تعلیم کا مستقبل عمارتیں یا استاد؟

بین الاقوامی تنظیم “T4 ایجوکیشن” نے دنیا کے بہترین سکول کا انعام دینے کے لئے پاکستان کے دو سکولوں کو دس بہترین سکولوں کی فائنل فہرست میں شامل کیا ہے۔ ان میں ایک سکول صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد کا گورنمنٹ گرلز لوئر سکینڈری سکول ٹنڈو میر غلام حسین ہے اور دوسرا پنجاب کے شہر لاہور کا ایک نجی سکول ٹی این ایس بیکن ہاوس ہے۔
اس ایوارڈ کو تعلیم کے حوالےسے دنیا کے باوقار اعزازت میں شمار کیا جاتا ہے اور پاکستان کے دو مختلف پس منظر کے سکولوں کا دنیا کے اس معتبر ترین ایوارڈ کے لئے منتخب ہونا صرف ان اداروں کی کامیابی نہیں بلکہ اس حقیقت کا بھی ثبوت ہے کہ اچھی تعلیم کا انحصار عمارتوں، بجٹ یا نصاب سے زیادہ اساتذہ کے ویژن، وابستگی اور تدریسی طریقۂ کار پر ہوتا ہے۔
یہ کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پنجاب میں سرکاری اسکولوں کے مستقبل پر ایک اہم بحث جاری ہے۔ ایک طرف حکومت کم داخلوں اور ناقص کارکردگی والے سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جبکہ دوسری جانب اساتذہ تنظیمیں اس فیصلے کو سرکاری تعلیم کے خلاف قرار دے رہی ہیں۔ وزیر تعلیم بھی متعدد مواقع پر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی مجموعی کارکردگی، استعداد اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
اس بحث میں عموماً توجہ تعلیم کے بجٹ پر مرکوز رہتی ہے جبکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ بچوں کو بہتر تعلیم کون اور کیسے فراہم کر رہا ہے؟ حیدرآباد کے ایک سرکاری گرلز اسکول کی مثال اس سوال کا عملی جواب ہے۔ انتہائی پسماندہ علاقے میں قائم اس اسکول نے ایسی بچیوں کے لیے جو غربت کے باعث کام کرنے پر مجبور تھیں، روایتی نظام بدل کر دو شفٹوں، سرگرمیوں پر مبنی تدریس، گھروں کے دوروں اور والدین کی مسلسل کونسلنگ کا نظام متعارف کرایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ داخلوں میں 90 فیصد، حاضری میں 80 فیصد اضافہ ہوا جبکہ 80 فیصد سے زیادہ والدین نے بچیوں کی تعلیم کو چائلڈ لیبر پر ترجیح دینا شروع کر دیا۔
دوسری طرف لاہور کے نجی سکول نے خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے ایسا تدریسی ماحول تشکیل دیا جس میں ہر بچے کی ذہنی صلاحیت، نفسیاتی کیفیت اور سیکھنے کے انداز کو مدنظر رکھا گیا۔ اس کا نتیجہ بہتر حاضری، کم رویہ جاتی مسائل، زیادہ اعتماد اور اعلیٰ تعلیم کے لیے غیر معمولی کامیابیوں کی صورت میں سامنے آیا۔
ان دونوں مثالوں میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ یہ کہ کامیابی کی بنیاد نہ تو صرف وسائل تھے اور نہ ہی جدید عمارتیں بلکہ ایسے اساتذہ تھے جنہوں نے بچوں کے مطابق نظام تبدیل کیا، نہ کہ بچوں کو نظام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔
پاکستان میں تعلیمی مباحث اکثر نصاب، امتحانات، بجٹ یا انتظامی ڈھانچے تک محدود رہتے ہیں جبکہ دنیا کا جدید تعلیمی فلسفہ استاد کو محض لیکچر دینے والا نہیں بلکہ رہنما، مشیر، محقق اور مسئلہ حل کرنے والا فرد سمجھتا ہے۔ بہترین استاد وہ ہے جو ہر بچے کے پس منظر، معاشی حالات، ذہنی استعداد اور نفسیاتی ضروریات کو سمجھ کر تدریس کا طریقہ اختیار کرے۔
اس لیے تعلیمی بجٹ کے حوالے سے جاری بحث کو “سرکاری یا نجی سکول” کی دو انتہاؤں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگر سرکاری سکولوں میں ہزاروں باصلاحیت، مخلص اور متحرک اساتذہ موجود ہیں تو ان کی مثالیں سامنے لانا، انہیں مزید تربیت، اختیار اور وسائل فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اسی طرح اگر بعض اداروں میں کارکردگی کمزور ہے تو اس کی وجوہات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا بھی ناگزیر ہے۔ پورے نظام کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا نہ تو اساتذہ کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی بچوں کے ساتھ جن کے نام پر ہر سال اربوں روپے نظام تعلیم پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات کا مرکز اب انفراسٹرکچر نہیں بلکہ “ٹیچر کوالٹی” بن چکا ہے۔ فن لینڈ، سنگاپور، جاپان اور دیگر کامیاب تعلیمی نظاموں نے ثابت کیا ہے کہ بہترین اساتذہ ہی بہترین تعلیمی نتائج پیدا کرتے ہیں۔
پاکستان کے ان دو اسکولوں کی عالمی پذیرائی یہی پیغام دیتی ہے کہ تعلیم کی اصل طاقت استاد کے جذبے، تربیت، پیشہ ورانہ آزادی اور بچوں کے ساتھ اس کے تعلق میں پوشیدہ ہے۔ اگر پالیسی ساز واقعی سرکاری تعلیم کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف اسکولوں کے انتظامی ڈھانچے پر نہیں بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، مسلسل تربیت، احتساب اور حوصلہ افزائی پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی کا فیصلہ عمارتیں نہیں کرتیں بلکہ وہ اساتذہ کرتے ہیں جو اس پیشے کو صرف سکاری ملازمت کے حصول کی خاطر نہیں اپناتے ہیں بلکہ ان کی اولین ترجیح اپنے طلبہ کی زندگیاں بدلنے کا عزم اور جدوجہد ہوتی ہے۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں