پاکستان میں نئے صوبے، ریاست اور طبقاتی سیاست

نئے صوبوں کے قیام کا مسئلہ دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی، انتظامی اور سماجی بحث کا موضوع رہا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں کو تقسیم کرنے سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، عوام کو اقتدار کے قریب لایا جا سکتا ہے اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے گہرے سیاسی، معاشی اور طبقاتی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ عام آدمی یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ریاستی تقسیم کے عمل سے حقیقی فائدہ کس طبقے کو حاصل ہوگا اور کیا یہ تبدیلی عوامی زندگی میں بنیادی بہتری لائے گی یا صرف حکمران طبقات کے لیے اقتدار کے نئے مراکز پیدا کرے گی؟
کسی بھی معاشرے کی سیاسی اور قانونی ساخت اس کی معاشی بنیاد سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ذرائع پیداوار پر جس طبقے کا قبضہ ہوتا ہے، وہی طبقہ سیاسی طاقت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے ریاستی اداروں کی ساخت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشی طاقت کے مراکز کا جائزہ لیں۔ نئے صوبوں کا قیام بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ آیا یہ عمل معاشی اختیارات کو عوام تک منتقل کرتا ہے یا صرف طاقتور گروہوں کے لیے نئے انتظامی مراکز قائم کرتا ہے۔
مارکس اور اینگلز نے اپنی معروف تصنیف “کمیونسٹ مینی فیسٹو” میں طبقاتی جدوجہد کو تاریخ کا بنیادی محرک قرار دیا۔ ان کے مطابق معاشرے میں حکمران طبقہ اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے مختلف اداروں کو استعمال کرتا ہے۔ اس نظریے کی روشنی میں دیکھا جائے تو انتظامی تقسیم بھی محض جغرافیائی عمل نہیں رہتی بلکہ طاقت کی تقسیم کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اگر نئے صوبے ایسے سیاسی گروہوں کے زیر اثر قائم ہوں جو پہلے ہی معاشی وسائل پر قابض ہیں تو تبدیلی صرف حکمران طبقے کے ایک مرکز سے دوسرے مرکز تک منتقلی بن جاتی ہے۔
لینن نے اپنی کتاب “ریاست اور انقلاب”میں ریاست کو طبقاتی اقتدار کا آلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ریاستی ادارے اس وقت تک غیر جانبدار نہیں ہو سکتے جب تک معاشرے میں بنیادی معاشی نابرابری موجود ہو۔ اس نظریے کے مطابق نئے صوبے قائم کرنے سے پہلے یہ سوال اہم ہے کہ کیا ان علاقوں میں زمین، صنعت، معدنی وسائل اور سرمایہ کی تقسیم منصفانہ ہے؟ اگر معاشی طاقت چند خاندانوں یا سرمایہ دار گروہوں کے پاس موجود رہے تو نئی صوبائی حکومت بھی اسی طبقاتی ڈھانچے کا حصہ بن سکتی ہے۔
اطالوی مارکسی مفکر انتونیو گرامشی نے “ثقافتی غلبے” کے تصور کے ذریعے بتایا کہ حکمران طبقہ صرف ریاستی طاقت سے نہیں بلکہ عوامی سوچ اور سیاسی بیانیے پر اثر انداز ہو کر بھی اپنی بالادستی برقرار رکھتا ہے۔ گرامشی کے نظریے کی روشنی میں علاقائی شناخت اور صوبائی مطالبات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات حقیقی محرومیوں کو بنیاد بنا کر ایسے سیاسی بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں جن میں عوام کے معاشی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور شناختی سیاست مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں ترقی اکثر غیر مساوی ہوتی ہے۔ بعض علاقے صنعتی، تعلیمی اور معاشی طور پر ترقی کر جاتے ہیں جبکہ دوسرے علاقے پسماندگی کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی خطے کے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں وسائل، روزگار، تعلیم یا صحت کی سہولیات میں برابر کا حصہ نہیں مل رہا تو یہ ایک حقیقی سیاسی مسئلہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے اس بنیادی مسئلے کا حل ہیں یا صرف انتظامی تبدیلی؟
پاکستان کے تناظر میں نئے صوبوں کی بحث کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ اور دیگر علاقوں میں صوبائی مطالبات کے پیچھے انتظامی محرومی، ترقیاتی عدم مساوات اور نمائندگی کے مسائل موجود ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اہم ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے بعد کیا مقامی جاگیردار، سرمایہ دار اور سیاسی اشرافیہ کمزور ہوں گے یا وہی طبقات نئے صوبائی ڈھانچے پر بھی حاوی رہیں گے؟ اگر طاقت کا ارتکاز برقرار رہتا ہے تو صوبے بدلنے سے عوام کی قسمت نہیں بدلتی۔
نیکوس پولانزاس نے ریاست کو صرف حکمران طبقے کا براہ راست آلہ نہیں بلکہ مختلف طبقاتی قوتوں کے درمیان تعلقات کا میدان قرار دیا۔ اس نظریے کے مطابق ریاست کے اندر تبدیلی کے امکانات موجود ہوتے ہیں، لیکن یہ تبدیلی طبقاتی جدوجہد اور عوامی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لیے نئے صوبے اس وقت زیادہ معنی رکھتے ہیں جب ان کے ساتھ مضبوط مقامی جمہوریت، شفاف ادارے، عوامی شرکت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی موجود ہو۔
ڈیوڈ ہاروی نے سرمایہ داری، جغرافیہ اور طاقت کے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سرمایہ داری جگہوں (Spaces) کو بھی اپنے مفادات کے مطابق تشکیل دیتی ہے۔ شہروں، علاقوں اور انتظامی تقسیم کا تعلق اکثر سرمایہ کاری، وسائل اور طاقت کے بہاؤ سے ہوتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے نئے صوبوں کے قیام کو بھی معاشی مفادات، وسائل کی تقسیم اور سرمایہ کے راستوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
نئے صوبوں کے مخالفین انتظامی اخراجات، سیاسی تقسیم اور وسائل کے تنازعات کا ذکر کرتے ہیں۔ مارکسی نقطۂ نظر ان خدشات کو ایک وسیع تر سوال سے جوڑتا ہے کہ ریاستی وسائل کس طرح خرچ ہوتے ہیں اور ان کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے۔ اگر نئے صوبوں کے قیام سے صرف نئی وزارتیں، نئی مراعات اور نئی سیاسی اشرافیہ پیدا ہوتی ہے تو یہ عوامی مفاد کے بجائے اشرافیائی سیاست کو مضبوط کرے گا۔
ترقی پسند نقطہ نظر نئے صوبوں کے قیام کو نہ مکمل طور پر رد کرتا ہے اور نہ اسے خود بخود ترقی کا ضامن سمجھتا ہے۔ اس کے لیے اصل معیار یہ ہے کہ نئی انتظامی تقسیم سماجی انصاف، معاشی برابری اور عوامی اختیار میں اضافہ کرتی ہے یا نہیں۔ ایک مزدور، کسان، طالب علم اور عام شہری کے لیے صوبے کی سرحد سے زیادہ اہم اس کے روزگار، تعلیم، صحت اور عزتِ نفس کے مسائل ہیں۔اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف جغرافیائی یا سیاسی مسئلہ بنانے کے بجائے طبقاتی سوال کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ ریاستی طاقت اور معاشی وسائل کا مالک کون ہے؟ اگر نئی تقسیم عوام کو بااختیار بناتی ہے تو یہ ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر یہ صرف نئی اشرافیہ کے قیام کا راستہ بنتی ہے تو یہ محض سیاسی نقشے کی تبدیلی ہوگی، سماجی تبدیلی نہیں۔

Author

  • ڈاکٹر عبدالعزیز ملک گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں