زبان کے آغاز کے نظریات

زبان اصوات، علامات اور اشاروں کا ایک ایسا مربوط نظام ہے جس کے ذریعے انسان باہم رابطہ قائم کرتے ہیں اور معلومات، خیالات و جذبات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اگرچہ انسانوں کے علاوہ دیگر جاندار بھی آپس میں ترسیلِ معلومات کرتے ہیں، تاہم لسانیات کی اصطلاح میں زبان سے مراد خاص طور پر وہ نظام لیا جاتا ہے جو انسانوں سے مختص ہے۔ اس حوالے سے برطانیہ کی نامور ماہرِ لسانیات پروفیسر میگی ٹالرمین کا کہنا ہے کہ بنی نوع انسان کائنات کی واحد مخلوق ہے جو قوتِ گفتار رکھتی ہے اور یہی وہ بنیادی صفت ہے جو اسے دیگر حیوانات سے ممتاز کرتی ہے جبکہ کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ فولی کے نزدیک زبان ان چیدہ اور کلیدی خصوصیات میں شامل ہے جو ہمیں انسان بناتی ہیں۔ انسانی معاشرے میں زبان کی الگ الگ حیثیتیں ہوتی ہیں، جیسے ہمارے ہاں اردو ہماری قومی زبان اور انگریزی دفتری زبان کے طور پر رائج ہے۔ جب سے انسان کو زبان کی اہمیت کا شعور ہوا ہے، وہ اس کے آغاز اور ارتقا کے بارے میں غور و فکر کر رہا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ زبان کو ایک الہامی یا مافوق الفطرت مظہر سمجھتے تھے اور قدیم ہندو تہذیب میں سنسکرت کو “دیو بانی” یعنی دیوتاؤں کی زبان سے تعبیر کرنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ جدید دور میں جب لسانیات کو ایک باقاعدہ اور مستقل علم کا درجہ ملا، تو ماہرین نے اس سائنسی نکتے پر غور شروع کیا کہ کسی خاص مادی چیز یا عمل کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی مخصوص صوتی آواز ہی کیوں منتخب کی گئی۔ اس سلسلے میں جرمن نژاد برطانوی ماہرِ لسانیات میکس میولر نے اپنے عہد تک پیش کیے جانے والے مختلف خیالات کی چھان بین کی اور انہیں چار بنیادی روایتی نظریات کی صورت میں مرتب کیا، جنہیں تاریخی لسانیات میں مختلف علامتی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔
ان میں پہلا نظریہ “صوتِ تقلیدی نظریہ” ہے جسے لسانیات میں ہکائی یا اصواتی نظریہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی ماحصل یہ ہے کہ ابتدائی الفاظ دراصل قدرتی اور فطری آوازوں کی نقالی سے وجود میں آئے۔ انسان نے اپنے ارد گرد موجود جانوروں یا مظاہرِ فطرت کی آوازیں سنیں اور ان کی نقل اتارنے لگا، جیسے کتے کے بھونکنے کی آواز سے “کُت” یا “بَھو بَھو” جیسے الفاظ بنے اور انگریزی کا لفظ ‘Cuckoo’ یعنی کوئل بھی اسی کی مثال ہے۔ یہ نظریہ اس مماثلت کی بنا پر قائم کیا گیا کہ بچے عموماً جانوروں کو ان کی آوازوں سے موسوم کرتے ہیں، جیسے بلی کو “میاؤں”، بکری کو “مَیں مَیں” اور چڑیا کو “چوں چوں” کہنا۔
دوسرا نظریہ زبان کے آغاز کے بارے میں “فجائی نظریہ” ہے، جسے مزاجاً “پوہ پوہ” یا “ٹٹ ٹٹ” نظریہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد انسان کی نفسیاتی اور اضطراری خصوصیات پر ہے کہ جب انسان کسی حادثے، مظہر یا کیفیت کا مشاہدہ کرتا ہے، تو اس کے دل میں شدید جذباتی احساسات جیسے حسرت، غصہ، درد یا خوشی پیدا ہوتے ہیں۔ ان کیفیات کے اضطراری اظہار کے طور پر انسان کے منہ سے کچھ بے ساختہ اصوات نکلتی ہیں، جن کی مثالیں اردو میں استعمال ہونے والے کلماتِ فجائیہ جیسے “دھت”، “تف” یا “ہائے” وغیرہ ہیں۔ اگرچہ چارلس ڈارون کا خیال تھا کہ یہ اصوات اس وقت صادر ہوتی ہیں جب انسان شعوری طور پر بولنے کے قابل نہیں ہوتا، مگر جدید ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف زبانوں میں فجائیہ کلمات روایتی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور انہیں باقاعدہ سیکھنا پڑتا ہے، اسی لیے ہر زبان میں یہ آوازیں مختلف ہیں۔
تیسرا نظریہ “ابتلا زائی” یا “ڈنگ ڈانگ نظریہ” کہلاتا ہے، جسے “لیتھو جنگ” بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق انسان فطرت کا شاہکار ہے اور اس کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ جب وہ کسی بیرونی مادی چیز کا مشاہدہ کرتا ہے، تو اس کا دماغ ایک صوتی ردِعمل پیدا کرتا ہے۔ یعنی بیرونی دنیا کا تاثر، باطن میں ایک مخصوص صوتی آہنگی پیدا کرتا ہے اور زبان سے بے ساختہ ایسا لفظ نکل جاتا ہے جو بعد میں اس چیز کا نام بن جاتا ہے، جیسے اردو کے الفاظ “جگمگ” یا “جھلاجل” وغیرہ۔ میکس میولر نے ابتدا میں اس نظریے کی حمایت کی مگر بعد میں خود ہی اسے ترک کر دیا۔ اس نے حکائی اور فجائی نظریات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے طنزاً کہا تھا کہ یہ نظریات صرف مرغی خانے کی حد تک درست معلوم ہوتے ہیں جبکہ حقیقی انسانی زبان مرغی خانے کی اونچی دیواروں کے باہر سے شروع ہوتی ہے۔
چوتھا نظریہ جسے عرفِ عام میں “ہائی سو” یا “یو-ہے-ہو نظریہ” کہا جاتا ہے، “نوئسرے” نامی विचारक سے منسوب ہے، جس نے صوتی نقالی کے بجائے انسانی محنت کو زبان کی بنیاد قرار دیا۔ اس کے مطابق جب انسان بھاری جسمانی مشقت کرتا ہے، جیسے بوجھ اٹھانا، کشتی رانی یا پتھر کھینچنا، تو اعصابی تناؤ کو کم کرنے اور پھیپھڑوں کے دباؤ کو راحت دینے کے لیے وہ سانس کو زبردستی باہر دھکیلتا ہے، جس سے کچھ آوازیں مسلسل اور اجتماعی طور پر نکلتی ہیں۔ مثلاً مغربی ملکوں میں ملاح لنگر کھینچتے وقت ‘Yo-He-Ho’ کی صدا بلند کرتے تھے، جبکہ ہمارے ہاں مزدور اور ملاح اجتماعی کام کے دوران “ہائی سو” جیسی آوازیں نکالتے ہیں۔
ان روایتی نظریات میں سے کسی ایک کو بھی زبان کے آغاز کا حتمی ذریعہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہیں یکسر مسترد کرنا بھی ممکن نہیں۔ ان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ انسانی اعضائے نطق قدرتی آوازوں کی ہو بہو نقالی کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے مختلف قوموں نے ان آوازوں کو اپنے اپنے صوتی سانچوں میں ڈھالا۔ اس کی بہترین مثال مرغے کی بانگ ہے، جسے اردو اور ہندی میں “ککڑوں کوں”، انگریزی میں “Cock-a-doodle-do”، فارسی میں “قوقولی قو”، سوئیڈش میں “Kukeliku”، فرانسیسی میں “Coquellico” اور ڈینش میں “Kykeliky” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ان قیاسی اور فرضی نظریات کے برعکس، ماہرِ لسانیات آٹو جیسپرسن نے زبان کے آغاز کی تحقیق کے لیے قیاس آرائی کے بجائے تین سائنسی اور تجربی بنیادیں فراہم کیں جن پر استوار ہو کر جدید لسانی ارتقا کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ان میں بچوں کی زبان کا مطالعہ، قدیم ترین بدوی نسلوں کی زبان کا تجزیہ اور تاریخِ زبان شامل ہیں۔ یہ تمام نظریات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ زبان نے کس طرح ارتقائی مراحل طے کیے۔ اگرچہ زبان کی قطعی تاریخ اور اس کی ابتدا کے درست وقت کا تعین کرنا تاحال ایک معما ہے، لیکن یہ نظریات انسانی شعور اور صوتی ارتقا کی تفہیم کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔

Author

  • یشفیٰ نور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ایم فل اردو کی سکالر ہیں جو صحافت میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں