لائل پور کی تاریخ کے فراموش شدہ ہیرو

لائل پور شہر کا چوک گھنٹہ گھر ویسے تو خوب سجا ہوا ہے۔ اس کے چاروں اطراف نئی کارپٹ سڑکیں ہیں لیکن کسی جگہ بھی کوئی ایک واحد تختی بھی ایسی نصب نہیں ہے جو ہمیں یاد دلائے کہ اس چوک میں پہلی عالمی جنگ کے دوران لائلپور کے کسانوں نے جمع ہو کر انگریز راج کو للکارا تھا۔
پنجاب کی نہروں اور کالونیوں کے اضلاع میں انگریز سامراجی سرکار نے نئی زمینیں آباد کرنے والے کسانوں کو حق ملکیت دینے سے انکار کرکے آبیانے کے ریٹ بڑھا دیے تھے۔ اس دور میں سوکھا پڑنے سے فصلیں بھی نہیں ہوئی تھیں اور غریب کسان سود خوروں کے ہاتھوں گروی رکھی اپنی زمینیں کھو رہے تھے۔ اس کے علاوہ کسان جبری فوجی بھرتی سے بھی تنگ آئے ہوئے تھے۔
ان حالات میں لائل پور ان دنوں ایک طرف تو “پگڑی سنبھال او جٹا ” تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا تو دوسری طرف یہ انگریز راج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اس کے خلاف مسلح بغاوت کی تیاریوں میں مصروف آزادی پسندوں کی تحریک کے اہم مرکز میں بدل چکا تھا۔
بھگت سنگھ کے چچا سردار اجیت سنگھ غریب کسانوں اور آزادی پسندوں کی اس تحریک کے لائل پور میں سب سے بڑے سرگرم لیڈر تھے۔ وہ بعد ازاں کالا پانی کی سزا پانے والے لیڈروں میں سے ایک تھے اور پھر غدر پارٹی کی تشکیل کرنے والے اہم رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ تاہم سردار اجیت سنگھ کے نام کی کوئی تختی آج لائل پور کے چوک گھنٹہ گھر میں نصب نہیں ہے۔
اسی چوک گھنٹہ گھر میں آل انڈیا کانگریس کے 100 سے زائد سرگرم کارکنوں نے “ہندوستان چھوڑ دو تحریک ” کے لیے احتجاج کرتے ہوئے گرفتاریاں دی تھیں۔ بعدازاں ان کارکنوں کو پنجاب اور بلوچستان کی بدنام زمانہ جیلوں میں بند کرکے شدید تشدد اور اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم ان 100 گمنام آزادی کے کارکنوں کی کوئی یادگار بھی چوک گھنٹہ گھر میں تعمیر نہیں کی گئی۔
نئی نسل کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایوب خان کے خلاف 69-1968 میں چلنے والی تحریک میں شامل سیاسی کارکنوں، طالب علموں، مزدوروں اور کسانوں کو اسی چوک میں کئی مرتبہ پولیس کی لاٹھیاں اور آنسو گیس کے شیل کھانے پڑے تھے اور اس چوک کی زمین ان کے لہو سے کئی بار سرخ ہوئی تھی۔
میں اس چوک میں کھڑا ہو کر یاد کر رہا تھا کہ یہاں کبھی مولانا عبدالحمید بھاشانی، میاں محمود، ولی خان اور اعزاز نذیر نے عوام کے بڑے اجتماع میں کہا تھا کہ جب ملک میں سوشلسٹ انقلاب آئے گا تو وہ اس ملک میں 1935ء کے چربہ آئین سے ضابطہ فوجداری میں شامل وہ تمام دفعات ختم کر دیں گے جو انگریز سامراج نے غلام ہندوستانیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اس میں شامل کی تھیں۔
ان میں سے ایک دفعہ 144 ہے جو آج پورے بلوچستان میں نافذ ہے اور “بی وائی سی” کے احتجاجی مظاہروں کو اسی دفعہ کی آڑ میں کچلا جا رہا ہے اور میں جب لائلپور میں داخل ہوا تو مجھے پتا چلا کہ پورے پنجاب کی طرح اس ضلع میں بھی دفعہ 144 نافذ ہے اور چار یا چار سے زائد افراد کے اجتماع کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔
فیصل آباد کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بلوچ طالب علم اکیلے فیصل آباد میں نکلتے ہوئے خوف کھاتے ہیں۔ انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب انھیں اٹھا کر جبری لاپتا کر دیا جائے۔
آج 5 جولائی کا دن ہے اور اس روز ملک میں تیسرا مارشل لاء لگا تھا اور اس روز سے جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں، طالب علموں، مزدور رہنماؤں، شاعروں، ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تھی۔ ان کو فوجی عدالتوں سے سزائیں سنانا معمول بن گیا تھا تب لائلپور بحالی جمہوریت کی تحریک “ایم آر ڈی” کا پنجاب میں ایک بڑا مرکز تھا۔

Author

  • محمد عامر حسینی سینئر صحافی اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ نہ صرف فکشن لکھتے ہیں بلکہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو غیر ملکی ادب کے اردو تراجم ہیں۔ادب، صحافت اور ترجمے کے میدان میں ان کی کاوشیں علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں