فیصل آباد: ماحولیاتی وفضائی آلودگی، سموگ اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لئے محکمہ ماحولیات نے فیصل آباد میں جدید اینٹی سموگ گنز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ماحولیات عمران حامد شیخ نے کہا کہ اینٹی سموگ گنز شہر بھر میں اہم مقامات پر تعینات کی جائیں گی تاکہ پانی کے باریک زرات کے چھڑکاو سے دھول اور فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل انور علی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ مدثر ممتاز، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات محمد عثمان، فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن اور یونیورسٹی آف فیصل آباد کے نمائندے بھی موجود تھے۔
افتتاح سے قبل ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں محکمہ ماحولیات نے اسموگ پر قابو پانے کی جاری حکمت عملی اور خطے کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔

اس موقع پر محکمہ ماحولیات اور یونیورسٹی آف فیصل آباد نے ماحولیاتی آگاہی، تحقیق اور سموگ پر قابو پانے کے اقدامات پر تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کئے۔
اس شراکت داری کا مقصد فضائی آلودگی اور آب و ہوا سے متعلق چیلنجوں کے لیے ثبوت پر مبنی حل پیدا کرنے میں تعلیمی اداروں کے کردار کو بڑھانا ہے۔
شرکاء نے فیصل آباد کو سرسبز و شاداب اور کم آلودہ شہر بنانے کے لیے عملی اقدامات میں تیزی لانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحت عامہ کے تحفظ اور موسمیاتی لچک پیدا کرنے کے لیے سرکاری محکموں، صنعتوں، یونیورسٹیوں اور شہریوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
واضح رہے کہ اینٹی سموگ گن پانی کی بوندوں کو پریشر سے ہوا میں چھوڑتی ہے جو معلق ذرات کو گرفت میں لے کر ان کا ارتکاز کم کر دیتی ہے۔

بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور سموگ سے نمٹنے کے لئے اینٹی سموگ گنز گزشتہ سال لاہور میں بھی استعمال کی گئی تھیں.اس حوالے سے ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ اینٹی سموگ گن کا استعمال کوئی مستقل حل نہیں ہے لیکن یہ دھول کے ارتکاز کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور خاص طور پر اس کا استعمال ہائی ٹریفک کوریڈورز، تعمیراتی زونز اور آلودگی کے ہاٹ سپاٹ میں موثر ثابت ہوا ہے۔
تاہم ماہرین ماحولیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فضائی آلودگی اور سموگ کے مستقل خاتمے کے لیے صنعتوں سے دھویں اور مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی روک تھام، ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ، قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی، فصلوں کی باقیات کو جلانے سے گریز اور شہری جنگلات کی نشوونما جیسے اقدامات ضروری ہیں۔
