شناخت کا فلسفہ: تسلسل، تبدیلی اور ذات کی تلاش

انسانی زندگی کے بنیادی سوالات میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ ہماری شناخت کیا ہے؟ کیا انسان کی شناخت ایک ایسی متعین حقیقت ہے جو پیدائش کے ساتھ ہی وجود میں آ جاتی ہے اور زندگی بھر برقرار رہتی ہے، یا شناخت ایک ایسا عمل ہے جو وقت، حالات، تجربات اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ مسلسل بدلتا رہتا ہے؟ بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال محسوس ہوتا ہے، لیکن فلسفے، نفسیات، سماجیات اور ادبی تنقید میں اس پر طویل بحث موجود ہے۔ اس سوال کا تعلق صرف فرد کی ذات سے نہیں بلکہ اس کی زبان، ثقافت، مذہب، طبقے، جنس، قومیت اور معاشرتی حیثیت سے بھی ہے۔ انسان خود کو جس طرح دیکھتا ہے، دوسرے لوگ اسے جس نظر سے پہچانتے ہیں اور معاشرہ اسے جو مقام دیتا ہے، یہ سب عوامل مل کر اس کی شناخت کی تشکیل کرتے ہیں۔
قدیم یونانی فلسفے میں افلاطون نے حقیقت کو دو سطحوں پر تقسیم کیا تھا۔ ایک وہ دنیا ہے جسے ہم اپنے حواس سے دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، جہاں ہر چیز تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جبکہ دوسری دنیا مثالی تصورات کی ہے جہاں حقیقت مستقل اور ابدی حیثیت رکھتی ہے۔ افلاطون کے اس تصور سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ظاہری تبدیلیوں کے باوجود کسی شے کی ایک بنیادی حقیقت موجود ہو سکتی ہے۔ شناخت کے حوالے سے اس تصور کو دیکھا جائے تو انسان کی ظاہری شخصیت، حالات اور رویے تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے وجود کی کوئی بنیادی حقیقت ایسی بھی ہو سکتی ہے جو ان تبدیلیوں کے باوجود برقرار رہے۔ اس کے شاگرد ارسطو نے بھی جوہر اور عرض کے درمیان فرق قائم کیا۔ اس کے مطابق کسی شے کی کچھ خصوصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے بغیر اس کی بنیادی شناخت باقی نہیں رہتی، جبکہ بعض خصوصیات تبدیل ہونے کے باوجود اس کی اصل شناخت برقرار رہتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک انسان بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے تک پہنچتا ہے۔ اس کا جسم، خیالات، لباس، پیشہ اور سماجی حیثیت تبدیل ہو جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اسے وہی انسان سمجھتے ہیں۔ اس طرح ارسطو کے فلسفے میں شناخت کے تسلسل اور تبدیلی دونوں کی گنجائش موجود ہے۔
جدید فلسفے میں انگریز مفکر جان لاک نے شخصی شناخت کے مسئلے کو شعور اور یادداشت کے ساتھ جوڑا۔ اس کے نزدیک انسان کی شناخت کا تعلق اس بات سے ہے کہ وہ اپنے ماضی کے واقعات، تجربات اور اعمال کو کس طرح اپنے موجودہ شعور کا حصہ سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر آج کا انسان اپنے بچپن کے واقعات کو یاد کرتا ہے اور انہیں اپنی زندگی کا حصہ تصور کرتا ہے۔ یہی یادداشت اسے اپنے ماضی سے جوڑتی ہے۔ اس طرح انسان کی شناخت محض جسمانی وجود کا نام نہیں بلکہ شعور کے تسلسل سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ تاہم اس نظریے پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کے بعض واقعات بھول جائے تو کیا اس کی شناخت بھی تبدیل ہو جائے گی؟ کیا یادداشت کا ختم ہو جانا انسان کی سابقہ شناخت کو بھی ختم کر دیتا ہے؟ یہ سوال ظاہر کرتا ہے کہ انسانی شناخت کا مسئلہ محض یادداشت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے برعکس ڈیوڈ ہیوم نے مستقل ذات کے تصور پر سوال اٹھایا۔ اس کے نزدیک جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے تو اسے کوئی ایسی مستقل اور غیر متغیر ذات نظر نہیں آتی جو ہر وقت ایک جیسی ہو۔ اس کے بجائے اسے مختلف احساسات، خواہشات، خیالات، تجربات اور یادداشتوں کا ایک مسلسل سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ ہیوم کے مطابق جسے ہم اپنی مستقل ذات سمجھتے ہیں، وہ دراصل ان مختلف تجربات کا مجموعہ ہے۔ اس تصور کے تحت شناخت کوئی جامد حقیقت نہیں بلکہ بدلتے ہوئے احساسات اور تجربات سے تشکیل پانے والا عمل ہے۔ اس نظریے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان کی شخصیت اور خود شناسی کو کسی ایک مقام پر روک کر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ اس کے تجربات اور احساسات مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
کارل مارکس نے شناخت کے مسئلے کو سماجی، معاشی اور تاریخی حالات کے تناظر میں دیکھا۔ اس کے نزدیک انسان کو اس کے معاشرتی ماحول اور مادی زندگی سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ انسان جس معاشرے میں رہتا ہے، جس طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور جس معاشی نظام میں زندگی گزارتا ہے، یہ تمام عوامل اس کے شعور اور شناخت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک مزدور، کسان، سرمایہ دار یا جاگیردار کی سماجی شناخت محض اس کی انفرادی پسند کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کا تعلق معاشرے میں موجود معاشی اور طبقاتی رشتوں سے بھی ہوتا ہے۔ مارکس کے فلسفے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شناخت صرف انفرادی معاملہ نہیں بلکہ اس کی تشکیل میں معاشرتی ڈھانچے اور تاریخی حالات کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ جب معاشی اور سماجی نظام تبدیل ہوتے ہیں تو انسان کے کردار، مفادات اور خود شناسی میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
وجودیت پسند فلسفی ژاں پال سارتر نے شناخت کے مسئلے کو انسانی آزادی اور انتخاب کے ساتھ جوڑا۔ اس کا مشہور فلسفیانہ اصول ہے کہ وجود جو ہر پر مقدم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان پہلے دنیا میں موجود ہوتا ہے اور اس کے بعد اپنے فیصلوں، انتخاب اور اعمال کے ذریعے اپنی شخصیت تشکیل دیتا ہے۔ سارتر کے نزدیک انسان کسی پہلے سے طے شدہ شناخت کا قیدی نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص کسی خاص خاندان، طبقے یا ماحول میں پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کی پوری زندگی اور شناخت پیدائش کے وقت ہی متعین نہیں ہو جاتی۔ وہ اپنے فیصلوں اور عمل سے اپنی زندگی کا راستہ تبدیل کر سکتا ہے۔ اس طرح شناخت ایک ایسی حقیقت بن جاتی ہے جو انسان کے انتخاب اور عملی زندگی کے ساتھ مسلسل تشکیل پاتی رہتی ہے۔
فرانسیسی فلسفی مشیل فوکو نے شناخت کو طاقت، علم اور سماجی اداروں کے ساتھ منسلک کیا۔ اس کے نزدیک معاشرہ صرف انسان کے رویوں کو کنٹرول نہیں کرتا بلکہ اس کی شناخت کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاندان، تعلیمی ادارے، مذہب، قانون، طب، جیل اور ریاست ایسے ادارے ہیں جو انسان کے بارے میں مختلف تصورات قائم کرتے ہیں اور اسے مخصوص شناختیں فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی شخص کو ذہین، مجرم، نارمل، غیر معمولی، باغی یا قابلِ قبول قرار دینا محض الفاظ کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ ان اصطلاحات کے پیچھے سماجی طاقت اور علم کے نظام بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ فوکو کے مطابق شناخت کو اس تاریخی اور سماجی ماحول سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا جس میں وہ تشکیل پاتی ہے۔ ایک زمانے میں جس رویے یا شناخت کو غیر معمولی سمجھا جاتا ہے، ممکن ہے دوسرے زمانے میں اسے قابلِ قبول تصور کیا جانے لگے۔ اس طرح شناخت کے تصورات بھی تاریخی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔
ژاک دریدا نے شناخت کے مسئلے کو زبان اور معنی کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے نزدیک کسی لفظ یا تصور کا معنی مکمل طور پر مستقل اور حتمی نہیں ہوتا بلکہ دوسرے الفاظ اور تصورات کے ساتھ اس کے تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ ہم کسی چیز کی شناخت اکثر اس بات سے بھی کرتے ہیں کہ وہ دوسری چیزوں سے کس طرح مختلف ہے۔ مثلاً ہم اپنی شناخت کی وضاحت کرتے ہوئے خود کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ اس طرح شناخت کا تصور بھی تعلق، فرق اور اختلاف کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ دریدا کے فلسفے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شناخت کوئی بند اور مکمل حقیقت نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس میں معنی اور تصورات مسلسل نئے سیاق و سباق میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
جدید ثقافتی مطالعات میں برطانوی مفکر اسٹورٹ ہال نے شناخت کے تصور کو نئی اہمیت دی۔ اس کے نزدیک شناخت کوئی ایسی چیز نہیں جو انسان کو پیدائش کے وقت مکمل طور پر مل جاتی ہے، بلکہ یہ تاریخ، ثقافت، زبان، اجتماعی یادداشت اور سماجی تجربات کے ذریعے مسلسل تشکیل پاتی ہے۔ ہال کے مطابق شناخت کا ایک پہلو مشترکہ تاریخی اور ثقافتی تجربات سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک قوم، نسل یا ثقافتی گروہ کے افراد اپنے اندر مشترکہ شناخت محسوس کرتے ہیں۔ لیکن شناخت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیشہ تشکیل کے عمل میں رہتی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک پاکستانی شہری کی شناخت صرف اس کی قومی شہریت تک محدود نہیں ہوتی۔ وہ بیک وقت پنجابی، سندھی، بلوچی یا پشتون، کسی مخصوص زبان کا بولنے والا، کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا، استاد، ادیب، سیاسی کارکن یا کسی خاص فکری رجحان کا حامل بھی ہو سکتا ہے۔ ان تمام شناختوں کی اہمیت مختلف حالات میں تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ایک شخص اپنے گھر میں ایک خاص شناخت رکھتا ہے، تعلیمی ادارے میں اس کی شناخت مختلف ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے معاشرے میں پہنچ کر وہ خود کو ایک نئے حوالے سے پہچاننے لگتا ہے۔
شناخت کے اس پورے فلسفیانہ مباحث میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا انسان اپنی شناخت خود بناتا ہے یا معاشرہ اسے شناخت فراہم کرتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں عوامل کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اپنی مرضی، انتخاب اور تجربات کے ذریعے اپنی شناخت کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے، لیکن اس کی آزادی مکمل اور غیر محدود نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق ایک مخصوص زبان، ثقافت، خاندان، تاریخ اور معاشرتی ماحول سے ہوتا ہے۔ وہ ان اثرات سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا، تاہم ان کے اندر رہتے ہوئے اپنی شناخت کی نئی تعبیر ضرور اختیار کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شناخت ایک طرف ماضی سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری طرف مستقبل کے امکانات بھی اپنے اندر سموئے رکھتی ہے۔
موجودہ دور میں عالمگیریت، ہجرت، ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے شناخت کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک شخص اپنی مقامی ثقافت سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی ثقافت کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں اپنی قومی، لسانی اور مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مختلف عالمی فکری رجحانات سے بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی انسان کو اپنی شناخت پیش کرنے کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ اب انسان صرف وہ نہیں رہتا جسے معاشرہ پہچانتا ہے بلکہ وہ اپنی ایک ایسی شناخت بھی تشکیل دیتا ہے جسے وہ دوسروں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ بعض اوقات اس کی حقیقی زندگی اور ڈیجیٹل دنیا میں پیش کی جانے والی شخصیت کے درمیان فرق بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شناخت کا مسئلہ اب صرف فلسفے یا سماجیات تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کے مباحث میں بھی بنیادی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
اگر ان تمام فلسفیانہ نظریات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شناخت کے بارے میں کوئی ایک متفقہ جواب موجود نہیں۔ افلاطون اور ارسطو کے فلسفے میں مستقل حقیقت اور تسلسل کی اہمیت نمایاں ہے، جان لاک اسے شعور اور یادداشت سے جوڑتا ہے، جبکہ ہیوم مستقل ذات کے تصور پر سوال اٹھاتا ہے۔ مارکس شناخت کی تشکیل میں معاشی اور سماجی حالات کو اہم سمجھتا ہے، سارتر انسانی آزادی اور انتخاب پر زور دیتا ہے، فوکو طاقت اور علم کے کردار کو واضح کرتا ہے اور دریدا شناخت کو زبان اور اختلاف کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح اسٹورٹ ہال شناخت کو ایک مسلسل تشکیل پانے والا ثقافتی اور تاریخی عمل قرار دیتا ہے۔
میرے خیال میں شناخت کو نہ تو مکمل طور پر مستقل حقیقت سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ایسی چیز قرار دیا جا سکتا ہے جس کا ماضی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ انسان اپنی تاریخ، زبان، ثقافت، خاندان اور اجتماعی یادداشت سے جڑا رہتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ اپنی سابقہ شناخت کا پابند رہے۔ وہ نئے تجربات، تعلیم، سماجی تعلقات اور فکری تبدیلیوں کے ذریعے اپنی شناخت کی نئی صورتیں پیدا کر سکتا ہے۔ اس اعتبار سے شناخت میں تسلسل بھی موجود ہے اور تبدیلی بھی۔ شاید یہی انسانی وجود کی سب سے اہم خصوصیت ہے کہ انسان اپنے ماضی سے تعلق برقرار رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کو نئے انداز میں تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ شناخت کوئی آخری منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے، جس میں انسان خود کو پہچانتا بھی ہے، اپنی سابقہ پہچان پر سوال بھی اٹھاتا ہے اور نئے حالات میں اپنی ذات کے نئے معنی بھی دریافت کرتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

    ڈاکٹر عبدالعزیز ملک گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں