سابق ضلعی ناظم رانا زاہد توصیف نے فیصل آباد ڈویژن کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کر دیا

فیصل آباد: سینئر سیاستدان و سابق ضلعی ناظم رانا زاہد توصیف نے نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصل آباد ڈویژن کو صوبہ بنایا جائے۔ وہ اپنی رہائش گاہ پر سابق اراکن اسمبلی، بلدیاتی نمائندوں اور بزنس کمیونٹی کی نمائندہ شخصیات کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ڈویژن کے صوبہ بننے سے ناصرف عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل ہوں گے بلکہ فیصل آباد میں ہائیکورٹ بینچ بنانے کا دیرینہ مطالبہ بھی خود بخود پورا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے میں برسراقتدار سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی وجہ سے نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیصل آباد ڈویژن کے فنڈز یہاں کی عوام کے مسائل حل کرنے پر خرچ ہوں گے تو اس سے کسی کو کیا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے بننے سے انتظامی اخراجات میں اضافے کی بجائے کمی آئے گی اور اس سلسلے میں ایک مکمل لائحہ عمل پہلے سے تیار ہے۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بطور ضلعی ناظم انہوں نے فیصل آباد کی تعمیر و ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کی لیکن اس وقت کی صوبائی حکومت نے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور انہیں فنڈز نہیں دیئے اس لئے جب تک فیصل آباد ڈویژن صوبہ نہیں بنے گا بلدیاتی ادارے بننے سے بھی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے میٹرو بس منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس منصوبے پر خرچ کی جانے والی رقم سے رنگ روڈ، انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج بنا کر شہر کو مکمل طور پر سگنل فری بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کو میٹرو بس کی بجائے پارکنگ پلازوں کی ضرورت ہے تاکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی پارکنگ سے پیدا ہونے والے مسائل ختم ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر فیصل آباد کے شہریوں اور نمائندوں سے رائے نہیں لی گئی بلکہ اس کا فیصلہ وزیر اعلی نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر کیا جس کی وجہ سے یہ منصوبہ ابھی سے شہریوں کے لئے سہولت کی بجائے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے۔ رانا زاہد توصیف کے مطابق جب ڈویژن کا کمشنر بطور چیف سیکرٹری فیصل آباد ڈویژن پر مشتمل صوبے کے ماتحت کام کرے گا تو مسائل دنوں کی بجائے گھنٹوں میں حل ہوں گے کیونکہ وزیر اعلی سے ملنے کے لئے لوگوں کو لاہور نہیں جانا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں نئے صوبے بننے چاہیے کیونکہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے مسائل بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں اور کوئی بھی وزیر اعلی لاہور میں بیٹھ کر پورے صوبے کے مسائل حل نہیں کر سکتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں