سے لے کر مغلوں تک لاکھوں جانوروں نے اپنے مالکوں سے وفاداری میں جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن انھیں کبھی یاد نہیں کیا گیا، کبھی ان کا غم نہیں منایا گیا۔ ان کی قربانیاں محض جنگی حکمت عملیوں کا حصہ بن کر رہ گئیں، جہاں انھیں نشانہ بنا کر دشمن کی طاقت کو توڑنا اور حوصلہ پست کرنا ہی اصل مقصد تھا۔ آج جب ہم جنگوں کی تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں ان بے زبان ساتھیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جن کی قربانیاں تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئیں۔

Author

  • ڈاکٹر قاسم یعقوب اردو ادب کے ایک نمایاں محقق، نقاد، شاعر اور ناول نگار ہیں۔ ان کی پہچان بطور ایک استاد اور معروف ادبی جریدے "نقاط" کے مدیر کی بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں