ایک شناخت، تین نسلیں اور تعلیم کا خواب

ساہیوال کے نواحی گاؤں کی رہائشی 40 سالہ نصر ت بی بی چار بچوں کی ماں ہیں۔ کم عمری کی شادی، تعلیم سے محرومی اور شناختی دستاویزات کی عدم دستیابی نے ان کی زندگی میں ایسی مشکلات پیدا کیں جن کے اثرات اب ان کی اگلی نسل تک پہنچ رہے ہیں۔
وہ بتاتی ہیں، “میری شادی 13 سال کی عمر میں ہو گئی تھی۔ اس وقت میں خود بہت چھوٹی تھی اور مجھے شادی کے بعد والی زندگی کی ذمہ داریوں کا زیادہ اندازہ نہیں تھا۔ شادی کے بعد گھر کی ذمہ داریاں میرے اوپر آ گئیں اور پھر بچوں کی پرورش شروع ہو گئی۔ کم عمری میں شادی کی وجہ سے میری تعلیم بھی مکمل نہیں ہو سکی۔”
نصرت بی بی کی پیدائش کا باقاعدہ اندراج نہیں ہوا تھا اور شادی کے وقت نکاح کا بھی سرکاری اندراج نہیں کروایا گیا۔ ان کے والدین نے ان کا شناختی کارڈ بھی نہیں بنوایا تھا۔
وہ کہتی ہیں، “میری پیدائش کا اندراج نہیں ہوا، میری شادی بھی جلد ہو گئی اور نکاح کا اندراج بھی نہیں ہوا۔ شرعی نکاح ہوا تھا۔ میرے گھر والوں نے بھی میرا شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔ سچ پوچھیں تو کبھی اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔”
شادی کے بعد گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں میں مصروف رہنے کے باعث شناختی کارڈ بنوانے کا معاملہ مزید مؤخر ہوتا گیا۔ نصرت بی بی کے مطابق، ان کے خاندان میں یہ تصور عام تھا کہ شناختی کارڈ صرف ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جو ملازمت کرنا چاہتے ہوں یا بیرونِ ملک جانا چاہتے ہوں۔
“ہمارے گھر میں یہ سوچا جاتا تھا کہ شناختی کارڈ انہیں چاہیے ہوتا ہے جنہوں نے نوکری کرنی ہو یا ملک سے باہر جانا ہو۔ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، اس لیے اس معاملے میں لاپرواہی برتی گئی،” وہ بتاتی ہیں۔
اس صورتِ حال کے اثرات اس وقت زیادہ واضح ہوئے جب نصر ت بی بی اپنے بچوں کی پیدائش کا اندراج نہ کروا سکیں۔ ان کے پاس خود شناختی دستاویزات مکمل نہیں تھیں، جس کی وجہ سے بچوں کے لیے بھی قانونی شناخت کے حصول کا عمل متاثر ہوا۔
ان کے چار بچے ہیں—تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ بڑی بیٹی 19 سال، دوسری 17 سال، تیسری 15 سال جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 14 سال ہے۔
اب یہی مسئلہ ان کے بچوں کی تعلیم پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ نصرت بی بی کا سب سے چھوٹا بیٹا نویں جماعت میں داخلے کے مرحلے پر پیدائش کے اندراج نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
ان کی بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے، لیکن اس کا شناختی کارڈ بھی نہیں بن سکا۔ اب ان کی بیٹی کے بچوں کے پیدائش کے اندراج میں بھی رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔
انصر بی بی خاص طور پر اپنے نواسے کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں، کیونکہ ضروری ریکارڈ اور دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث وہ سکول میں داخلہ نہیں لے پا رہا۔
“مجھے سب سے زیادہ پریشانی اس بات کی ہے کہ جو مشکل میری زندگی میں شروع ہوئی تھی، وہ اب میری بیٹی اور اس کے بچے تک پہنچ گئی ہے،” وہ کہتی ہیں۔
چالیس سال کی عمر میں نصر ت بی بی نے بالآخر اپنی پیدائش کا اندراج کروا لیا ہے، تاہم اس عمل کے دوران انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ بتاتی ہیں کہ “مجھے پیدائش کے اندراج پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نکاح سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوئے اور کیس عدالت تک گیا۔ مجھے مختلف مراحل سے گزرنا پڑا اور تقریباً تین ماہ کے بعد میرا پیدائش کا اندراج مکمل ہو سکا۔”
اب وہ شناختی کارڈ بنوانے کے اگلے مرحلے کی منتظر ہیں۔
نصرت بی بی کے لیے شناختی کارڈ اب محض ایک سرکاری دستاویز نہیں رہا بلکہ ان کے بچوں کے مستقبل سے جڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
“میں خاص طور پر چاہتی ہوں کہ میری بیٹی کا بیٹا سکول جائے، پڑھے اور اپنے مستقبل کو بہتر بنائے،” وہ کہتی ہیں۔
نصرت بی بی کی کہانی صرف ایک خاندان تک محدود نہیں۔ ساہیوال کے ایک سرکاری سکول میں تدریسی فرائض انجام دینے والی ثمرہ ممتاز کے مطابق، بچوں کےسکول میں داخلے کی راہ میں والدین کے شناختی کارڈ اور نکاح نامے کی عدم دستیابی ایک اہم رکاوٹ بن کر سامنے آتی ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ ضروری دستاویزات مکمل نہ ہونے کی صورت میں داخلے کا عمل پیچیدہ ہو جاتا ہے اور والدین کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
ثمرہ ممتاز کے مطابق، بچوں کے سکول چھوڑنے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں دستاویزات کی عدم دستیابی، والدین کی مالی مشکلات، بچوں سے گھریلو کام کروانا اور تعلیم کی اہمیت کے بارے میں کم آگاہی شامل ہیں۔ تاہم، ان کے بقول، نئے داخلوں کے وقت ضروری دستاویزات کا نہ ہونا ایک نمایاں مسئلہ ہے۔
پیدائش کا اندراج صرف بچے کی عمر کا ریکارڈ نہیں بلکہ اس کی قانونی شناخت کا ایک اہم ثبوت ہے۔ ثمرہ ممتاز کے مطابق، پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی مدد سے بچے کو صحت، معمول کی ویکسینیشن اور تعلیم سمیت مختلف بنیادی عوامی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں سہولت ملتی ہے۔
ان کے مطابق، پیدائش کا اندراج بچوں کو بدسلوکی اور استحصال سے تحفظ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کم عمری کی شادی یا جبری مشقت جیسے معاملات میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ بچے کی عمر اور شناخت ثابت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے قانونی تحفظ اور معاونت حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
یونیسیف کے مطابق، زیادہ آمدنی والے بیشتر ممالک میں تقریباً تمام بچوں کی پیدائش کا اندراج ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً ہر پانچ میں سے ایک بچہ، یعنی لگ بھگ 15 کروڑ بچے، اب بھی پیدائش کے اندراج سے محروم ہیں۔
یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق ان بچوں میں سے تقریباً نصف صرف پانچ ممالک میں رہتے ہیں: ایتھوپیا میں 1 کروڑ 90 لاکھ، پاکستان میں 1 کروڑ 80 لاکھ، نائجیریا میں 1 کروڑ 40 لاکھ، بھارت میں 1 کروڑ 20 لاکھ اور جمہوری جمہوریہ کانگو میں بھی 1 کروڑ 20 لاکھ بچے پیدائش کے اندراج سے محروم ہیں۔
تاہم، پیدائش کا اندراج ہو جانے کے باوجود ہر بچے کے پاس اس کا ثبوت موجود نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر 5 کروڑ سے زائد بچے ایسے ہیں جن کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ موجود نہیں۔
پیدائش کے اندراج اور قانونی شناخت کا مسئلہ ایسے وقت میں مزید اہم ہو جاتا ہے جب لاکھوں بچے پہلے ہی سکول سے باہر ہیں۔
یونیسیف کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے تمام صوبوں میں سکول سے باہر بچوں (OOSC) کی سب سے بڑی تعداد پنجاب میں ہے۔ اندازے کے مطابق صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 96 سے 97 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 27 فیصد ہیں۔
یونیسیف کے مطابق قانونی شناخت کے ثبوت کے بغیر بچے صحت اور باقاعدہ تعلیم سمیت کئی بنیادی عوامی خدمات تک رسائی سے محروم رہ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں پیدائش کے اندراج کی عدم دستیابی بچوں کے لیے تعلیم سمیت بنیادی خدمات تک رسائی میں ایک اضافی رکاوٹ بن سکتی ہے۔
نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی رپورٹ “The State of Children in Pakistan 2025” کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کی شرح میں وقت کے ساتھ بہتری آئی ہے، تاہم صوبائی اور علاقائی سطح پر نمایاں فرق اب بھی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق:
• قومی سطح: پانچ سال سے کم عمر تقریباً 42 فیصد بچوں کی پیدائش رجسٹرڈ ہے۔
• پنجاب: تازہ ترین MICS اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کی شرح 78.2 فیصد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں آگاہی، نادرا دفاتر اور یونین کونسل تک نسبتاً آسان رسائی کے باعث پیدائش کی رجسٹریشن کی شرح 60 فیصد سے زائد ہے۔ اس کے مقابلے میں دیہی اور دور دراز علاقوں میں رسائی کی کمی، معلومات کی عدم دستیابی اور کاغذی کارروائی کے پیچیدہ نظام کے باعث یہ شرح 30 سے 35 فیصد کے درمیان رہتی ہے۔
NCRC کی رپورٹ میں پیدائش کی رجسٹریشن کے عمل کو متاثر کرنے والے متعدد عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بہت سے والدین برتھ سرٹیفکیٹ یا نادرا رجسٹریشن کی اہمیت سے ناواقف ہوتے ہیں اور اسے صرف سکول میں داخلے یا پاسپورٹ بنوانے کے وقت ضروری سمجھتے ہیں۔
دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے یونین کونسل یا نادرا مراکز تک پہنچنے کے اخراجات اور رجسٹریشن فیس بھی اضافی بوجھ بن سکتے ہیں۔ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے باعث بے گھر ہونے والے خاندان اپنے شناختی اور قانونی دستاویزات سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کے بعد دوبارہ رجسٹریشن کا عمل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پناہ گزین اور غیر رجسٹرڈ خاندانوں کے بچوں کو بھی پیدائش کے اندراج کے عمل میں قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نادرا اور صوبائی حکومتوں نے، خصوصاً یونیسیف کے تعاون سے، ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن کے نظام کو وسعت دینے کی کوششیں کی ہیں۔ اس کے تحت موبائل ایپ اور ہیلتھ ورکرز، بشمول لیڈی ہیلتھ ورکرز، کے ذریعے پیدائش کے ساتھ ہی رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت سول رجسٹریشن اینڈ وائٹل اسٹیٹسٹکس کے نظام کو بھی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ صحت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ پیدائش کے ڈیٹا کا رابطہ بہتر بنایا جا سکے۔
NCRC کی رپورٹ میں تمام بچوں کی مفت اور لازمی پیدائش کی رجسٹریشن یقینی بنانے، یونین کونسل اور نادرا کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے اور رجسٹریشن کا عمل آسان بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بلوچستان، سندھ اور دیگر دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں موبائل رجسٹریشن ٹیموں کے ذریعے رسائی بڑھانے اور والدین میں پیدائش کے اندراج کی قانونی اور سماجی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے عوامی آگاہی مہمات چلانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
نصرت بی بی کے لیے شناخت کا یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنی پیدائش کا اندراج تو کروا لیا ہے، مگر شناختی کارڈ کا حصول ابھی باقی ہے۔ دوسری طرف ان کی بیٹی اور نواسے کو بھی وہی دستاویزی مشکلات درپیش ہیں جن کا سامنا انہوں نے برسوں پہلے کیا تھا۔
ان کی خواہش سادہ ہے: ان کے بچے اور نواسہ تعلیم حاصل کریں اور وہ مشکلات نہ جھیلیں جو ان کی اپنی زندگی کا حصہ بنیں۔

نوٹ: اس کہانی میں خاتون کا نام اور گاؤں کا نام ان کی اور ان کے خاندان کی رازداری اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیل کیے گئے ہیں۔

Author

  • الویرا وقاص کا تعلق ساہیوال سے ہے اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کی صحافتی دلچسپی کے نمایاں موضوعات میں خواتین اور بچوں کے حقوق، مذہبی اقلیتوں کے مسائل، شہری امور اور زراعت شامل ہیں۔ وہ اپنی رپورٹنگ کے ذریعے بالخصوص ان طبقات اور مسائل کو اجاگر کرنے پر توجہ دیتی ہیں جو عمومی طور پر مرکزی دھارے کی بحث میں نظرانداز رہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں