ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کے لئے بجٹ 27-2026 میں کاروباری لاگت میں کمی لانے کا مطالبہ

فیصل آباد: وفاقی حکومت ٹیکسٹائل کے شعبے کی پائیدار ترقی کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لئے بجٹ 27-2026 میں کاروباری لاگت کو کم کرنے کے لئے صنعت دوست اقدامات کا اعلان کرے۔ صنعتی صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں کو اگلے پانچ سالوں کے لیے منجمد کیا جائے۔ یہ مطالبات پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نارتھ زون کے سینئر وائس چیئرمین احمد افضل اعوان نے کئے ہیں۔ وہ پی ایچ ایم اے کے گروپ لیڈر چوہدری سلامت علی، فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نوید گلزار و دیگر صنعتی تنظیموں کے رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو توانائی کے زیادہ ٹیرف، بھاری ٹیکسوں، مہنگی فنانسنگ اور ریفنڈز میں تاخیر کی وجہ سے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت کو بحال کرنے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برآمدی شعبے کے لیے بجلی کے نرخ 9 سینٹ فی کلو واٹ گھنٹے اور آر ایل این جی کی قیمتیں 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی جائیں۔ پی ایچ ایم اے کے گروپ لیڈر چوہدری سلامت علی نے کہا کہ بجلی کے نرخ صرف صنعتوں ہی نہیں بلکہ عام صارفین کیلئے بھی کم کیے جائیں کیونکہ مہنگے بجلی کے بلوں نے عوام اور کاروباری طبقے دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی بجلی گھروں کے بند یونٹس کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے بجلی مزید مہنگی ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں بجلی کی قیمتوں میں واضح کمی کی جائے تاکہ عوام اور صنعت دونوں کو ریلیف مل سکے۔ دیگر رہنماوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ریبیٹس اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی مد میں تقریباً 327 ارب روپے کے ریفنڈز تاحال واجب الادا ہیں، جس کے باعث برآمد کنندگان شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کا ورکنگ کیپیٹل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام زیر التواء ریفنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ صنعتی و برآمدی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے لیے موجودہ نارمل ٹیکس رجیم (این ٹی آر) کے بجائے فائنل/فکسڈ ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کا نظام بحال کیا جائے کیونکہ موجودہ ٹیکس نظام نے برآمد کنندگان پر مالی اور انتظامی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے برآمدات پر سپر ٹیکس کے خاتمے اور ڈیوٹی ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) اسکیم کو جاری رکھنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ برآمدات میں اضافے اور مینوفیکچررز کے لیے لیکویڈیٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود کو دس فیصد سے نیچے لانے کی ضرورت ہے کیونکہ 11.5 فیصد کی موجودہ شرح سود کاروبار اور سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پریس کانفرنس کے شرکاء نے برآمدات پر مبنی شعبوں پر سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ بحال کرنے پر بھی زور دیا اور اسے برآمدی مسابقت کو بڑھانے اور ورکنگ کیپیٹل کی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع پانچ سالہ ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کرے۔ انہوں نے سیلز ٹیکس ریفنڈز، کسٹم ریبیٹس، انکم ٹیکس ریفنڈز، اور ڈی ایل ٹی ایل کی فوری ادائیگیوں کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے تاخیر برآمد کنندگان کے لیے سرمائے کی قلت کے سنگین مسائل کا باعث بن رہی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں