ایبسرڈزم اور زندگی کی بے معنویت کا سوال

ایبسرڈزم جدید فلسفے، ادب اور تنقید کا ایک اہم فکری رجحان ہے۔ اس فلسفے کا بنیادی تعلق انسانی زندگی کے مقصد، کائنات کی معنویت، انسان کی بے بسی، آزادی اور وجود کے سوالات سے ہے۔ ایبسرڈزم اس بنیادی سوال سے جنم لیتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کو بامعنی بنانے کی کوشش کیوں کرتا ہے، جب کہ کائنات بظاہر اس کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیتی؟ انسان اپنی زندگی کے لیے کوئی مقصد تلاش کرنا چاہتا ہے، وہ جاننا چاہتا ہے کہ اس دنیا میں اس کی موجودگی کا کیا جواز ہے، اسے کیوں پیدا کیا گیا ہے اور اس کی زندگی کا آخری حاصل کیا ہے؟ لیکن جب وہ کائنات سے ان سوالات کے جواب طلب کرتا ہے تو اسے خاموشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی شعور کی معنی تلاش کرنے کی خواہش اور کائنات کی خاموشی کے درمیان جو تصادم پیدا ہوتا ہے، اسے ایبسرڈ یا عبثیت کہا جاتا ہے۔
لفظ Absurd کے لغوی معنی بے تُکا، غیر منطقی، نامعقول یا بے معنی کے ہیں، لیکن فلسفے میں اس کا مفہوم عام لغوی معنی سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ایبسرڈزم کا مطلب محض یہ نہیں کہ زندگی بے معنی ہے یا انسان کی تمام کوششیں بے کار ہیں، بلکہ اس سے مراد انسان کی معنویت تلاش کرنے کی خواہش اور کائنات کی طرف سے کسی حتمی جواب کی عدم موجودگی کے درمیان پیدا ہونے والی صورتِ حال ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان معنی کا طالب ہے، لیکن کائنات اس کی خواہش کے مطابق کوئی طے شدہ معنی فراہم نہیں کرتی۔ یہی صورتِ حال انسانی وجود کو ایک عجیب اور متضاد کیفیت سے دوچار کرتی ہے۔ انسان زندگی کو سمجھنا چاہتا ہے، مگر زندگی ہمیشہ اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے، لیکن مستقبل غیر یقینی رہتا ہے۔ وہ مستقل خوشی اور سکون کی خواہش کرتا ہے، لیکن زندگی اسے دکھ، تنہائی، ناکامی اور موت کی حقیقت سے بھی روشناس کراتی ہے۔
ایبسرڈزم کی فکری بنیادیں اگرچہ قدیم فلسفے میں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں، لیکن جدید فلسفیانہ روایت میں اس تصور کو خاص اہمیت بیسویں صدی میں حاصل ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں نے انسانی تہذیب، اخلاقیات، مذہب، ترقی اور عقل کے بارے میں قائم بہت سے تصورات کو متزلزل کر دیا تھا۔ انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے غیر معمولی ترقی کی تھی، لیکن اسی ترقی یافتہ دنیا میں ایٹم بم، قتلِ عام، جنگی تباہی اور انسانی المیے بھی جنم لے رہے تھے۔ اس صورتِ حال نے یہ سوال پیدا کیا کہ کیا انسانی ترقی لازماً انسان کو بہتر اور بامعنی زندگی کی طرف لے جاتی ہے؟ کیا عقل اور سائنس انسان کے تمام وجودی مسائل حل کر سکتی ہیں؟ جب انسان اپنی بنائی ہوئی دنیا میں بھی غیر محفوظ، تنہا اور بے بس دکھائی دینے لگا تو فلسفے اور ادب میں ایسے تصورات نے جنم لیا جنہوں نے انسانی وجود کی بے یقینی اور زندگی کی بے معنویت کو موضوع بنایا۔ ایبسرڈزم بھی اسی تاریخی اور فکری پس منظر میں زیادہ نمایاں ہوا۔
ایبسرڈزم کو سمجھنے کے لیے فرانسیسی فلسفی اور ادیب البرٹ کامیو (Albert Camus) کی فکر کو سمجھنا ضروری ہے۔ کامیو کو فلسفۂ عبثیت کا سب سے اہم نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو وجودیت پسند فلسفی قرار دینے سے گریز کرتے تھے، لیکن ان کی تحریروں میں وجود، آزادی، موت، تنہائی اور زندگی کے معنی جیسے موضوعات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی مشہور کتاب The Myth of Sisyphus (1942) ایبسرڈزم کی بنیادی فکری دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب میں کامیو نے انسانی زندگی کے ایک بنیادی تضاد کو واضح کیا ہے۔ ان کے نزدیک انسان فطری طور پر زندگی کے معنی جاننا چاہتا ہے، لیکن کائنات اس کی اس خواہش کا کوئی واضح جواب نہیں دیتی۔ یہی انسانی شعور اور کائنات کی خاموشی کا تصادم عبثیت کی اصل بنیاد ہے۔
کامیو نے اپنے فلسفے کی وضاحت کے لیے یونانی دیومالا کے کردار سسیفس کی مثال پیش کی ہے۔ یونانی اساطیر کے مطابق سسیفس کو دیوتاؤں نے سزا دی تھی کہ وہ ایک بہت بڑا پتھر پہاڑ کی چوٹی تک لے جائے، لیکن جیسے ہی وہ چوٹی کے قریب پہنچتا، پتھر دوبارہ نیچے لڑھک جاتا۔ اسے ہر روز یہی عمل دہرانا پڑتا تھا۔ اس کی محنت کا کوئی مستقل نتیجہ نہیں نکلتا تھا۔ وہ پتھر کو اوپر لے جاتا اور پتھر دوبارہ نیچے آ جاتا۔ بظاہر یہ ایک بے مقصد اور بے معنی مشقت تھی۔ کامیو اس کردار کو جدید انسان کی زندگی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ جدید انسان بھی روزانہ ایک جیسے معمولات میں مصروف رہتا ہے۔ وہ صبح اٹھتا ہے، کام پر جاتا ہے، روزگار حاصل کرتا ہے، گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے، سماجی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے اور اگلے دن پھر اسی معمول کا آغاز کر دیتا ہے۔ اسے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی سسیفس کی طرح ایک ایسا پتھر اٹھائے ہوئے ہے جو کبھی اپنی جگہ پر نہیں ٹھہرتا۔
تاہم کامیو کا فلسفہ محض مایوسی یا نااُمیدی کا فلسفہ نہیں ہے۔ وہ انسان کو زندگی سے فرار اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے زندگی کا سامنا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ کائنات کی طرف سے اسے کوئی حتمی مقصد نہیں دیا گیا تو اس کے سامنے دو راستے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مایوسی کا شکار ہو کر زندگی سے دست بردار ہو جائے، اور دوسرا یہ کہ وہ زندگی کی بے یقینی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری آزادی اور شعور کے ساتھ جینے کا فیصلہ کرے۔ کامیو دوسرے راستے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کو زندگی کے معنی تلاش کرنے کی مسلسل جدوجہد ترک نہیں کرنی چاہیے، لیکن اسے یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ کائنات لازماً اس کے سوالات کے جواب فراہم کرے گی۔
کامیو کے فلسفے میں بغاوت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں بغاوت سے مراد صرف سیاسی یا سماجی نظام کے خلاف احتجاج نہیں، بلکہ زندگی کی بے معنویت اور انسانی وجود کی محدودیت کے خلاف شعوری مزاحمت بھی ہے۔ جب انسان جانتا ہے کہ اسے موت کا سامنا کرنا ہے، اس کی زندگی غیر یقینی ہے اور اس کے تمام خواب ہمیشہ پورے نہیں ہوں گے، اس کے باوجود وہ زندگی سے محبت کرتا ہے، اپنے کام جاری رکھتا ہے اور اپنے وجود کو اہمیت دیتا ہے تو یہ عمل ایک طرح کی بغاوت بن جاتا ہے۔ کامیو کے نزدیک انسان کی عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ زندگی کے تمام مسائل حل کر لیتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ ان مسائل سے آگاہ ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہارتا۔ وہ زندگی کی مشکلات کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنی آزادی اور شعور کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
کامیو کے مشہور ناول “اجنبی” میں ایبسرڈزم کے تصورات نہایت مؤثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس ناول کا مرکزی کردار مرسو (Meursault) ایک ایسا شخص ہے جو معاشرے کے روایتی جذبات، اخلاقی توقعات اور سماجی رویوں کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ اس کی ماں کی وفات ہوتی ہے، لیکن وہ اس موقع پر وہ روایتی دکھ ظاہر نہیں کرتا جس کی معاشرہ اس سے توقع کرتا ہے۔ وہ زندگی کے مختلف واقعات کو ایک غیر جذباتی اور کسی حد تک لاتعلق انداز میں دیکھتا ہے۔ بعد ازاں وہ ایک عرب شخص کو قتل کر دیتا ہے اور اس کے مقدمے میں اس کے جرم کے ساتھ ساتھ اس کے رویے اور جذبات کو بھی موضوع بنایا جاتا ہے۔ عدالت میں اس کی ماں کی تدفین پر اس کا غیر روایتی ردِعمل بھی اس کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح ناول یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا معاشرہ انسان کو اس کے عمل کی بنیاد پر پرکھتا ہے یا اس بات پر بھی کہ وہ مخصوص حالات میں کیسے محسوس کرتا ہے؟ مرسو کا کردار اس دنیا کی بے معنویت، انسانی تنہائی اور سماجی اقدار کے مصنوعی پن کو نمایاں کرتا ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مرسو کو محض ایک بے حس یا غیر اخلاقی انسان سمجھ لینا ناول کے فکری پہلو کو محدود کر دیتا ہے۔ وہ معاشرے کے بنائے ہوئے تصورات کے مطابق جذبات کا اظہار کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ ایسی بات کہنے پر آمادہ نہیں ہوتا جسے وہ حقیقت نہیں سمجھتا۔ اس کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی سچائی اور وجودی بے تعلقی پائی جاتی ہے۔ ناول کے اختتام پر جب اسے اپنی موت کی حقیقت کا سامنا ہوتا ہے تو وہ زندگی کی غیر یقینی اور کائنات کی خاموشی کو قبول کرنے کی طرف بڑھتا ہے۔ اس لمحے اسے احساس ہوتا ہے کہ کائنات کسی انسان کے لیے خصوصی طور پر نہ مہربان ہے اور نہ دشمن۔ وہ اپنی بے معنویت کے ساتھ موجود ہے اور انسان کو اسی حقیقت کے اندر اپنی زندگی گزارنی ہے۔
ایبسرڈزم کا تعلق وجودیت سے بھی ہے، لیکن دونوں فلسفوں کو ایک ہی چیز سمجھنا درست نہیں۔ وجودیت میں انسان کی آزادی، انتخاب، ذمہ داری اور اپنی شناخت کی تشکیل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ژاں پال سارتر جیسے فلسفیوں کے نزدیک انسان پہلے وجود میں آتا ہے اور پھر اپنے اعمال اور انتخاب کے ذریعے اپنی ذات کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی کوئی پہلے سے طے شدہ ماہیت یا مقصد نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے فیصلوں کے ذریعے اپنی زندگی کو معنی دیتا ہے۔ اس کے برعکس کامیو کا فلسفۂ عبثیت اس تضاد پر زیادہ زور دیتا ہے کہ انسان معنی چاہتا ہے، لیکن کائنات اسے کوئی حتمی معنی فراہم نہیں کرتی۔ دونوں فلسفوں میں آزادی اور انسانی ذمہ داری اہم ہیں، لیکن ان کے فکری نتائج اور بنیادی سوالات میں فرق موجود ہے۔ اس لیے ہر ایبسرڈسٹ کو وجودیت پسند قرار دینا یا دونوں اصطلاحات کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
ایبسرڈزم کا ایک پہلو انسانی تنہائی ہے۔ انسان معاشرے میں رہتا ہے، لوگوں سے تعلقات قائم کرتا ہے، محبت کرتا ہے، خاندان بناتا ہے اور اجتماعی زندگی میں حصہ لیتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے وجود میں ایک ایسی تنہائی موجود رہتی ہے جسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انسان اپنے تجربات اور احساسات کو دوسروں کے ساتھ بانٹ تو سکتا ہے، لیکن کوئی دوسرا شخص اس کے تجربات کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکتا۔ اسی طرح انسان اپنی زندگی کے اہم فیصلے بھی خود کرتا ہے اور ان کے نتائج کا سامنا بھی اسے خود کرنا پڑتا ہے۔ ایبسرڈ ادب میں یہ تنہائی اکثر ایسے کرداروں کے ذریعے سامنے آتی ہے جو اپنے ماحول، معاشرے اور حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں فرانز کافکا کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ کافکا کو خالصتاً ایبسرڈسٹ فلسفی یا ادیب قرار دینا درست نہیں، لیکن ان کے ناولوں اور افسانوں میں عبثیت، اجنبیت، بے بسی اور غیر منطقی نظام کے اثرات نمایاں ہیں۔ ان کا مشہور ناول” دی ٹرائل ” ایک ایسے شخص جوزف کے، کی زندگی بیان کرتا ہے جسے اچانک گرفتار کر لیا جاتا ہے، لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا جرم کیا ہے۔ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر ایک ایسے عدالتی نظام میں پھنس جاتا ہے جس کے قواعد، طریقۂ کار اور فیصلے اس کی سمجھ سے باہر ہیں۔ وہ مسلسل وضاحت اور انصاف کی تلاش میں رہتا ہے، لیکن اسے کوئی واضح جواب نہیں ملتا۔ یہاں کافکا ایک ایسے انسانی وجود کی تصویر پیش کرتے ہیں جو ایک نامعلوم اور غیر منطقی نظام کے سامنے بے بس ہے۔ یہ صورتِ حال جدید انسان کی اس کیفیت سے مشابہت رکھتی ہے جس میں وہ اپنی زندگی کے معنی اور اپنے وجود کی حقیقت جاننا چاہتا ہے، لیکن اسے ہر طرف ابہام، خاموشی اور بے یقینی کا سامنا ہوتا ہے۔
کافکا کے افسانے” میٹامورفوسس “میں بھی عبثیت اور انسانی اجنبیت کا تصور نمایاں ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار گریگر سامسا ایک صبح بیدار ہوتا ہے تو خود کو ایک خوف ناک حشرے میں تبدیل شدہ پاتا ہے۔ اس تبدیلی کی کوئی منطقی وضاحت پیش نہیں کی جاتی۔ وہ اپنی سابقہ انسانی زندگی، ملازمت اور خاندان سے تعلق برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کا خاندان رفتہ رفتہ اسے ایک بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کہانی میں جسمانی تبدیلی دراصل انسان کی سماجی تنہائی، بے وقعتی اور شناخت کے بحران کی علامت بن جاتی ہے۔ گریگر اس وقت تک خاندان کے لیے اہم تھا جب تک وہ معاشی طور پر ان کی ضروریات پوری کر رہا تھا، لیکن جیسے ہی وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہتا، اس کی انسانی حیثیت بھی مشکوک ہو جاتی ہے۔ اس طرح کافکا جدید معاشرے کی اس حقیقت کو سامنے لاتے ہیں کہ بعض اوقات انسان کی قدر اس کی انسانیت کے بجائے اس کی افادیت سے متعین کی جاتی ہے۔
ایبسرڈزم کا ادبی اظہار تھیٹر میں سامنے آیا، جسے” تھیٹر آف دی ایبسرڈ ” کہا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپی ڈرامے میں ایک ایسی تحریک پیدا ہوئی جس نے روایتی ڈرامائی ساخت، مربوط پلاٹ، منطقی مکالمے اور کرداروں کی روایتی تشکیل کو چیلنج کیا۔ اس تھیٹر میں زندگی کی بے معنویت، انسانی تنہائی، ابلاغ کی ناکامی اور وقت کے بے نتیجہ گزرنے جیسے موضوعات کو پیش کیا گیا۔ روایتی ڈرامے میں کہانی کا ایک واضح آغاز، درمیانی مرحلہ اور اختتام ہوتا ہے۔ کردار کسی مقصد کے تحت عمل کرتے ہیں اور واقعات ایک منطقی ترتیب میں آگے بڑھتے ہیں۔ لیکن تھیٹر آف دی ایبسرڈ میں اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ کردار غیر متعلقہ گفتگو کرتے ہیں، ایک ہی بات بار بار دہراتے ہیں، غیر ضروری انتظار کرتے ہیں اور ایسے حالات میں زندگی گزارتے ہیں جن کی کوئی واضح توجیہ موجود نہیں ہوتی۔
اس تحریک کے اہم نمائندوں میں سیموئل بیکٹ ، یوجین آئیونسکو، ژاں ژینے اور آرتھر آدموف کے نام نمایاں ہیں۔ ان ادیبوں نے ڈرامے کے روایتی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے انسانی زندگی کی بے یقینی اور غیر منطقی کیفیت کو اپنے فن کا موضوع بنایا۔
سیموئل بیکٹ کا مشہور ڈراما” ویٹنگ فار گوڈو” تھیٹر آف دی ایبسرڈ کی سب سے اہم مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ڈرامے میں دو کردار، ایسٹراگون اور ولادیمیر، ایک ایسے شخص گوڈو کا انتظار کرتے ہیں جس کے آنے کی انہیں امید ہے۔ وہ ایک درخت کے قریب کھڑے ہو کر گفتگو کرتے ہیں، وقت گزارتے ہیں، مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں اور بار بار یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں وہاں سے چلے جانا چاہیے، لیکن پھر وہیں رک جاتے ہیں۔ گوڈو کبھی نہیں آتا۔ ڈرامے کے دونوں حصوں میں یہی انتظار دہرایا جاتا ہے۔ اس انتظار کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی اور نہ ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ گوڈو کون ہے یا اس کے آنے سے کیا تبدیلی واقع ہوگی۔
اس ڈرامے میں انتظار انسانی زندگی کی ایک بڑی علامت بن جاتا ہے۔ انسان پوری زندگی کسی نہ کسی ایسی چیز کا انتظار کرتا رہتا ہے جس کے آنے سے اس کی زندگی بدل جائے گی۔ کوئی بہتر مستقبل کا منتظر ہے، کوئی کامیابی کا، کوئی محبت کا اور کوئی نجات کا۔ لیکن بعض اوقات یہ انتظار خود زندگی کا بنیادی تجربہ بن جاتا ہے۔ انسان منزل کی تلاش میں سفر کرتا رہتا ہے، لیکن منزل تک پہنچنے کی یقین دہانی کبھی حاصل نہیں ہوتی۔ بیکٹ نے اسی صورتِ حال کو غیر معمولی فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ڈرامے کے کرداروں کی گفتگو میں مزاح بھی موجود ہے اور المیہ بھی۔ وہ بعض اوقات بے مقصد باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی گفتگو کے پیچھے انسانی زندگی کی گہری بے یقینی اور تنہائی چھپی ہوئی ہے۔
یوجین آئیونسکو کا ڈراما “دی بالڈ سوپرانو”اس ضمن میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس ڈرامے میں روزمرہ زندگی کے عام مکالموں کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ زبان اپنا ابلاغی مقصد کھونے لگتی ہے۔ کردار گفتگو تو کرتے ہیں، لیکن ان کی باتوں میں حقیقی رابطہ پیدا نہیں ہوتا۔ وہ جملے دہراتے ہیں، غیر متعلقہ باتیں کرتے ہیں اور زبان کی بے معنویت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس ڈرامے کے ذریعے آئیونسکو نے جدید معاشرے میں انسانی تعلقات کی سطحیت اور ابلاغ کے بحران کو نمایاں کیا ہے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زبان جو انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے، بعض حالات میں محض رسمی اور بے مقصد الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔
ایبسرڈزم میں زبان کا مسئلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ زبان انسان کو اپنے خیالات، احساسات اور تجربات دوسروں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتی ہے، لیکن ایبسرڈ ادیب اس تصور پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی تجربات اتنے پیچیدہ اور انفرادی ہوتے ہیں کہ زبان ہمیشہ انہیں پوری طرح بیان نہیں کر سکتی۔ انسان کچھ کہنا چاہتا ہے، لیکن اس کے الفاظ اس کے اصل احساس کی ترجمانی نہیں کر پاتے۔ بعض اوقات لوگ ایک دوسرے سے مسلسل گفتگو کرتے رہتے ہیں، لیکن ان کے درمیان حقیقی معنوں میں کوئی رابطہ قائم نہیں ہوتا۔ اسی لیے ایبسرڈ ادب میں خاموشی، تکرار، بے ربط مکالمے اور نامکمل جملے اہم فنی حربوں کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
ایبسرڈزم کا بنیادی تصور موت ہے۔ انسان اپنی زندگی کے لیے مختلف منصوبے بناتا ہے، کامیابی حاصل کرتا ہے، تعلقات قائم کرتا ہے اور مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، لیکن موت ان تمام سرگرمیوں کے سامنے ایک ایسی حقیقت بن کر کھڑی ہوتی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ انسان جانتا ہے کہ اس کی زندگی محدود ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ایسے منصوبے بناتا ہے جیسے اس کے پاس لامحدود وقت موجود ہو۔ ایبسرڈزم اس تضاد کو انسانی وجود کی بنیادی حقیقت سمجھتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ موت کی وجہ سے زندگی بے کار ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس زندگی کی محدودیت انسان کو اس کے ہر لمحے کی اہمیت کا احساس بھی دلا سکتی ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وقت ہمیشہ اس کے اختیار میں نہیں رہے گا تو وہ موجودہ زندگی کو زیادہ شعوری انداز میں گزارنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ایبسرڈزم میں آزادی کا تصور کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کائنات کی طرف سے انسان کے لیے کوئی حتمی مقصد طے نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ وہ اپنی ترجیحات خود متعین کر سکتا ہے، اپنے تعلقات اور سرگرمیوں کو اہمیت دے سکتا ہے اور اپنے وجود کو اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ لیکن آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ انسان اپنے فیصلوں کے نتائج سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ اسے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس کی زندگی کے انتخاب اسی کے ہیں اور ان کے نتائج کا سامنا بھی اسے خود کرنا ہوگا۔ اس اعتبار سے ایبسرڈزم انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں زیادہ باشعور اور ذمہ دار بننے کی دعوت دیتا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایبسرڈزم انسان کو مکمل مایوسی، بے عملی اور اخلاقی بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ایبسرڈزم کا مقصد اخلاقی اقدار کو ختم کرنا یا انسانی زندگی کو بے مقصد قرار دے کر ہر عمل کو جائز قرار دینا نہیں ہے۔ کامیو کی فکر میں انسانی یکجہتی، ہمدردی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کو اہم مقام حاصل ہے۔ ان کا ناول” طاعون” اس حوالے سے قابلِ ذکر ہے۔ اس ناول میں ایک شہر طاعون کی وبا کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ لوگ بیماری، خوف، تنہائی اور موت کا سامنا کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ڈاکٹر ریو اور دوسرے کردار اپنی استطاعت کے مطابق انسانوں کی مدد کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ موت اور بیماری کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ ان کے لیے انسانی زندگی کی اہمیت اس بات سے کم نہیں ہو جاتی کہ وہ ہر مصیبت پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اس ناول سے کامیو کا ایک اہم اخلاقی تصور سامنے آتا ہے کہ اگر دنیا میں دکھ اور تکلیف موجود ہیں تو انسان کو ان کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کرنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ انسان تمام مسائل حل نہ کر سکے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کوشش کرنا چھوڑ دے۔ کسی بیمار کی مدد کرنا، کسی مظلوم کے حق میں آواز اٹھانا، کسی مصیبت زدہ انسان کا سہارا بننا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اپنی جگہ اہم انسانی اعمال ہیں۔ اس طرح کامیو کا فلسفۂ عبثیت محض انفرادی تنہائی کا فلسفہ نہیں رہتا بلکہ اس میں انسانی ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا تصور بھی شامل ہو جاتا ہے۔
جدید دنیا میں ایبسرڈزم کی معنویت مزید بڑھ گئی ہے۔ آج انسان کے پاس پہلے سے زیادہ سہولتیں، معلومات اور ذرائع ابلاغ موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود تنہائی، اضطراب، ذہنی دباؤ اور شناخت کا بحران بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر انسان ہزاروں لوگوں سے رابطے میں رہتا ہے، لیکن اس کے باوجود حقیقی تعلقات کی کمی محسوس کر سکتا ہے۔ وہ کامیابی، شہرت اور دولت کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے، لیکن منزل پر پہنچنے کے بعد بھی اسے اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ معاشرہ اسے کامیابی کے کچھ مخصوص پیمانے فراہم کرتا ہے، مگر ان پیمانوں پر پورا اترنے کے باوجود اس کے اندر خلا باقی رہ سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال جدید انسان کے اس مسئلے کو واضح کرتی ہے کہ بیرونی کامیابی اور اندرونی معنویت ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتیں۔
سرمایہ دارانہ معاشرے میں انسان کی زندگی کا بڑا حصہ معاشی سرگرمیوں اور مادی کامیابی کے حصول میں صرف ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی محنت کو روزگار، آمدنی اور سماجی حیثیت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ بعض اوقات اس کی پوری زندگی ایک مشینی معمول میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ کام کرتا ہے تاکہ زندگی گزار سکے اور زندگی گزارتا ہے تاکہ دوبارہ کام کر سکے۔ اس طرح اس کی زندگی میں ایک تکراری کیفیت پیدا ہوتی ہے جو سسیفس کے کردار کی یاد دلاتی ہے۔ تاہم اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ فرق بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ کامیو کا فلسفہ بنیادی طور پر انسانی وجود اور کائنات کے تعلق سے متعلق ہے، جب کہ مارکسی تنقید اس طرح کی بیگانگی (Alienation) کو معاشی اور سماجی نظام کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ دونوں تصورات میں انسانی بے بسی اور زندگی کے غیر انسانی معمولات کے حوالے سے مماثلت ضرور ہے، لیکن ان کی فکری بنیادیں مختلف ہیں۔
ادبی تنقید میں ایبسرڈزم ایک اہم زاویۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی ادبی تخلیق میں انسانی وجود کی بے یقینی، زندگی کے تضادات، تنہائی، موت، ابلاغ کی ناکامی، غیر منطقی حالات اور بے مقصد تکرار کا مطالعہ کیا جا تاہے۔ ایبسرڈ ادب میں کردار اکثر ایسے حالات سے دوچار ہوتے ہیں جن پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کے سامنے کوئی واضح جواب نہیں آتا۔ کہانی یا ڈرامے میں روایتی واقعاتی ترتیب کے بجائے تکرار، خاموشی، غیر متوقع تبدیلیاں اور غیر منطقی صورتِ حال سامنے آتی ہے۔ اس طرزِ اظہار کا مقصد محض قاری کو الجھانا نہیں ہوتا بلکہ اسے اس انسانی تجربے سے روشناس کرانا ہوتا ہے جس میں زندگی ہمیشہ ہماری توقعات اور منطقی تصورات کے مطابق آگے نہیں بڑھتی۔
اردو ادب میں بھی ایسے موضوعات اور فنی رویے ملتے ہیں جنہیں ایبسرڈزم کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جدید اردو افسانے میں تنہائی، اجنبیت، بے معنویت، شناخت کے بحران اور انسانی وجود کی بے بسی جیسے موضوعات پر توجہ دی گئی ہے۔ انتظار حسین، انور سجاد اور بعض دوسرے جدید افسانہ نگاروں کی تحریروں میں ایسے تجربات ملتے ہیں جنہیں اس فکری تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ بات ضروری ہے کہ کسی ادیب یا تخلیق کو صرف اس وجہ سے ایبسرڈ قرار نہیں دینا چاہیے کہ اس میں تنہائی، مایوسی یا غیر معمولی واقعات موجود ہیں۔ ایبسرڈزم کی شناخت کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ تخلیق میں انسانی معنی کی تلاش اور زندگی کی غیر واضح یا خاموش حقیقت کے درمیان کس نوعیت کا تعلق قائم کیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایبسرڈزم انسان کو زندگی کے ان سوالات سے دوچار کرتا ہے جن سے وہ اکثر روزمرہ کی مصروفیات کے باعث نظریں چرا لیتا ہے۔ یہ فلسفہ پوچھتا ہے کہ ہم کیوں جیتے ہیں، ہماری خواہشات کا حاصل کیا ہے، ہماری کامیابیاں کتنی دیرپا ہیں اور کیا ہم واقعی اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتے ہیں؟ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی زندگی محدود، غیر یقینی اور تضادات سے بھرپور ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ان حقیقتوں کے باوجود انسان کے پاس جینے، محبت کرنے، تخلیق کرنے، جدوجہد کرنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا اختیار موجود ہے۔
کامیو کے فلسفے کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ زندگی کی معنویت کسی حتمی جواب کے انتظار میں نہیں بلکہ زندگی کے شعوری تجربے میں بھی تلاش کی جا سکتی ہے۔ انسان اگر یہ جان لے کہ زندگی میں ہر سوال کا جواب نہیں ملے گا، ہر کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور ہر خواب پورا نہیں ہوگا، تب بھی وہ زندگی سے اپنا تعلق ختم نہ کرے۔ وہ اپنی محدود زندگی کو بھرپور انداز میں گزارے، اپنے انتخاب کی ذمہ داری قبول کرے اور ناانصافی کے خلاف مزاحمت جاری رکھے۔ سسیفس کا پتھر بار بار نیچے گرتا ہے، لیکن وہ اسے دوبارہ اوپر لے جانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ اس جدوجہد میں کوئی مستقل کامیابی موجود نہیں، مگر خود جدوجہد انسانی وجود کی ایک اہم حقیقت بن جاتی ہے۔
یوں ایبسرڈزم محض بے معنویت، مایوسی اور ناامیدی کا فلسفہ نہیں بلکہ انسانی وجود کے تضادات کو سمجھنے اور ان کے باوجود زندگی کو قبول کرنے کا ایک فکری رویہ ہے۔ یہ انسان کو کسی مصنوعی تسلی یا آسان جواب کی طرف نہیں لے جاتا بلکہ اسے اپنی حقیقت کا سامنا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس فلسفے کے مطابق ممکن ہے کہ کائنات ہمارے سوالات کا جواب نہ دے، لیکن اس خاموشی کے باوجود انسان کے پاس سوچنے، محسوس کرنے، محبت کرنے، تخلیق کرنے اور مزاحمت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ زندگی کا کوئی آخری اور متفقہ مفہوم تلاش کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ زندگی کے تمام تجربات بے وَقعت ہیں۔ شاید انسانی عظمت اسی میں ہے کہ وہ بے یقینی کے باوجود جینے کا حوصلہ رکھتا ہے اور زندگی کے تضادات کو قبول کرتے ہوئے اپنے وجود کی پوری معنویت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ یہی ایبسرڈزم کا بنیادی فلسفیانہ اور ادبی پیغام ہے۔

Author

  • ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

    ڈاکٹر عبدالعزیز ملک گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں