“جن لوگوں نے ہمارے گرجا گھروں اور مقدس بائبل کو نذرِ آتش کیا اور ہمارے گھروں کو لوٹا، وہ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ عدالتی پیشیوں پر ملزمان ہماری بے بسی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا ریاست اتنی کمزور ہے کہ تین سال گزر جانے کے باوجود ذمہ داروں کو سزا نہیں دے سکی؟“
فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کی کرسچن کالونی کے رہائشی شکیل بھٹی کے لیے یہ انصاف یا قانون کی حکمرانی سے متعلق محض نظریاتی سوالات نہیں ہیں۔ یہ سوالات ان تین سالوں کی عکاسی کرتے ہیں جو انہوں نے تھانوں، سرکاری دفاتر اور عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے گزارے ہیں اس امید پر کہ 16 اگست 2023 کو مسیحی برادری پر ڈھائے گئے تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب ہو گا۔
شکیل بھٹی اس وقت پادری خالد مختار کے گھر کے اندر موجود تھے جب باہر لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے لیس ایک ہجوم جمع ہو گیا۔ صورتحال بگڑنے پر وہ اپنی جان بچانے کے لیے عمارت سے نکلے اور قریبی کھیتوں میں جا چھپے۔
انہیں یاد ہے کہ ہجوم نے پہلے عمارت پر پتھراؤ کیا اور پھر ٹریکٹر ٹرالیوں کی مدد سے مرکزی گیٹ اور دیواروں کو توڑ دیا۔ اندر داخل ہونے کے بعد، حملہ آوروں نے کھڑکیاں اور دروازے توڑ ڈالے، سامان لوٹ لیا اور مقدس بائبل سمیت دیگر اشیاء پر پیٹرول چھڑک کر انہیں آگ لگا دی۔
اس دوران باورچی خانے میں موجود گیس کے دو سلنڈر پھٹ گئے جس سے پوری عمارت میں دراڑیں پڑ گئیں۔
شکیل بھٹی کے لیے یہ تباہی محض ایک عمارت کے نقصان یا سامان کے چھن جانے تک محدود نہیں تھی۔ یہ ایک عبادت گاہ پر حملہ تھا، ایک برادری کے تحفظ کے احساس پر حملہ تھا اور اس یقین پر حملہ تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کرے گی، قطع نظر اس کے کہ ان کا مذہب کیا ہے۔
اس رپورٹ کی تیاری کے لیے جن عدالتی فیصلوں اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں سے متعلق مقدمات میں تین سال گزرنے کے باوجود صرف ایک شخص کو سزا سنائی جا سکی ہے۔ شواہد کی کمی کی بنا پر کئی دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا جبکہ مدعیوں اور گواہوں کا کہنا ہے کہ ان پر مقدمات سے دستبردار ہونے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
جڑانوالہ کا یہ واقعہ ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جو محض انفرادی مقدمات کے نتائج سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ گرجا گھروں اور مسیحی برادری کے گھروں پر ہونے والے اس بڑے پیمانے پر حملے کی تحقیقات کے نتیجے میں مزید سزائیں کیوں نہ ہو سکیں؟ ان لوگوں کا کیا بنا جنہوں نے ان جرائم کی اطلاع دی اور عدالت میں گواہیاں دیں؟ اور کیا معاوضے اور بحالی کے حوالے سے کیے گئے سرکاری وعدے ان تمام لوگوں تک پہنچے ہیں جن کے گھر اور ذریعہ معاش تباہ ہو گئے تھے؟ یہ جوابات تشدد کے خلاف ریاستی ردعمل اور انصاف کے طلبگار افراد کے تجربات کے درمیان ایک تشویشناک خلیج کو ظاہر کرتے ہیں۔

متاثرین توہین مذہب کے الزامات سے بری ہونے کے باوجود معاوضے کی ادائیگی سے محروم
16 اگست 2023 کے حملے دو مسیحی افراد پر توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد پیش آئے۔ مشتعل ہجوم نے گرجا گھروں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، مذہبی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، گھروں کو تباہ کیا اور املاک لوٹ لیں۔
پولیس نے اس تشدد کے سلسلے میں 142 نامزد ملزمان اور 5,255 نامعلوم افراد کے خلاف 22 ابتدائی اطلاعاتی رپورٹیں (FIRs) درج کیں۔
اس کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے شکایت کنندگان کو کوئی خاص تسلی نہیں ملی ہے۔
بھٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین سال پولیس اسٹیشنوں، انتظامی دفاتر اور عدالتوں کے چکر کاٹنے میں گزار دیے ہیں اور انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے بھی رجوع کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حکام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔
کچھ مقدمات تو ان لوگوں کی زندگی سے بھی زیادہ طویل ثابت ہوئے جنہوں نے انہیں شروع کیا تھا۔ ایف آئی آر نمبر 1280/23 کے شکایت کنندہ شہزاد مسیح اور ایف آئی آر نمبر 1296/23 کے شکایت کنندہ جاوید برکت مسیح اپنے مقدمات کے فیصلے کے انتظار میں ہی انتقال کر گئے۔
ان کی اموات طویل قانونی کارروائیوں کی انسانی قیمت کو اجاگر کرتی ہیں۔ شکایت کنندگان کے لیے، انصاف کے حصول کی خاطر بار بار سفر کرنا پڑتا ہے، کام سے وقت نکالنا پڑتا ہے اور نتائج کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود اس عمل میں جڑے رہنے کا عزم درکار ہوتا ہے۔ جب مقدمات برسوں تک چلتے رہیں تو یہ بوجھ ان خاندانوں کے لیے خاص طور پر ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے جو پہلے ہی مالی نقصانات اور جذباتی صدمے سے نبرد آزما ہیں۔
عدالتی ریکارڈ ایک ملی جلی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک ملزم عرفان یوسف کو دو مقدمات (1296/23 اور 1297/23) میں مجموعی طور پر 62 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی اور 7 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ یہ سزائیں ایک ساتھ (بیک وقت) کاٹی جائیں گی اور مقدمے کی سماعت کے دوران حراست میں گزارا گیا وقت بھی ان کی سزا میں شمار کیا جائے گا۔
عدالت نے انہی مقدمات میں شواہد کی کمی کی بنا پر چھ دیگر ملزمان کو بھی بری کر دیا۔ جون 2025 میں ایک اور عدالت نے اسی بنیاد پر ایک علیحدہ مقدمے میں دس ملزمان کو بری کر دیا۔ ان نتائج کو ان کے درست قانونی تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ شواہد کی کمی کی بنیاد پر بریت، بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ ملزم کسی جرم میں ملوث تھا۔ تاہم یہ تفتیش کاروں اور استغاثہ کی جانب سے اکٹھے کیے گئے اور پیش کردہ شواہد کے معیار پر سوالات ضرور اٹھاتی ہے۔ خاص طور پر ان صورتوں میں جہاں عدالتوں نے پولیس کے طریقہ کار میں واضح طور پر کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہو۔
متاثرین کے لیے، تشدد کی وسعت اور سزایابی کے محدود واقعات کے درمیان تضاد مایوسی کا باعث بن گیا ہے۔ بھٹی کا کہنا ہے کہ ملزمان اب بھی علاقے میں آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں جبکہ شکایت کنندگان کو مسلسل عدالتی سماعتوں میں پیش ہونا پڑ رہا ہے اور اپنے مقدمات کی پیروی کرنی پڑ رہی ہے۔
ان کا بیان ایک وسیع تر تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
نظامِ انصاف کے ردعمل کا اندازہ صرف درج ہونے والی ایف آئی آرز یا گرفتاریوں کی تعداد سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ آیا تفتیش کے ذریعے شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین ہوا ہے اور آیا قانونی کارروائی کسی منصفانہ نتیجے تک پہنچی ہے۔

سمجھوتہ کرنے سے انکار کی قیمت
مدعیوں پر دباؤ عدالتی کمرے سے باہر نکلنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انصاف کے حصول کی کوشش کرنے کی وجہ سے انہیں دھمکیوں، سماجی دباؤ اور خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایک عینی شاہد، عارف مسیح، جنہوں نے مقدمہ نمبر 23/1296 میں گواہی دی تھی بتاتے ہیں کہ عرفان یوسف کو سزا سنائے جانے کے بعد ان پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ عارف کے مطابق بااثر افراد نے اپنے ڈیروں پر پنچایتیں اور اکٹھ بلائے تاکہ گواہوں کو ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
وہ کہتے ہیں، “ہمیں بتایا گیا ہے کہ اگر ہم یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ سمجھوتہ کر لینا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی دھمکی دی گئی ہے کہ اگر مستقبل میں ہمیں کوئی مالی یا جسمانی نقصان پہنچتا ہے تو وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔”
عارف بتاتے ہیں کہ کچھ مدعی پہلے ہی سمجھوتہ کر چکے ہیں یا تو خوف اور دباؤ کی وجہ سے یا پھر پیسے کے بدلے میں۔ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہوں نے انصاف کے حصول کی جدوجہد ترک کر دی تو وہ یسوع مسیح کے سامنے شرمندہ ہوں گے۔
ان کا بیان ان مشکل فیصلوں کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا ان لوگوں کو کرنا پڑتا ہے جو کسی فوجداری مقدمے کا حصہ بنتے ہیں۔ اگرچہ ایک مدعی کو قانونی طور پر مقدمہ چلانے کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن اس حق کا استعمال اس وقت انتہائی پیچیدہ ہو جاتا ہے جب مدعی کو اسی معاشرے میں رہنا پڑے جہاں ملزمان اور ان کے حامی بھی رہتے ہیں۔
اس لیے اپنی مرضی سے کی گئی صلح اور دباؤ کے تحت کیے گئے سمجھوتے کے درمیان فرق بہت اہم ہے۔ محض سمجھوتہ ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں لازمی طور پر جبر شامل تھا بالکل اسی طرح جیسے دھمکانے کے کسی بھی الزام کی تصدیق کے لیے تفتیش ضروری ہوتی ہے۔ تاہم اگر گواہوں کو دی جانے والی دھمکیاں ثابت ہو جائیں تو یہ عدالتوں کی اس صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہیں جس کے ذریعے وہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر مقدمات کا فیصلہ کرتی ہیں۔
جڑانوالہ میں گواہوں کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی حفاظت، روزگار یا معاشرے میں اپنے مقام کے بارے میں خوفزدہ ہوئے بغیر قانونی کارروائی میں حصہ لینا جاری رکھ سکتے ہیں؟
اس مقدمے کے ایک اور عینی شاہد زوہیب ڈینیئل بتاتے ہیں کہ پرتشدد واقعات سے قبل وہ انٹرنیٹ سروس کا ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتے تھے۔ حملوں کے دوران ایک ہجوم نے ان کے دفتر کو لوٹ لیا اور ایک کرین کی مدد سے ساتھ ہی واقع گرجا گھر کو منہدم کر کے اسے آگ لگا دی۔ ڈینییل کا کہنا ہے کہ اس نے عرفات یوسف کو جو اس کا سابقہ ہم جماعت تھا اس شخص کے طور پر پہچان لیا جس نے چرچ کو گرانے کے لیے کرین کا استعمال کیا تھا۔ ڈینییل کے مطابق اس نے یوسف کی نشاندہی کی اور بالآخر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
لیکن اس شناخت کے نتیجے میں انہیں ذاتی سطح پر نقصان اٹھانا پڑا۔ ڈینییل کا الزام ہے کہ اسے دھمکیاں دی گئیں، ہراساں کیا گیا اور اپنی شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا لیکن اس نے سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔
دو سال سے زائد عرصے تک بے روزگار رہنے کے بعد یوسف کو سزا سنائے جانے سے کچھ ماہ قبل ڈینییل کو نوکری مل گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ بعد میں ان کی یہ نوکری بھی چلی گئی کیونکہ اس کے آجر نے اسے بتایا کہ اسے کام پر رکھنے کی وجہ سے گاہک ناراض ہو رہے ہیں۔
اگرچہ ڈینییل کے بیان سے آجر کے محرکات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی لیکن اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح تشدد کے اثرات متاثرہ شخص کی معاشی زندگی تک پھیل سکتے ہیں۔ حملوں کے دوران کاروبار کا ختم ہو جانا نقصان کی ایک صورت ہے اور بعد ازاں کسی فوجداری مقدمے میں فریق ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا اس نقصان کو مزید طول دے سکتا ہے۔
یہ مقدمہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک ہی گواہ، جہاں ایک طرف یہ تعین کرنے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ کیا ہوا تھا، وہیں دوسری طرف قانونی کارروائی آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ دباؤ کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
مقدمہ نمبر 23/1297 کے مدعی پاسٹر نوید مختار کا بھی یہ کہنا ہے کہ انہیں ایسی دھمکیاں ملی ہیں جن کا مقصد انہیں مقدمہ آگے بڑھانے سے روکنا ہے۔
وہ کہتے ہیں، “جن لوگوں نے گرجا گھروں کو نذرِ آتش کیا، ان میں سے بہت سے اب بھی گاؤں میں آزادانہ گھوم پھر رہے ہیں، اور ہمیں ایک طرح کے سماجی بائیکاٹ کا سامنا ہے کیونکہ ہم اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کے لیے انصاف چاہتے ہیں۔”
یہ شکایات کرنے والوں اور گواہوں کے الزامات ہیں نہ کہ ایسے حتمی نتائج جن کا اطلاق ہر ملزم یا رہائشی پر کیا جا سکے۔ اس کے باوجود یہ معاملات ان حکام کی جانب سے سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں جو دھمکانے کے واقعات کی تحقیقات کرنے اور فوجداری کارروائی کی شفافیت و سالمیت کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہیں۔
ایک ایسا نظامِ انصاف جو گواہوں پر انحصار کرتا ہو اسے اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ گواہ بغیر کسی خوف کے گواہی دے سکیں۔

جب تحقیقات عدالت کی توقعات پر پورا نہ اتریں
جڑانوالہ مقدمات میں حالیہ عدالتی فیصلوں نے پولیس کی تفتیش میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کی ہے جن سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ استغاثہ (مقدمہ چلانے والے فریق) کو مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔
مقدمہ نمبر 23/1296 میں عدالت کے مشاہدات خاص طور پر اہم ہیں۔ فیصلے میں تفتیشی عمل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ اگرچہ پولیس کے دو اہلکاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تشدد ہوتے دیکھا اور ہجوم کو منتشر کیا۔ اس کے باوجود چھ دن تک اس واقعے کی کوئی رپورٹ درج نہیں کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہنگامہ آرائی کو روکنے والے دستے (anti-riot force) کو طلب نہیں کیا گیا، جائے وقوعہ پر کوئی گرفتاریاں عمل میں نہیں لائیں گئیں، اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے کوئی تصاویر یا ویڈیوز بھی نہیں بنائیں۔ تفتیش کے عمل میں کسی بھی غیر جانبدار مقامی فرد کو شامل نہیں کیا گیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ان واقعات کے سلسلے میں ایف آئی آرز کے اندراج کے لیے دائر کی گئی 22 درخواستوں میں سے 17 درخواستوں کا متن بالکل یکساں تھا۔ عدالت نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مبینہ طور پر برآمد کی گئی اشیاء میں لکڑی کے ڈنڈوں جیسی عام چیزیں شامل تھیں جنہیں نہ تو سیل کیا گیا اور نہ ہی ان پر کوئی نشان لگایا گیا تھا۔
یہ مشاہدات تفتیشی عمل کے کئی مراحل میں موجود مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جن میں تشدد کی اطلاعات پر ابتدائی ردعمل، شواہد کا تحفظ، مشتبہ افراد کی شناخت اور مبینہ جرائم کی دستاویزات کی تیاری شامل ہے۔
دستیاب مواد سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گرجا گھروں کو نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاع ملنے اور پولیس کے موقع پر پہنچ کر ہجوم کو منتشر کرنے کے باوجود شواہد کو قانون کے مطابق محفوظ نہیں کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ تھانے یا اسٹیشن ہاؤس آفیسر (SHO) کے ذریعے انہیں تحویل میں لیا گیا۔
دیگر واقعات میں ایف آئی آرز کے اندراج میں تاخیر کی گئی جس کے باعث جائے وقوعہ سے شواہد ضائع ہو گئے۔ زیادہ تر مقدمات ابتدائی طور پر نامعلوم افراد کے خلاف درج کیے گئے اور دستیاب تصاویر اور ویڈیوز کو اکٹھا نہ کرنے کی وجہ سے شناخت کے عمل میں تاخیر ہوئی۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پولیس نے جان بوجھ کر بعض ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا جو احتجاج میں شامل نہیں تھے۔ بعد ازاں پولیس نے شکایت کنندگان پر دباؤ ڈالا کہ وہ انہیں ملزم کے طور پر شناخت کریں۔ اگر انفرادی مقدمات میں یہ ثابت ہو جائے تو اس طرح کے اقدامات نہ صرف ملزمان کے حقوق کو متاثر کریں گے بلکہ اصل مجرموں کے احتساب کے عمل کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔
عدالتی فیصلوں میں نقصانات کے تخمینے اور چوری شدہ املاک کی فہرستوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ گرجا گھروں کو پہنچنے والے نقصان کا درست تخمینہ لگانے کے بجائے پولیس نے ایسی رپورٹس جمع کرائیں جنہیں عدالت نے “فرضی” قرار دیا جبکہ چوری شدہ سامان کا کوئی ریکارڈ بھی مرتب نہیں کیا گیا۔
ایف آئی آر کی عبارت بھی ایک اور تشویش کا باعث تھی۔ دستیاب مواد کے مطابق ایف آئی آر نمبر 23/1410 میں اس بات کا ذکر نہیں تھا کہ عمارت کا مرکزی دروازہ اور دیواریں مبینہ طور پر ٹریکٹر ٹرالی کے ذریعے توڑی گئی تھیں اور نہ ہی اس بات کا ذکر تھا کہ عمارت کو زیادہ نقصان پہنچانے کے لئے آگ لگا کر باورچی خانے میں موجود گیس سلنڈرز رکھ دیئے گئے تھے۔
اسی طرح ایف آئی آر نمبر 23/1297 میں اس الزام کو شامل نہیں کیا گیا کہ گرجا گھر کو منہدم کرنے کے لیے کرین کا استعمال کیا گیا تھا۔
اس طرح کی کوتاہیاں اہم ہیں کیونکہ ایف آئی آر کسی مبینہ جرم کا ابتدائی بیان ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ بذات خود جرم ثابت کرنے کا ثبوت نہیں ہے لیکن ایک نامکمل بیان بعد میں شواہد اکٹھا کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
ایسے مقدمات میں جہاں متعدد مقامات پر حملے کیے گئے ہوں تفتیش کاروں کے لیے یہ تعین کرنا ضروری ہوتا ہے کہ کون سے افراد وہاں موجود تھے۔ ہر فرد نے مبینہ طور پر کیا کردار ادا کیا، کتنا نقصان ہوا اور کون سے شواہد ان الزامات کی تائید کرتے ہیں۔
ایک جیسی (یکساں) ایف آئی آرز، تصاویر کی عدم موجودگی اور نامکمل فہرستیں اس کام کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ عدالت کی تنقید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر تفتیش اسی طرح ناکام رہی یا یہ کہ ایف آئی آر میں نامزد ہر شخص کو سزا ملنی چاہیے تھی۔
تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ شواہد اکٹھے کرنے اور قانونی طریقہ کار میں ایسی سنگین خامیاں موجود تھیں جن کی عدالتی انکوائری ضروری ہے۔
جب مقدمات اس لیے ناکام ہو جاتے ہیں کہ شواہد کو مناسب طریقے سے اکٹھا یا محفوظ نہیں کیا گیا تو اس کے نتائج صرف اس مخصوص مقدمے تک محدود نہیں رہتے ہیں۔ متاثرین قانونی طور پر ذمہ داری کا تعین ہونے سے محروم رہ سکتے ہیں جبکہ ملزمان کا بھی یہ حق ہے کہ ان کے مقدمات کا فیصلہ قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر ایک منصفانہ عمل کے ذریعے ہو۔
لہٰذا اصل چیلنج محض گرفتاریوں یا سزاؤں کی تعداد بڑھانا نہیں ہے بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پولیس فوری کارروائی کرے، واقعات کی مکمل دستاویزات تیار کرے، شواہد کو محفوظ بنائے، مشتبہ افراد کی قانونی طریقے سے شناخت کرے اور ایسے مقدمات عدالت میں پیش کرے جو عدالتی جانچ پڑتال پر پورے اتر سکیں۔
ان الزامات اور عدالت کے مشاہدات پر تبصرہ کرنے کے لیے سٹی پولیس آفیسر تنویر حسین سے بار بار رابطہ کیا گیا، لیکن اس رپورٹ کی تیاری تک انہوں نے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

سرکاری اعداد و شمار، تشنہ جواب سوالات
جون 2026 میں پولیس کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو پیش کی گئی ایک رپورٹ ان مقدمات کا ایک اور پہلو سامنے لاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نامزد کیے گئے 142 مشتبہ افراد میں سے 134 کے خلاف چالان پیش کیے گئے، دو افراد کو اشتہاری قرار دیا گیا جبکہ 6 مقدمات زیرِ التوا رہے۔ اسی رپورٹ میں درج 5,245 نامعلوم مشتبہ افراد میں سے 254 کے خلاف چالان پیش کیے گئے جبکہ 4,996 کے معاملات زیرِ التوا رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 129 مشتبہ افراد کو جائے وقوعہ سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ 76 افراد کی شناخت تصاویر کے ذریعے، 49 کی جیو فینسنگ (geofencing) کے ذریعے، 17 کی تفتیش کی بنیاد پر اور 117 کی شناخت ضمنی بیانات کے ذریعے کی گئی۔
اس وقت تک 22 میں سے 19 مقدمات کے چالان نامکمل تھے۔ تین مقدمات میں ملزمان ضمانت پر تھے، تین مقدمات کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر مزید کاروائی روک دی گئی اور 13 مقدمات میں عدالتی کارروائی جاری تھی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حملوں کے تقریباً تین سال بعد بھی قانونی عمل مکمل نہیں ہو سکا۔ پولیس رپورٹ میں نامزد یا چالان کیے گئے افراد کی تعداد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سب کو سزا بھی ہوئی ہو اور کسی مشتبہ شخص کی شناخت ہو جانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ جرم کا مرتکب ثابت ہو گیا ہے۔
علاوہ ازیں پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ 23 گرجا گھروں کی بحالی یا تعمیر نو پر 12 کروڑ 64 لاکھ 90 ہزار روپے خرچ کیے گئے اور 84 متاثرہ گھرانوں کو 20 لاکھ روپے فی گھر معاوضہ دیا گیا جو کہ 16 کروڑ 80 لاکھ روپے بنتا ہے۔
تاہم متاثرین کو قانونی مدد فراہم کرنے والی تنظیم ایمپلیمنٹیشن آف مینارٹی رائٹس فورم کے چیئرمین سیموئیل پیارا نقصان کے تخمینوں اور معاوضے کی ادائیگی کے بارے میں ایک مختلف حساب پیش کرتے ہیں۔
سیموئیل کے مطابق تشدد میں 26 گرجا گھروں اور 148 رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے صرف 19 گرجا گھروں کی بحالی کا کام کیا اور تقریباً 80 مکان مالکان کو مالی امداد ملی۔
“حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہر خاندان کو 20 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا بلکہ جہاں ایک گھر میں تین خاندان مقیم تھے، وہاں صرف ایک خاندان کو پیسے ملے جبکہ باقی دو کو نہیں ملے۔”
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ توہین مذہب کے الزام میں جن دو مسیحی افراد کے گھروں کو سب سے پہلے جلایا گیا تھا وہ ان مقدمات میں بری ہو چکے ہیں لیکن ان کو بھ تاحال معاوضہ نہیں ملا ہے۔
پولیس کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے کے سربراہ سیموئیل پیارا کے دعووں میں فرق کو ختم کرنے کے لئے آزاد مبصرین کی جانب سے حقائق کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
اس حوالے سے گرجا گھروں کی تعمیر نو اور رہائشی مکانوں میں رہنے والے ہر خاندان کو معاوضہ دینے کے درمیان فرق خاص طور پر اہم ہے کیونکہ ہو سکتا ہے ایک گھر کئی خاندانوں کی طرف سے شیئر کیا گیا ہو جبکہ ملکیت کے ریکارڈ اور انتظامی اہلیت کے قواعد صرف ایک دعویدار کو پہچان سکتے ہیں۔ جب تک ان اختلافات کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے حل نہیں کیا جاتا ہے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ تمام متاثرہ گرجا گھر مکمل طور پر بحال کر دیئے گئے ہیں یا تمام متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سانحہ جڑانوالہ کے مقدمات میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لیا تھا۔
عدالت نے31 مارچ 2026 کو اس حوالے سے دائر درخواستوں پر ہدایت کی تھی کہ چھ ماہ میں باقی ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے لئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو مناسب احکامات جاری کرنے کو کہا گیا تاکہ عدالتی کاروائی تیزی سے آگے بڑھ سکے۔
تاہم اس حکم کو لگ بھگ ساڑھے چار ماہ گزرنے کے باوجود بقیہ ملزمان کی گرفتاریوں یا سزاؤں میں کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
اس وقت چھ ماہ کی مدت ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود، نظر آنے والی پیش رفت کی کمی نے شکایت کنندگان کے خدشات کو تقویت بخشی جنہوں نے اپنے مقدمات کے آگے بڑھنے کے انتظار میں برسوں گزارے ہیں۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پولیس، پراسیکیوشن اور ٹرائل کورٹس کے لیے یہ ظاہر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ کسی بھی پیچیدہ کیس کو انصاف یا عجلت کی قربانی کے بغیر آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ باقی ماندہ مدت حکام کے لیے اس بارے میں واضح معلومات فراہم کرنا بھی اہم بناتی ہے کہ حکم کی تعمیل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
کارروائی کے نتائج کا انتظار کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ کے لیے، وقت ختم ہو چکا ہے۔ زندہ بچ جانے والے شکایت کنندگان کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا مقدمات کے ذمہ دار ادارے اب وہ وضاحت اور جوابدہی فراہم کر سکتے ہیں جس کی وہ طویل عرصے سے تلاش کر رہے تھے۔

وعدوں سے تحفظ تک
سانحہ جڑانوالہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی ایک طویل تاریخ کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے 1997 میں شانتی نگر، 2009 میں گوجرہ، 2014 میں جوزف کالونی، 2021 میں سیالکوٹ، 2024 میں سرگودھا اور 2025 میں چنیوٹ میں بھی مذہبی اقلیتوں پر اس نوعیت کے حملے ہو چکے ہیں۔
اگرچہ ان واقعات کے حالات مختلف ہیں اور ان کو ایک جیسا نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ تاہم اس سے یہ بات عیاں ہے کہ توہین مذہب سے جڑے الزامات کے نام پر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے واقعات تواتر سے جاری ہیں۔
سانحہ جڑانوالہ کے بعد وفاقی اور صوبائی حکام نے مذہبی رواداری کو بڑھانے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی حکومت نے 2025 میں مذہبی رواداری کی حکمت عملی بنائی۔ اس کے بیان کردہ مقاصد میں مذہبی رواداری کو فروغ دینا، نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام، قانونی ڈھانچہ کو مضبوط بنانا، مذہبی بنیادوں پر تشدد کی نگرانی اور رپورٹنگ کو بہتر بنانا، اور مذہبی برادریوں کے درمیان بات چیت اور تعاون کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہیں۔
پنجاب حکومت نے حملوں کے بعد جڑانوالہ اور دیگر اضلاع میں محکمہ پولیس کے اندر میثاق سینٹرز بھی قائم کیے تھے۔
اگست 2024 میں پنجاب حکومت نے انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے، انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے سفارشات تیار کرنے اور متعلقہ محکموں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ایک صوبائی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی تھی۔
مارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے اقلیتوں کے تحفظات کو دور کرنے، مذہبی رواداری کو فروغ دینے، قانونی طریقہ کار کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور اقلیتی برادریوں کے لیے تعلیمی، روزگار، سماجی، اقتصادی اور سیاسی مواقع کو بڑھانے کے لیے 38 رکنی اقلیتی مشاورتی کونسل قائم کی ہے۔
تاہم یہ اقدامات ادارہ جاتی ڈھانچے فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے حکومت جڑانوالہ کی طرف سے سامنے آنے والی کچھ کمزوریوں کو دور کر سکتی ہے لیکن ان کا وجود بذات خود اس بات کا تعین نہیں کرتا کہ وہ کتنے مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں یا انہوں نے مستقبل میں تشدد کے خطرے کو کم کیا ہے۔
مذہب یا عقیدے کی آزادی سے متعلق جولائی 2025 میں ہونے والے ایک قومی مشاورتی اجلاس کے شرکا نے بھی عملی اقدامات کے نفاذ میں سست پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس مشاورتی اجلاس کے شرکاء میں ماہرین تعلیم، محققین، صحافیوں، ٹریڈ یونین لیڈرز، مذہبی برادریوں اور اقلیتی گروپوں کے نمائندے، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکن، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے موجودہ و سابق اراکین شامل تھے۔
شرکاء نے ریاست پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو مضبوط بنائے اور مساوی شہریت پر مبنی قومی بیانیہ کو فروغ دے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئینی ضمانتیں اور پالیسی کے اعلانات کو شہریوں کے روزمرہ کے تجربات میں جھلکنا چاہیے۔ ایک اقلیتی خاندان کو تحفظ حاصل کرنے، جرم کی اطلاع دینے یا قانونی چارہ جوئی کے لیے بااثر لوگوں کی خیر خواہی یا مقامی حکام کی رضامندی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
ان پالیسیوں کا امتحان ان کے نفاذ میں مضمر ہے جیسا کہ آیا پولیس ابتدائی انتباہات کا جواب دیتی ہے، کیا اشتعال انگیزی کے الزامات کی منصفانہ تفتیش کی جاتی ہے، کیا متاثرین خطرات کی بحفاظت اطلاع دے سکتے ہیں اور کیا نظام انصاف مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بناتا ہے۔

ابتدائی انتباہ کے نظام کی تشکیل
متاثرین کے اعتماد کو بحال کرنے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی بروقت روک تھام کے لئے سول سوسائٹی ایسا نظام بنانے کے لئے کام کر رہی ہے جس کا مقصد تناؤ بڑھنے سے پہلے اس کی شناخت اور اسے کم کرنا ہے۔
اس سلسلے میں ایسوسی ایشن فار وومن اووئیرنس اینڈ موٹیویشن (AWAM) نے جولائی 2025 میں مینارٹی رائٹس ڈیفنڈر فورم (MRDF) کے نام سے کمیونٹی پر مبنی ابتدائی وارننگ سسٹم تشکیل دیا ہے۔ عوام کے ڈائریکٹر پروگرام نسیم انتھونی کے مطابق یہ فورم تعلیمی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، مذہبی اور سیاسی قیادت، پریس کلب کے اراکین، بار ایسوسی ایشنز اور مقامی کمیونٹیز کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔
اس کے کام میں حقائق کی تلاش، دستاویزات اور مذہبی حساسیت کے حالات میں بروقت مداخلت شامل ہے۔ اس کے لئے ممبران کو آئینی حقوق، انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات اور معلومات کے حق کے بارے میں تربیت فراہم کی گئی ہے۔ اس کا مقصد خطرات کی نشاندہی کرنا اور متعلقہ اداروں سے بروقت رابطہ کاری ہے تاکہ کسی قسم کی مذہبی کشیدگی کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
اس فورم کا نقطہ نظر اس بات کو تسلیم کرنے پر مبنی ہے کہ الزامات کے پھیلنے، افواہیں گردش کرنے اور ہجوم جمع ہونے کے بعد مقامی تناؤ پر قابو پانا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔ کمیونٹی کے نمائندے جو معلومات کی تصدیق کر سکتے ہیں وہ متعلقہ حکام کو بروقت آگاہ کرکے کسی مقامی تنازعہ کو مذہبی برادریوں کے درمیان تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
نسیم انتھونی کے مطابق یہ فورم اپنی تشکیل سے اب تک متعدد واقعات میں مداخلت کرکے قانونی و ذاتی تنازعات کو مذہبی کشیدگی یا فسادات میں تبدیل ہونے سے روک چکا ہے۔
اس فورم نے معیاری فیکٹ فائنڈنگ اور رپورٹنگ پروٹوکول بھی تیار کیا ہے اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر اداروں کے ساتھ بھی روابط قائم کیے ہیں۔
علاوہ ازیں فورم کے اراکین نے سول رجسٹریشن میں رکاوٹوں کا سامنا کرنے والے اقلیتی باشندوں کو بھی مدد فراہم کرنے کے علاوہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں غیر مسلم طلباء کے لیے مذہبی تعلیم کے بارے میں وکالت کی بھی حمایت کی ہے جس کی بدولت ڈائیلاگ، تنوع اور پرامن بقائے باہمی کے عنوان سے دو کریڈٹ ہارز کا کورس متعارف کروایا گیا۔
اسی طرح بین المذاہب ہم آہنگی، شادی اور مسیحی برادریوں کے لیے اہم واقعات کی رجسٹریشن کے طریقہ کار، حکومتی رابطہ کاری کے ڈھانچے میں اقلیتوں کی نمائندگی اور اقلیتی ملازمت کے کوٹے اور متعلقہ تحفظات کے ازالے کے لئے بھی کام کیا گیا۔
یہ اقدامات کچھ ادارہ جاتی حالات کو حل کرتے ہیں جو اقلیتوں کے خطرے میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ تاہم یہ فورم پولیس کی تفتیش، استغاثہ یا عدالتوں کی جگہ نہیں لے سکتا ہے۔ اور نہ ہی یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ تشدد کبھی نہیں ہو گا۔ اس کی صلاحیت معلومات، ثالثی اور حوالہ دینے کے لیے عملی چینلز بنانے میں مضمر ہے اس سے پہلے کہ کوئی تنازعہ وسیع تر تصادم میں بدل جائے۔
سانحہ جڑانوالہ کا تجربہ بتاتا ہے کہ روک تھام اور انصاف مسابقتی اہداف کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ابتدائی مداخلت تشدد کے شروع ہونے سے پہلے اسے روکنے میں مدد کر سکتی ہے۔ معتبر تحقیقات اور منصفانہ ٹرائلز یہ ظاہر کرنے میں مدد کر سکتے ہیں کہ ذمہ داروں کو سزا نہیں ملے گی۔

مساوی شہریت کا چیلنج
جڑانوالہ کے مسیحی باشندوں کے لیے اگست 2023 کے پرتشدد واقعات عمارتوں اور املاک کے نقصان سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں۔ اس سانحے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح توہین مذہب کا الزام مذہبی اقلیتوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ خاص طور پر جب تحفظ فراہم کرنے کے ذمہ دار محکمے اور نظام انصاف ذمہ داروں کو سزائیں دینے میں ناکام رہیں تو مذہبی اقلیتوں کے لئے بطور برابر کے شہری کی حیثیت محض زبانی دعووں تک محدود رہ جاتی ہے۔
شکیل بھٹی، عارف مسیح، دانیال اور پادری مختار کے بیانات اس مسلسل غیر یقینی صورتحال کی مختلف جہتوں کو بیان کرتے ہیں جن میں عدالت کا بار بار سفر، سمجھوتہ کرنے کا دباؤ، مبینہ دھمکیاں، کاروبار کا نقصان اور سماجی تنہائی کا خوف شامل ہے۔
ان کے تجربات عدالتی نتائج کا متبادل نہیں ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات کا مناسب قانونی عمل کے ذریعے جائزہ لیا جانا چاہیے لیکن وہ ایسے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہیں حکام صرف تعمیر نو کے اعداد و شمار کے ذریعے حل نہیں کر سکتے ہیں۔
ایک مکمل ردعمل کے لیے قابل اعتماد تحقیقات کا نظام، منصفانہ اور بروقت ٹرائلز، دھمکیوں سے تحفظ، معاوضے کی ادائیگی کے شفاف طریقہ کار اور ایسے ہی واقعات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔
ریاست کا اصل چیلنج یہ تسلیم کرنا ہے کہ مساوی شہریت کے لیے رسمی وعدوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو اس خوف کے بغیر زندہ رہنے، عبادت کرنے، کام کرنے اور عوامی زندگی میں حصہ لینے کے قابل ہونا چاہیے کہ ایک شخص کے خلاف الزام پر پوری کمیونٹی کو مجرم نہیں ٹھہرایا جائے گا۔
سانحہ جڑانوالہ کے تین سال بعد سوال اب محض یہ نہیں ہے کہ کیا ریاست نے مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے بلکہ یہ ہے کہ کیا ان اقدامات نے ان لوگوں کا اعتماد بحال کیا ہے۔
وسیع تر تناظر میں سانحہ جڑانوالہ کا سبق یہ ہے کہ گرجا گھروں کی تعمیر نو اور بعض متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی مسیحی برادری کے احساس تحفظ کو بحال کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ معاوضہ احتساب کی جگہ نہیں لے سکتا اور پالیسی لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتی جب تک کہ اس پر عمل درآمد نہ ہو۔