بڑی جمہوریت، آزادیٔ اظہار اور فلم ستلج

جمہوریت کو عموماً عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے حکومت قرار دیا جاتا ہے۔ اس تصور کی بنیاد آزادیٔ اظہار، اختلافِ رائے، قانون کی بالادستی اور ریاستی اداروں کی جواب دہی پر قائم ہے۔ اگر کسی معاشرے میں شہریوں کو ریاست، حکومت یا طاقتور اداروں پر تنقید کرنے کی آزادی حاصل نہ ہو تو جمہوریت اپنی روح کھو دیتی ہے اور محض ایک انتخابی نظام بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی تناظر میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم “ستلج” ایک اہم ثقافتی متن کے طور پر سامنے آئی ہے جو بھارتی معاشرے، ریاستی بیانیے اور اظہارِ رائے کی حدود پر کئی بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں آزادیٔ صحافت، تعلیمی آزادی، ادبی اظہار اور فلم سازی کے میدان میں بڑھتی ہوئی پابندیوں نے اس دعوے کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ متعدد صحافیوں، دانش وروں، طلبہ رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائیاں، بغاوت یا قومی سلامتی سے متعلق قوانین کا استعمال اور سوشل میڈیا پر نگرانی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ اختلافِ رائے کو ہمیشہ مثبت انداز میں قبول نہیں کیا جاتا۔
فلم “ستلج ” اسی ماحول میں جسونت سنگھ کھالرا کے کردار کے ذریعے، ایک علامتی بیانیہ پیش کرتی ہے۔ اگرچہ فلم کا مرکزی موضوع صرف سیاسی نہیں لیکن اس کے کردار، مکالمے اور علامتیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ریاستی بیانیے سے اختلاف رکھنے والے افراد کو کس طرح شک، نگرانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلم یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا حب الوطنی کا مطلب صرف ریاستی مؤقف سے اتفاق کرنا ہے یا ریاست سے اختلاف بھی ایک جمہوری حق ہے؟ جمہوریت میں ریاستی اداروں کی اصل طاقت ان کی جواب دہی سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ تنقید کو خاموش کر دینے سے۔ آزاد عدلیہ، غیر جانبدار میڈیا اور خودمختار جامعات کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن جب صحافی، فلم ساز، ادیب یا اساتذہ حساس موضوعات پر اظہار کرتے ہوئے خوف محسوس کریں تو یہ صورتِ حال جمہوریت کے معیار پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
بھارت میں فلمیں اکثر سیاسی اور سماجی مباحث کا حصہ رہی ہیں۔ کئی فلموں کو سنسرشپ، احتجاج یا عدالتی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ثقافتی اظہار محض تفریح نہیں بلکہ طاقت، شناخت اور تاریخ کے بارے میں مختلف بیانیوں کی کشمکش بھی ہے۔ ستلج بھی اسی روایت کا حصہ دکھائی دیتی ہے، جہاں فلم اپنے ناظرین کو صرف ایک کہانی نہیں سناتی بلکہ ریاست، قوم پرستی اور شہری آزادیوں کے تعلق پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
تاہم ایک متوازن نقطۂ نظر اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔ ہر ریاست، خواہ وہ بھارت ہو، پاکستان ہو یا کوئی اور ملک، قومی سلامتی، تشدد پر اکسانے یا نفرت انگیز تقاریر کے حوالے سے بعض قانونی حدود مقرر کرتی ہے۔ اس لیے آزادیٔ اظہار کسی بھی جمہوریت میں مطلق نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ان حدود کا اطلاق شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق کیا جاتا ہے، یا انہیں اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوری اقدار کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔
ریاستی اداروں پر تنقید کو دشمنی تصور کرنا کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں میڈیا، پارلیمان، عدالتیں اور سول سوسائٹی مسلسل حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہیں۔ اس عمل سے ادارے کمزور نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ جواب دہی عوامی اعتماد کو فروغ دیتی ہے۔ اگر تنقید کو غداری یا ریاست دشمنی سے جوڑ دیا جائے تو معاشرے میں فکری جمود پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ستلج اس بحث کو ایک اور زاویہ بھی دیتی ہے کہ ثقافتی تخلیقات اکثر وہ سوال اٹھاتی ہیں جنہیں رسمی سیاسی ادارے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ادب، سینما اور فنونِ لطیفہ کا بنیادی کام یہی ہے کہ وہ سماج کے پیچیدہ مسائل پر مکالمہ پیدا کریں۔ اگر فن کار ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہے کہ اس کے خیالات کو ریاستی مخالفت سمجھا جائے گا تو تخلیقی آزادی محدود ہو جائے گی اور سماجی تنوع بھی متاثر ہو گا۔ حالیہ فلم پر پابندی کا تنازعہ اس بات کی علامت بن گیا ہے کہ جب آرٹ، فلم اور ادب سچ بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو حکومتیں جمہوری کے باوجود اسے سلامتی کے نام پر دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ ستلج صرف ایک فلم نہیں بلکہ جمہوریت، ریاست اور شہری آزادیوں کے باہمی تعلق پر ایک فکری مکالمہ ہے۔ یہ ناظرین کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ایک مضبوط ریاست وہ ہے جو تنقید کو خاموش کر دے، یا وہ جو اختلافی آوازوں کو بھی اپنے جمہوری ڈھانچے کا لازمی حصہ سمجھے۔ کسی بھی جمہوریت کی اصل طاقت انتخابات سے زیادہ اس صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ وہ تنقید، سوال اور اختلاف کو برداشت کرے۔ جب ریاستی ادارے جواب دہی کو قبول کرتے ہیں تو جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور جب اختلاف کو خطرہ سمجھا جاتا ہے تو جمہوری اقدار کمزور پڑنے لگتی ہیں اور پھر آمریت، جمہوریت کا بھیس بدل کر حکمران بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہےکہ کہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے ساتھ کچھ ایسا ہی تو نہیں ہو رہا؟

Author

  • ڈاکٹر عبدالعزیز ملک گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں